وزیراعظم نے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دے دیا

وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں ایبٹ آباد واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دے دیا۔

وزیراعظم کے بیان پراپوزیشن نے شدید تنقید کی ہے۔ ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ جو شخص ہماری سرزمین پر دہشتگردی لایا وزیراعظم نے اُسے شہید کہا، وہ اول و آخر دہشتگرد ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ اسامہ بن لادن کو شہید قرار دے کر عمران خان قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں ۔

اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گِل نے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم نے تقریر میں اسامہ بن لادن کےلیے دو دفعہ ہلاک کا لفظ استعمال کیا، کچھ لوگ اپنے مقاصد کےلیے غیر ضروری طور پر بیان کو متنازع بنا رہے ہیں۔

شہباز گل نے کہا کہ وزیر اعظم اور پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف عزم غیر متزلزل ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلیے پاکستان کاٹریک ریکارڈ دنیامیں سب سے بہتر ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم کا قومی اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ‘پاکستان کی تاریخ میں شرمساری کے دو واقعات ہوئے ،امریکا نے ایبٹ آباد میں آکر اسامہ بن لادن کو شہید کردیا،اس واقعے کی وجہ سے دنیا بھر میں لعن طعن ہوئی،دوسری شرمندگی پاکستان میں ڈرون حملے تھے،ہمارا اتحادی پاکستان میں اسامہ کو مارتا بھی ہے اور ہم پرتنقید بھی کرتاہے’۔

[pullquote]وزیراعظم نے مغلیہ دور کی تاریخ غلط بیان کی، ہاؤس کو ان پڑھ نہ سمجھیں، خواجہ آصف[/pullquote]

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے بھی وزیراعظم کو مناظرے کا چیلنج دیا اور کہا کہ وزیراعظم کا ایوان میں لہجہ معذرت خواہانہ تھا، وزیر اعظم خود کورونا ہیں جو اس ملک سے چمٹ گیا ہے۔

خواجہ آصف کا قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے تقریر میں تاریخ پر جو لیکچر دیا اس کی تصحیح ضروری ہے، مغلیہ دور کی تاریخ انہوں نے غلط بیان کی، ہاؤس کو ان پڑھ نہ سمجھیں ، بھاشن اپنی جماعت کو دیں ، وزیر اعظم نے اعداوشمار بتائے کیا وہ ان کو کنٹینر پر یاد نہیں تھے، وزیر اعظم کی تقریر فرمائشی تھی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ان کا ایک بچپن کادوست ہے، اسے انہوں نے بتایا جہانگیر ترین اور مجھ میں سے ایک ہی نا اہل ہوگا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے اسامہ بن لادن کو شہید کہا ہے، اسامہ بن لادن دنیا میں دہشت گردی لے کر آیا تھا، اسامہ بن لادن اول و آخر دہشت گرد تھا، وزیراعظم نے اس دہشت گرد کو شہید ڈکلیئر کیا۔

انہوں نے کہا کہ دو سال ہو گئے ملکی تاریخی میں کوئی وزیراعظم اتنا کم ایوان میں نہیں آیا جتنا عمران خان آئے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اب ہم نے کورونا برآمد کرنا شروع کر دیا ہے، آسٹریلیا کہہ رہاہے ہمارے ہاں پاکستان سے کورونا آیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا لہجہ آج معذرت خواہانہ اورمنت سماجت والا تھا، یہ جو مرضی کر لیں، قوم پر اترنے والا عذاب ختم کرنا ہے تو ان سے جان چھڑانا ہو گی، بھارت کو سیکیورٹی کونسل میں مسلمان ممالک نے ووٹ دیے، وزیر اعظم صاحب، اب پانی سر سے گزر چکا ہے، دو سال میں اپوزیشن کے تعاون کرنے کی کوئی کنجائش نہیں چھوڑی گئی، یہ سیاست چھوٹے شہروں کے قصبوں میں ہوتی ہے جو وزیر عظم نے دو سالوں میں کی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ وزیر اعظم خود کورونا ہے جو اس ملک سے چمٹ گیا ہے، وزیر اعظم جب قوم سے وعدے کر رہے تھے تو ان کو اعداو شمار چیک کرنے چاہئیں تھے، اگر اتنی بری صورت حال تھی تو وعدے نہ کرتے، خدا کا واسطہ وزیر اعظم یہاں آکر تاریخ اور جغرافیہ پر لیکچر نہ دیا کریں، جو وزیر اعظم نے کہا اس کا حقیقت سےکوئی تعلق نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے