جمعہ : 09 جولائی 2021 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]ایران سے متصل سرحدی گزرگاہ پر قبضے کا افغان طالبان کا دعوی[/pullquote]

افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے افغانستان اور ایران کے مابین سب سے بڑی سرحدی گزرگاہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے فرانسیسی خبررساں ادرے اے ایف پی کو آج بروز جمعہ بتایا کہ اسلام قلعہ کی بندرگاہ ان کے مکمل کنٹرول میں ہے اور اسے بہت جلد دوبارہ عمل میں لانے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم افغان حکومت کی طرف سے اس دعوے کے بارے میں ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی آزاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اسلام قلعہ افغانستان کی اہم ترین بندرگاہ ہے۔ کابل اور تہران کے درمیان یہاں سے ہی زیادہ تر سرکاری تجارت کی جاتی ہے۔ طالبان نے اس سے قبل تاجکستان سے جڑی سرحدی گزرگاہ شیر خان بندر پر قبضہ کرلیا تھا۔

[pullquote]بنگلہ دیش میں فیکٹری میں آتشزدگی، کم از کم 52 افراد ہلاک[/pullquote]

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں واقع مشروبات اور کھانے کی اشیا تیار کرنے والی ایک فیکٹری میں آتشزدگی کی وجہ سے کم از کم 52 افراد کی موت ہوگئی ہے۔ پولیس کے مطابق اس حادثے میں تقریباﹰ تیس افراد زخمی ہوگئے، جو اپنی جان بچانے کی خاطر عمارت کی بالائی منزلوں کی کھڑکیوں سے باہر کودنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ ڈھاکہ کے صنعتی علاقے روپگنج میں واقع اس فیکٹری کی چھ منزلہ عمارت میں جمعرات آٹھ جولائی کو آگ بھڑک گئی تھی۔ ریسکیو عملے کے مطابق عمارت کی چھٹی منزل پر پلاسٹک اور آتش گیر کیمیکلز کی وجہ سے آگ بھڑک گئی تھی۔ قبل ازیں مقامی پولیس چیف نے ابتدائی طور پر صرف تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

[pullquote]افغان عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کرنا ہے، بائیڈن[/pullquote]

امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے تیزی سے انخلاء کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیارہ ستمبر 2001 ء کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے اہداف حاصل کرچکا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صدر بائیڈن نے کہا کہ افغان عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں خود ہی فیصلہ کرنا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس بات کا انتہائی کم امکان ہے کہ افغان حکومت پورے ملک پر مکمل کنٹرول حاصل کرسکے۔ امریکی فورسز پہلے ہی افغانستان میں اپنا سب سے اہم فوجی اڈہ ’بگرام ایئر بیس‘ چھوڑ چکی ہیں۔ آئندہ ماہ اگست کے اواخر تک افغانستان میں امریکا کا مشن اختتام پذیر ہوجائے گا۔

[pullquote]ہیٹی کے صدر کے قتل کی تحقیقات کے دوران بیشتر مشتبہ افراد گرفتار[/pullquote]

ہیٹی کے صدر جوینل موئز کے قتل کے دو روز بعد کئی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ حکام کے مطابق تفتیش کے دوران چھبیس کولمبیئن شہری، اور ہیٹی کے دو امریکی نژاد شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس ترجمان نے بتایا ہے کہ ان میں سے پندرہ کولمبیئن اور دو امریکی شہری صدر کے قتل میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ اس کیریبک ملک کی حکومت کے مطابق قتل کے مبینہ ذمہ داران کے بارے میں کولمبیئن فوج کے ایک سابق اہلکار نے اطلاعات فراہم کی ہیں۔ اس کے علاوہ تین کولمبیئن باشندے ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ آٹھ ابھی تک فرار ہیں۔ پولیس نے تاہم پہلے کم از کم چار ہلاکتوں کا بتایا تھا۔

[pullquote]فائزر – بائیو این ٹیک کورونا ویکسین کی تیسری خوراک کی منظوری کی خواہشمند[/pullquote]

کووڈ انیس کے خلاف اولین ویکسین تیار کرنے والی دوا ساز کمپنیاں فائزر اور بائیو این ٹیک اب کورونا ویکسین کی تیسری خوراک کی منظوری کے لیے درخواست دینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اس حوالے سے یہ کمپنیاں آئندہ چند ہفتوں میں امریکی، یورپی اور ادویات کے دیگر ریگولیٹری اداروں کو ڈیٹا فراہم کریں گی۔ کووڈ ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوانے کے چھ سے بارہ مہینوں کے بعد تیسری ویکسین لگوانے کی ضرورت پڑسکتی ہے کیونکہ پہلی دو ویکسین لگوانے کے کچھ عرصے بعد دوا کا اثر کم ہونا شروع ہوسکتا ہے۔ فائزر اور بائیو این ٹیک کی یہ نئی ویکسین کورونا کی نئی قسم ڈیلٹا کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہوسکے گی۔

