[pullquote]طالبان کی طرف سے قندوز پر بھی قبضہ کرنے کا دعویٰ[/pullquote]
طالبان نے قندوز پر قبضے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ گزشتہ تین روز کے دوران افغانستان کا یہ تیسرا صوبائی دارالحکومت ہے، جس پر طالبان نے قبضے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ کئی دیگر شہروں میں بھی طالبان اور حکومتی فورسز کے مابین لڑائی جاری ہے۔ افغان حکومت نے ابھی تک قندوز پر طالبان کے قبضے کی تصدیق نہیں کی تاہم فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے طالبان کے دعوے کی تصدیق کی ہے۔ قندوز افغانستان کے شمال میں واقع ہے۔ ٹویٹر پر طالبان کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ انہوں نے بکتر بند گاڑیوں اور اسلحے سمیت بڑی تعداد میں عسکری ساز و سامان پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
[pullquote]اسرائیلی فضائی حملے کا ’مناسب جواب‘ دیا جائے گا، حزب اللہ[/pullquote]
لبنان کی طاقتور تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے مطابق کسی بھی اسرائیلی فضائی حملے کا ’مناسب جواب‘ دیا جائے گا۔ حسن نصراللہ کا یہ بیان گزشتہ جمعرات کو لبنانی سرزمین پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی فضائی حملے کے بعد حزب اللہ نے بھی جوابی راکٹ فائر کیے تھے۔ حسن نصراللہ نے اسرائیلی فضائی حملے کو ایک ’خطرناک پیش رفت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ کے حامی نہیں ہیں۔ لبنانی سرزمین پر اسرائیل کی جانب سے سن دو ہزار چودہ کے بعد پہلی مرتبہ فضائی حملہ کیا گیا تھا۔ علاقے میں تعینات امن فوجیوں نے بھی حالیہ کشیدگی کو ’خطرناک‘ قرار دیا ہے جبکہ امریکا نے لبنان حکومت سے کہا ہے کہ وہ حزب اللہ کو راکٹ فائر کرنے سے باز رکھے۔
[pullquote]سعودی عرب نے عمرے کے لیے سرحدیں کھولنے کا اعلان کر دیا[/pullquote]
سعودی حکومت نے نو اگست سے ایسے افراد کے لیے سرحدیں کھولنے کا اعلان کیا ہے، جو عمرے کی ادائیگی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم ایسے افراد کو ویکسنیشن سرٹیفیکیٹ لازمی طور پر پیش کرنا ہو گا۔ جاری ہونے والے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمرے کے لیے آنے والے زائرین کو سعودی عرب پہنچنے پر حکومت کی نگرانی میں قرنطینہ کے مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ بیرونی ممالک کے ان زائرین ہی کو ملک میں داخلے کی اجازت فراہم کی جائے گی، جنہوں نے سعودی حکومت کی منظور شدہ ویکسین لگوائی ہو گی۔ حج اور عمرے کی مد میں سعودی حکومت کو سالانہ تقریبا 12 ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ مذہبی سیاحت کو سعودی معیشت میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
[pullquote]ایران ویانا میں ابتدائی جوہری مذاکرات کے لیے تیار ہے، یورپی یونین[/pullquote]
یورپی یونین کے مطابق ایران بین الاقوامی جوہری معاہدے کے نئے ورژن پر تیزی سے مذاکرات شروع کرنا چاہتا ہے۔ یورپی یونین کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایران نے ویانا میں ابتدائی جوہری مذاکرات کے لیے مثبت اشارے دیے ہیں۔ جون کے آخر میں معطل ہونے والے مذاکرات ستمبر کے آغاز میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ یورپی یونین کے ذمہ دار نمائندے شپانئراینریک مورا گزشتہ جمعرات کو تہران پہنچے تھے، وہاں انہوں نے نئے صدر ابراہیم رئیسی کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی۔
