وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں مجبوری میں ایمرجنسی لگانی پڑی، خاموش تماشائی بن کر تباہی نہیں دیکھ سکتے تھے۔
گوجرانوالا میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی ترقی اور خوش حالی کیلئے حاضر ہیں۔
انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں مجبوری میں ایمرجنسی لگانی پڑی، آئے روز دھمکیاں اور لانگ مارچ کیے جارہے تھے، دھرنوں سے پورے ملک کا نظام مفلوج ہوتا ہے، سہیل آفریدی کوکہا تھا صوبےکو جو وسائل چاہئیں فراہم کریں گے، خاموش تماشائی بن کر تباہی نہیں دیکھ سکتے تھے، اگر ایسا کرتے تو مجرمانہ غفلت ہوتی اور آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہ کرتیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ کو کہا دہشت گردی کے خلاف مل کر چلیں، جواب میں لانگ مارچ کی دھمکیاں مل رہی تھیں، اس بار انہوں نے خون ریزی کا منصوبہ بنایا تھا، پی ٹی آئی کی ماضی کی تاریخ بھیانک ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دی ہیں، افغانستان سے 2018 کے بعد سے دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خلیجی جنگ کے اثرات پورے خطے پر ہیں ، وزیر اعظم مذاکراتی کمیٹی نے دن رات بیٹھ کر کوششیں کیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا جس کی پارلیمنٹ نے توثیق کردی ہے۔