[pullquote]چین جدید جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا ہے، امریکی سفارتکار[/pullquote]

جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ پر مہارت رکھنے والے امریکی سفیر رابرٹ ووڈ کا کہنا ہے کہ چین کی ایٹمی ہتھیاروں کے جدید پروگرام پر نظر ہے جس سے موجودہ، عالمی اسٹریٹیجک استحکام درہم برہم ہو سکتا ہے۔ جنیوا میں امریکی سفیر رابرٹ وؤڈ نے کہا کہ زیر آب ڈرون اور جوہری توانائی سے لیس میزائل جیسے پراسرار جوہری ہتھیار بہت جلد چینی فوج کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ووڈ کے مطابق سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ چین اپنے شمال مغربی شہر یومین کے پاس ایک صحرا میں میزائلوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک سو انیس زیر زمین تنصیبات تعمیر کر رہا ہے۔ انہوں نے اسے تشویش ناک قرار دیا ہے۔ پینٹاگون کے ایک اندازے کے مطابق چین کے پاس پہلے سے ہی دو سو سے زیادہ جوہری ہتھیار موجود ہیں اور آئندہ ایک عشرے کے دوران وہ اس تعداد کو دوگنا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

[pullquote]نائجر کو دہشت گردی کے خلاف مدد فراہم کی جائےگی، جرمنی[/pullquote]

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے نائجر کے صدر محمد بازوم کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ برلن میں صدر بازوم سے ملاقات کے بعد میرکل نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ شمالی افریقی ملک ایسے کئی تنازعات کے شکار علاقوں سے گھرا ہوا ہے جہاں اسلامی عسکریت پسند سرگرم ہیں۔ صدر بازوم نے جرمنی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ نائجر جرمنی کو اپنے اہم ترین پارٹنرز میں سے ایک سمجھتا ہے۔ براعظم افریقہ سے یورپ پہنچنے والے زیادہ تر پناہ گزینوں کے لیے نائجر ایک ٹرانزٹ ملک ہے۔ نائجر جہادیوں کے خلاف جنگ میں افریقہ کے ساحل خطے کے پانچ ملکی اتحاد کا حصہ ہے۔

[pullquote]آکسفیم: غذائی قلت میں 2020ء کے دوران ڈرامائی اضافہ[/pullquote]

دنیا بھر کے کئی خطوں میں سن 2020 کے دوران مختلف وجوہات کے سبب غذائی قلت میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے ۔ برطانوی امدادی تنظیم آکسفیم کے مطابق بھوک کی وجہ سے ہر ایک منٹ کے اندر گیارہ افراد کی اموات ہورہی ہیں۔ سن 2019 کے مقابلے میں گزشتہ برس کے دوران خوراک کی قلت سے دوچار افراد کی تعداد میں تقریبا چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت ایک سو پچپن ملین افراد غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یہ تعداد جرمنی، فرانس اور بیلجیئم کی کل آبادی کے برابر ہے۔ کورونا وبا کے علاوہ جنگی تنازعات اور ماحولیاتی تبدیلی اس بحرانی صورتحال کی ذمہ دار ہیں۔

[pullquote]طالبان کا افغانستان کے پچاسی فیصد حصے پر قبضے کا دعویٰ[/pullquote]

افغان طالبان کے مطابق انہوں نے افغانستان کے پچاسی فیصد علاقوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ ماسکو میں پریس کانفرس کے دوران افغان مذاکرات کار شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ افغانستان کے 398 اضلاع میں سے تقریباﹰ 250 پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں تمام انتظامی دفاتر اور ہسپتال معمول کے مطابق فعال رہیں گے۔ طالبان کے اس دعوے کی ابھی تک نہ تو افغان حکومت اور نہ ہی کسی غیرجانبدار ذرائع نے تصدیق کی ہے۔ رواں ہفتے شمالی افغانستان میں عسکریت پسند گروہ کے پرتشدد حملے سے بچ کر ایک ہزار سے زائد افغان فوجی تاجکستان فرار ہوگئے تھے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے