پنوعاقل میں بیوی بچوں سمیت گھر کے 11 افراد کو قتل کرنے کا مقدمہ گھر کے سربراہ اور اس کے بیٹوں کے خلاف درج کر لیا گیا جس کے بعد اب انہیں انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیاجائےگا۔
پنو عاقل کے گاؤں محمد حسن انڈھڑ میں پیش آیا تھا جہاں گھرکے سائباں ہی قاتل بن گئے اور اپنے ہی اہلخانہ کے 11 افراد کے گلوں پر چھریاں پھیر دیں۔
قتل کے بعد ملزم فرار ہوکر گھوٹکی میں اپنے دیگر 4 بیٹوں کے پاس پہنچ گیا تھا، اطلاع ملنے پر پولیس نے ملزم اور اس کے چاروں بیٹوں کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کی۔
بعدازاں ملزم وہاب اللہ نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ اس نے زمین کے جھگڑے پر مخالفین پر الزام لگانےکے لیے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر گھر والوں کو قتل کیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کے4 بیٹے بھی قتل میں ملوث ہیں اور انہوں نے بھی اعتراف جرم کرلیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب 5 نامزد ملزمان پر مقتولہ نسیمہ کے بھائی کی مدعیت میں قتل کامقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے بتایا ہے کہ مقدمے میں قتل اور دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