معاشی نمو، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید کے درمیان گہری ہوتی خلیج کو مدنظر رکھیں تو پاکستان کی معیشت کا سب سے اہم سوال اب محض یہ نہیں رہا کہ قومی پیداوار میں کتنا اضافہ ہوا، زرمبادلہ کے ذخائر کس سطح پر پہنچے یا مالیاتی خسارہ کس قدر محدود ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ معاشی سرگرمیوں کے ان تمام اشاریوں کا عام آدمی کی زندگی سے کیا تعلق ہے؟ اگر قومی معیشت کے اعدادوشمار میں بہتری کے دعوے کیے جائیں، لیکن گھر کے دسترخوان پر اشیائے خورونوش کی مقدار گھٹتی جائے، علاج استطاعت سے باہر ہو، بچوں کی تعلیم گھریلو بجٹ پر ناقابل برداشت بوجھ بن جائے اور محنت کرنے والا انسان بھی بنیادی ضروریات پوری نہ کرسکے تو معاشی پیش رفت کی معنویت لازماً زیر بحث آئے گی۔ قومی خوش حالی کا حقیقی پیمانہ محض مجموعی پیداوار نہیں، بلکہ اس پیداوار سے حاصل ہونے والے ثمرات کی معاشرے میں منصفانہ تقسیم بھی ہے۔
عالمی بینک کے اکتوبر 2026 کے علاقائی اقتصادی جائزے نے پاکستان کی معاشی صورت حال کے اسی تشویش ناک پہلو کو نمایاں کیا ہے۔ ادارے کے مطابق یومیہ 3 امریکی ڈالر کی بین الاقوامی غربت کی حد کے تحت پاکستان میں غربت کی شرح مالی سال 2018 اور 2019 سے 2024 اور 2025 کے دوران 6 اعشاریہ 4 فیصدی پوائنٹس بڑھی۔ دوسری جانب عالمی بینک کے غربت و نابرابری کے برقی اشاریوں میں 2024 کے لیے یہ شرح تقریباً 23 فیصد درج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غربت کے مسئلے کو محض کسی ایک بجٹ، ایک حکومت یا ایک وقتی بحران کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ یہ ایک ایسا معاشی و سماجی مسئلہ ہے جس کی جڑیں آمدنی، روزگار، قیمتوں اور وسائل کی تقسیم میں پیوست ہیں۔
رپورٹ کا ایک اور پہلو اعدادوشمار سے آگے بڑھ کر معاشی ساخت کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل علاقائی گروہ، جسے انگریزی میں میناپ کہا جاتا ہے، کے یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدنی رکھنے والے افراد میں پاکستان کا حصہ تقریباً 48 فیصد ہے۔ یہاں ایک بنیادی وضاحت ضروری ہے۔ یہ تناسب جنوبی ایشیا کے بجائے عالمی بینک کی مذکورہ علاقائی درجہ بندی سے متعلق ہے۔ اس درجہ بندی میں پاکستان کی شمولیت ایک انتظامی و شماریاتی تبدیلی ہے۔ اس سے پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع تبدیل نہیں ہوتا، البتہ علاقائی مجموعوں اور تقابلی اشاریوں کی تعبیر ضرور متاثر ہوتی ہے۔ چنانچہ اس عدد کو سنسنی خیز دعوے کے بجائے درست جغرافیائی و شماریاتی سیاق میں سمجھنا چاہیے۔
پاکستان میں غربت کے پھیلاؤ کی وجوہات کسی ایک عامل تک محدود نہیں۔ عالمی وبا نے روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا، 2022 کے تباہ کن سیلاب نے لاکھوں لوگوں کے معاشی اثاثوں، رہائش اور ذریعہ معاش کو نقصان پہنچایا، جبکہ مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور معاشی استحکام کے لیے اختیار کردہ طویل اقدامات نے گھریلو آمدنی کی حقیقی قوت کو کمزور کیا۔ ان عوامل کا مجموعی اثر یہ ہوا کہ بہت سے خاندانوں کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان توازن بگڑ گیا۔ کم آمدنی والے طبقے کے لیے قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی محض ایک عددی تبدیلی نہیں ہوتا۔ وہ دودھ، گوشت، پھل، علاج یا تعلیم میں سے کسی ایک ضرورت کو مؤخر کرنے یا ترک کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔
