ستمبر 2021 : سوشل میڈیا پر کیا لکھا اور پڑھا گیا؟

ستمبر کے مہینے میں ٹویٹر پر کئی اہم موضوعات زیر بحث رہے، جن موضوعات کا تعلق مذہب یا سوسائٹی سے تھا ہمیشہ کی طرح ٹاپ ٹرینڈز میں رہے ۔ ستمبر میں افغانستان میں طالبان کی حکومت ، سابق گورنرسندھ محمد زبیر اور محمود خان اچکزئی کی مبینہ ویڈیو ٹیب ، معروف مزاحیہ فنکار عمر شریف کی بیماری اور بعد میں وفات ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی علالت اور بعد میں وفات کی جھوٹی خبریں ٹاپ ٹرینڈ رہیں ۔

وزیراعظم عمران خان نے ترکی کے سرکاری ٹی وی ٹی آر ٹی ورلڈ کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور انہیں معافی دینے سے متعلق گفتگو کی۔ عمران خان کی اس گفتگو کے بعد وہ ٹاپ ٹرینڈ بن گئے ۔ ان کے خلاف ٹویٹر پر طالبان خان کا ٹرینڈ بن گیا ۔

دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد رضوی کی رہائی کے عدالتی احکامات پر ان کے کارکنوں کے ہزاروں کی تعداد میں ٹویٹس کیں اور ان کی رہائی کی خبر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی ۔ تحریک لبیک نے سعد رضوی کی رہائی کی خبروں میں سعد رضوی کے وکیل اور بول نیوز کے اینکر سمیع ابراہیم کو بھی اپنے مبارکبادی ٹرینڈز میں شامل کیا ۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر مذہبی جماعتوں کی طرف سے زناکار معزز نہیں کا ٹرینڈ چلایا گیا جو روزانہ ایک خاص وقت میں ٹاپ ٹرینڈ بن جاتا تھا ۔ رائٹ ونگ کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کی جانب سے فحاشی نامنظور کا ٹرینڈ تقریبا ہر جمعے کو چلا یا جاتا ہے ۔

سوشل میڈیا پر زیادہ تر سیاسی موضوعات کے بعد مذہبی جماعتوں کے بنائے ہوئے ٹرینڈ ہی ٹاپ ٹرینڈ بنتے ہیں جن میں تحریک لبیک سب سے نمایاں ہے ۔ اگرچہ فیس بک اور ٹویٹر پر تحریک لبیک سے وابستہ ہزاروں اور لاکھوں فالوورز رکھنے والے متحرک کارکنوں کے پیجز اور اکاؤنٹس ڈلیٹ بھی کیے جاتے ہیں تاہم وہ اگلے روز نئے اکاؤنٹس بنا لیتے ہیں اور دیکھتے دیکھتے ان کے فالوورز ہزاروں کی تعداد میں پہنچ جاتے ہیں کیونکہ یہ لوگ واٹس ایپ گروپس میں شئیر کرتے ہیں ان کا اکاؤنٹ ختم ہو گیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس انہیں فالو کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔

سوشل میڈیا پر مذہبی جماعتوں اور فرقہ وارانہ گروہوں کا ایک منظم ، فعال اور مضبوط نیٹ ورک موجود ہے جو حد درجہ نظریاتی انداز میں ان موضوعات پر رضاکارانہ کام کرتا ہے ۔ مین اسٹریم پر جگہ نہ ملنے کی وجہ سے یہ جماعتیں اور گروہ سوشل میڈیا کے حوالے سے اپنے کارکنوں کی تربیت بھی کر رہی ہیں اور سوشل میڈیا پر پیسہ بھی خرچ کیا جا رہا ہے ۔ گذشتہ جو اہم ٹرینڈ بنے وہ درج ذیل ہیں ۔

[pullquote]اسلام مخالف بل نا منظور ٹاپ ٹرینڈ[/pullquote]

