400 افراد کی خاتون ٹک ٹاکر سے بدتمیزی، کپڑے پھاڑ ے، ہوا میں اچھالتے رہے
لاہور میں 14 اگست کو گریٹر اقبال پارک میں منچلوں نے ایک خاتون سے بدتمیزی کی،کپڑے پھاڑ ڈالے اور اسے ہوا میں
اچھالتے رہے۔
فوٹیج وائرل ہو نے پر پولیس نے 400 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔
14 اگست جشن آزادی کا دن، لوگوں کی بڑی تعداد گریٹر اقبال پارک میں جمع، ٹک ٹاکر خاتون عائشہ اکرام اپنے دو ساتھیوں عامر سہیل اور صدام حسین کے ساتھ وہاں پہنچیں اور ویڈیوز بنانا شروع کر دیں۔
اچانک منچلوں کے ایک گروہ نے خاتون پر ہلہ بول دیا، کپڑے پھاڑے اور انہیں ہوا میں اچھالتے رہے، خاتون دہائی دیتی رہی جو کسی نے نہ سنی۔
خاتون نے بڑی مشکل سے جان چھڑائی، اس ہنگامہ آرائی کی ویڈیو وائرل ہوئی تو پولیس نے 400 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
مقدمے میں سرعام خاتون کو برہنہ کرنے اور ہنگامہ آرائی کی دفعات شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ویڈیو آئی جی کو بھیجی اور ملزمان کی گرفتار ی سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔
لاہور: خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ پیش آئے واقعے کی نئی ویڈیو سامنے آگئی
لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں سیکڑوں افراد کی بدتمیزی کا نشانہ بننے والی خاتون ٹک ٹاکر کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئی۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہےکہ عائشہ اکرم اور ان کے ساتھی مینار پاکستان پر آرہے ہیں جب کہ عائشہ واقعے سے قبل اپنے ایک ساتھی کے ساتھ ویڈیو بنارہی ہیں۔
اسی اثنا میں کچھ نوجوان ان کے ارد گرد جمع ہوگئے اور ہلڑ بازی شروع کردی جس کے بعد گریٹر اقبال پارک میں خاتون کے ساتھ بدتمیزی کا واقعہ پیش آیا جس میں سیکڑوں افراد نے خاتون کے کپڑے پھاڑ دیے اور انہیں ہوا میں اچھالتے رہے۔
[pullquote]وزیراعظم نے واقعے کا نوٹس لے لیا[/pullquote]
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس پنجاب کو ہدایات جاری کی ہیں۔
وزیراعظم کے سابق معاون ذلفی بخاری نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ وزیراعظم نے ذاتی طور پر آئی جی پنجاب کو اس حوالے سے ہدایات جاری کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا۔