غربت کی پیمائش کے سلسلے میں ایک علمی احتیاط بھی ضروری ہے۔ یومیہ 3 ڈالر کی حد موجودہ شرح مبادلہ سے پاکستانی روپے میں تبدیل کرکے کسی شخص کی حقیقی قوت خرید کا مکمل تعین نہیں کرتی۔ عالمی بینک کی موجودہ بین الاقوامی غربت کی لکیر 2021 کی قوت خرید کی برابری، یعنی پی پی پی، کی بنیاد پر مقرر ہے۔ اس لیے اسے محض روزانہ 840 روپے کمانے والوں کی تعداد سمجھنا درست نہیں، خواہ موجودہ شرح مبادلہ کے حساب سے 3 ڈالر کی مالیت اس کے قریب کیوں نہ ہو۔ بین الاقوامی غربت کی لکیر مختلف ملکوں میں قیمتوں کے فرق کو ملحوظ رکھ کر تقابل میں مدد دیتی ہے، جبکہ پاکستان کی قومی غربت کی لکیر الگ طریقۂ پیمائش اور الگ اعدادوشمار رکھتی ہے۔
اس امتیاز کے باوجود بنیادی حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے۔ غربت کے خلاف پائیدار پیش رفت کے لیے محض معاشی استحکام کافی نہیں، اس استحکام کو روزگار، حقیقی اجرتوں اور بنیادی خدمات کی بہتری میں منتقل ہونا چاہیے۔ اگر افراط زر کی رفتار کم بھی ہوجائے لیکن قیمتیں پہلے سے بلند سطح پر برقرار رہیں اور آمدنی ان کے مطابق نہ بڑھے تو کم آمدنی والے خاندانوں کی مشکلات فوری طور پر ختم نہیں ہوتیں۔ اسی طرح مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ اس وقت تک محدود سماجی فائدہ رکھتا ہے جب تک اس کے ثمرات پیداواری شعبوں، چھوٹے کاروباروں، زرعی معیشت اور محنت کش طبقے تک نہ پہنچیں۔
اس صورت حال میں ریاست کی ذمہ داری محض امدادی رقوم کی تقسیم تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ مستحق خاندانوں کے لیے ہدفی مالی معاونت، غذائی تحفظ، معیاری سرکاری تعلیم، قابل رسائی علاج اور ہنرمندی پر مبنی روزگار ایک مربوط حکمت عملی کے اجزا ہیں۔ سماجی تحفظ کے پروگراموں میں شفاف اہلیت، مستحقین کی درست شناخت اور نتائج کی باقاعدہ جانچ ضروری ہے تاکہ محدود قومی وسائل ان افراد تک پہنچیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ دوسری طرف چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے سازگار ماحول، صنعتی پیداوار میں اضافہ، زرعی پیداواریت کی بہتری اور نوجوانوں کی فنی تربیت ایسے راستے ہیں جن کے ذریعے امداد پر مستقل انحصار کم اور خود کفالت کے مواقع زیادہ کیے جاسکتے ہیں۔
معاشی پالیسی کی کامیابی کا امتحان اس وقت ہوگا جب قومی ترقی کے اعدادوشمار عام شہری کی زندگی میں قابل محسوس تبدیلی پیدا کریں گے۔ غربت محض خالی جیب کا نام نہیں، یہ امکانات کی تنگی، صلاحیتوں کے عدم استعمال اور انسانی وقار کے محدود ہوجانے کا نام بھی ہے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ معاشی نظم و ضبط اور سماجی انصاف کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کا معاون بنایا جائے۔ قومی خوش حالی کا سفر اسی وقت بامعنی ہوگا جب ترقی کے ثمرات چند معاشی مراکز تک محدود رہنے کے بجائے معاشرے کے کمزور ترین طبقے تک پہنچیں۔ بصورت دیگر معاشی نمو کے بلند ہوتے اشاریے اور عوام کی گرتی ہوئی قوت خرید ایک ایسی خلیج کو وسیع کرتے رہیں گے جسے محض اعداد و شمار کی آرائش سے پاٹا نہیں جاسکتا۔