[pullquote]کورونا ویکسینیشن سرٹیفیکیٹ کے خلاف فرانس میں احتجاجی مظاہرے[/pullquote]
یورپی ملک فرانس میں ویک اینڈ پر ایک مرتبہ پھر ہزاروں افراد نے کورونا ویکسینیشن سرٹیفیکیٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ اس حوالے سے سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ دارالحکومت پیرس میں ہوا لیکن کئی دوسرے بڑے شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے۔ نیس شہر میں کم از کم دس ہزار افراد سڑکوں پر نکلے اور انہوں نے حکومت مخالف نعرے لگائے۔ جمعرات کو فرانسیسی آئینی کونسل نے ہیلتھ سیکٹر کے اہلکاروں کے لیے لازمی ویکسینیشن اور ہیلتھ پاس کی منظوری دی تھی، جس پر منفی کورونا ٹیسٹ اور ویکسین کی معلومات درج کرنا لازمی ہیں۔ فرانس کی طرح کئی دیگر یورپی ممالک بھی تمام شہریوں کے لیے کورونا ویکسینیشن لازمی قرار دینا چاہتے ہیں جب کہ ناقدین اس کے خلاف ہیں۔
[pullquote]یونان اور ترکی میں جنگلاتی آگ پھیلنے کا سلسلہ جاری[/pullquote]
تمام تر کوششوں کے باوجود گزشتہ کئی روز سے یونان اور ترکی میں لگی جنگلاتی آگ پھیلتی جا رہی ہے۔ یونان میں ہزاروں شہریوں اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یونانی وزیراعظم نے رواں موسم گرما کو ایک ’ڈراؤنا خواب‘ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ترکی میں کئی مقامات پر اب بھی جنگلاتی آگ لگی ہوئی ہے لیکن حالیہ تیز بارشوں کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو آگ بجھانے میں مدد مل رہی ہے۔ گزشتہ دس روز سے لگی آگ کی وجہ سے ترکی میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جنگلوں میں آگ لگنے کے ان واقعات کو موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
[pullquote]ارجنٹائن میں ہزاروں افراد کا غربت اور مہنگائی کے خلاف احتجاج[/pullquote]
لاطینی امریکی ملک ارجنٹائن میں ہزاروں افراد نے غربت اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ یہ احتجاجی مظاہرے دارالحکومت بیونس آئرس اور دوسرے بڑے شہر قرطبہ میں ہوئے۔ کورونا وائرس کی وبا نے ارجنٹائن کے مسلسل معاشی بحران کو مزید شدید کر دیا ہے۔ اس ملک میں 42 فیصد آبادی 2020ء کی دوسری ششماہی میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور تھی۔ دوسری جانب صدر البرٹو فیرنینڈس نے جمعہ کے روز توقع ظاہر کی ہے کہ 2021 میں تین سال بعد آخرکار پہلی بار ملکی معیشت میں بہتری پیدا ہو گی۔
[pullquote]سینکڑوں مہاجرین کو اطالوی سیسلی جزیرے پر آنے کی اجازت[/pullquote]
بحیرہ روم میں ڈوبنے سے بچائے گئے سینکڑوں مہاجرین کو اٹلی کے جزیرے سیسلی پر اترنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ چند روز قبل سی واچ تھری نامی امدادی تنظیم نے ان مہاجرین کو ریسکیو کیا تھا لیکن ان 257 مہاجرین کو یورپ کی سرزمین پر قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ اسی طرح امدادی بحری جہاز ’اوشیئن وائکنگ‘ چلانے والی تنظیم کو بھی 549 مہاجرین سیسلی کے جنوبی مقام پوسیلو پر اتارنے کی اجازت فراہم کر دی گئی ہے۔ افریقی اور دیگر ممالک کے ہزاروں مہاجرین سمندری راستوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران حادثات کی وجہ سے سینکڑوں افراد راستے میں ہی ہلاک ہو جاتے ہیں۔
بشکریہ ڈی ڈبلیو