خیبر پختونخوا میں کورونا سے متاثرہ افراد کے ٹیسٹ کم ہونے لگے تو کیسز کی تعداد بھی کئی گنا گھٹ گئی ، اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں ٹیسٹوں کی روزانہ استعداد 3800 تک ہے، لیکن جولائی کے پہلے گیارہ دنوں میں روانہ صرف دو ہزار ٹیسٹ کئے گئے ، جس کی وجہ سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بھی کم ہوگئی اور جولائی کے اعداد و شمار کے مطابق روزانہ 285 متاثرہ افراد سامنے آنے لگے ، کورونا کے باعث جولائی میں روزانہ اوسطاً 10اموات ریکارڈ ہوئی ہیں اور 600سے زائد افراد صحت یاب ہورہے ہیں، خیبر پختونخوا میں اب تک 1لاکھ 75ہزار 174افراد کے ٹیسٹ کئے گئے صرف جولائی میں 22ہزار 471ٹیسٹ کئے گئے ۔
[pullquote]خیبر پختونخوا میں اپریل ، مئی اور جون کے مہینے میں کورونا کے اعداد و شمار کیا ہیں۔۔۔؟؟؟؟[/pullquote]
جون کے مہینے میں خیبر پختونخوا میں کورونا کے باعث روزانہ اوسطاً 15افراد جاں بحق ہوئے ،تاہم اس مہینے کے دوران 85ہزار 898افراد کے کورونا ٹیسٹ کئے گئے ،جون میں روزانہ 2ہزار 864افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، پورے مہینے کے دوران 225افراد جاں بحق ہوئے اور روزانہ 106افراد صحت یاب ہوئے مئی کے مہینے کے اعداد و شمار جون کے مہینے سے کافی مختلف ہیں ،مئی کے مہینے میں روزانہ 1ہزار 371افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، کورونا کے باعث روزانہ اوسطاً 10افراد کی موت واقع ہوئی، روزانہ 202متاثرہ افراد سامنے آئے ،تاہم صحت یابی کی شرح کافی کم تھی اور روزانہ اوسطاً 63افراد صحت یاب ہوئے، ماہ اپریل میں حکومت کورونا کی روک تھام کے متعلق انتہائی سنجیدہ تھی، لاک ڈاﺅن پر مکمل طور پر عملدرآمد کیا گیا ،خیبر پختونخوا میں روزانہ اپریل کے مہینے میں 550افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، 4افراد کی اوسطاً موت واقع ہوئی، روزانہ اوسطاً 74افراد کورونا سے متاثر ہوئے اور 20افراد روزانہ صحت یاب ہوئے ۔
[pullquote]خیبر پختونخوا کے مجموعی اعداد و شمار کیا ہے۔۔؟؟؟[/pullquote]
خیبر پختونخوا میں کورونا کا پہلا متاثرہ مریض 15مارچ کو سامنے آیا ، 17مارچ کو 2اموات ریکارڈ کی گئیں ،خیبر پختونخوا میں اب تک روزانہ کورونا سے 10افراد جاں بحق ہوئے ہیں ،روزانہ 1500افراد کے ٹیسٹ کئے گئے اور اب تک روزانہ 255افراد کورونا سے متاثر ہوئے، خیبر پختونخوا کے پشاور اور ملاکنڈ ڈویژن میں پورے صوبے کے 60فیصد کے سے زائد کیسز اور اموات ریکارڈ کی گئی پشاور اور سوات کے ضلع میں سب سے زیادہ اموات واقع ہوئی ہیں ۔
[pullquote]کورونا ٹیسٹوں کا مسئلہ کیا ہے ۔۔۔؟؟؟[/pullquote]
اس وقت خیبر پختونخوا میں روزانہ 3ہزار 800کورونا ٹیسٹوں کی استعداد موجود ہے،لیکن حکومت روزانہ 2ہزار تک ٹیسٹ کررہی ہے، جس کے باعث کورونا کیسز میں 40فیصد کمی واقع ہوئی ہے ،محکمہ صحت کے اعلیٰ اہلکار کے مطابق عوام کی طرف سے اب بھی کورونا ٹیسٹ کو برا سمجھا جاتا ہے ،اس لئے بیشتر افراد ٹیسٹ کرنے سے کتراتے ہیں ،اسی طرح ضلعی سطح پر جو ٹیسٹ جمع کئے جاتے ہیں، وہ بروقت لیبارٹری نہیں بھیجے جاتے ،اس لئے ٹیسٹوں کی تعداد میں بہت زیادہ کمی واقع ہوئی ہے، تاہم محکمہ صحت کے ایک دوسرے اہم عہدے پر فائز اہلکار نے بتایا کہ حکومت خود کورونا ٹیسٹوں کی استعداد کو کم کررہی ہے، اب بھی بیشتر افراد کو کورونا ٹیسٹ کیلئے چار سے پانچ روز تک انتظار کرنا پڑتا ہے، اگر واقعی لوگوں کے ٹیسٹ کرنے میں کمی واقع ہوئی ہے تو پھر ٹیسٹوں کے دورانیہ کو کم ہونا چاہیے ،حکومت کم ٹیسٹ کروا کر لوگوں کو باور کروا رہی ہے کہ کورونا کے مریضوں کی تعداد کم ہوگئی ہے ،انہوں نے بتایا کہ اس وقت اگر بڑے پیمانے پر ٹیسٹوں کا انعقاد کیا جائے تو ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہونگے ،لیکن اس حالت میں عوام میں خوف و ہراس پھیلے گا، ہسپتالوں پر مریضوں کا دباﺅ بڑھے گا، صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے جون کے مہینے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ٹیسٹوں کی استعداد بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں ،لیکن ایک مریض سامنے آئے تو ہمیں اندازاً ہوتا ہے کہ اس علاقے میں دس مریض اور ہیں ۔