پارلیمان میں اس وقت ایک بل زیر بحث ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تبدیلی مذہب کی عمر کا تعین کیا جائے ۔ بل کی سفارشات میں لکھا گیا ہے کہ اگر کوئی لڑکا یا لڑکی مذہب تبدیل کرنا چاہے تو اس کی کم از کم عمر اٹھارہ برس ہونی چاہیے ۔ اس بل پر اسلامی نظریاتی کونسل میں بھی بحث ہوئی جس میں نظریاتی کونسل چئیر مین پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز ، کونسل کے ارکان کے علاوہ پیر میاں مٹھا اور وفاقی وزیر پیر نور الحق قادری بھی شریک ہوئے ۔ معروف صحافی اور کالم نگار انصار عباسی نے روزنامہ جنگ میں اسلام دشمن بل کے نام سے ایک کالم لکھا جو لاکھوں کی تعداد میں شئیر ہوا ۔ اس کالم کو بنیاد بنا کر مزید کالم لکھے گئے اور سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنائے گئے ۔ اوریا مقبول جان نے نیو ٹی وی پر کئی شوز میں اس بل کو ہدف تنقید بنایا ۔ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے معروف پارلیمینٹرین اور تحریک انصاف کے رکن اسمبلی لال چند ملہی نے کہا کہ بل ابھی پارلیمان میں زیر بحث ہے لیکن پورے ملک میں نفرت کی فضا کو ہموار کر دی گئی ہے ۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی سینئیر نائب صدر سعدیہ کمال کے مطابق پریس کلب میں اس حوالے غیر سرکاری تنظیموں نے پریس کانفرنس کرنا چاہی لیکن اس موقع پر پریس کلب کا منیجر غائب ہوگیا جبکہ فوٹوگرافرز کو بھی کوریج سے روک دیا گیا ۔

[pullquote]جگن کاظم کے خلاف ٹرینڈ ؟[/pullquote]

24 ستمبر کو اے پلس ٹی وی پر مارننگ شو میں میزبان جگن کاظم نے کچھ ٹک ٹاکرز کو دعوت دی ۔ شو میں لڑکوں کو ہاتھ پشت پر باندھ کر سیب کھانے کو کہا گیا جس میں لڑکیاں ان کی مدد کرتی دکھائی دے رہی ہیں ۔ مارننگ شو میں دکھائے گئے اس کھیل پر بعض لوگوں کی طرف سے شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ۔ بعض مشتعل سوشل میڈیا صارفین نے مذہب اور احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جگن کاظم فحاشی کو فروغ دے رہی ہے۔ صارفین کی شکایات پر جگن کے شو کے خلاف پیمرا نے بھی ایکشن لیا ہے ۔

[pullquote]اینکر غریدہ فاروقی کے خلاف ٹرینڈ [/pullquote]

آج ٹی وی کی اینکر غریدہ فاروقی کے خلاف کئی بار ٹرینڈ بنائے گئے جس میں ان پر ذاتی اور جنسی حملے کیے گئے ۔ غریدہ فاروقی کو مذہب دشمن اور لبرل قرار دیکر انہیں معاشرے میں فحاشی اور عریانی پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ۔

[pullquote]صحافی پر پولیس کی جانب سے توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا [/pullquote]

اٹک کے صحافی تنویر اعوان کو پولیس نے توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کیا ۔ انہوں نے پولیس کے محکمے میں کرپشن اور اہلکاروں کی جانب سے غیر قانونی اقدامات کے خلاف خبریں دیں ۔ ان کی گرفتاری کے خلاف صحافیوں نے احتجاج کیا ۔ بعد میں عدالت نے تنویر أعوان کو بری کر دیا ۔

[pullquote]پنجاب اسمبلی میں عمارتوں پر ختم نبوت سے متعلق آیات لکھوانے کا بل منظور [/pullquote]

پنجاب اسمبلی نے ایوان سے متفقہ طور پر ایک بل منظور کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پورے پنجاب کی تمام سرکاری عمارتوں پر ختم نبوت سے متعلق آیات اور احادیث لکھوائی جائیں گی۔ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے فیصلے کو سراہا تاہم دوسری جانب لوگوں نے کہا کہ سرکاری عمارتوں پر ملاوٹ ، رشوت ، کام وقت پر نہ کرنا اور لوگوں کو تکلیف دینے سے متعلق آیات اور احادیث لکھوائی جائیں کیونکہ یہ بھی اللہ اور اس کے رسول کے واضح احکامات ہیں ۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے اسے ایک غیر ضروری قدم قرار دیا ۔

[pullquote]شہیر سیالوی کا ٹاپ ٹرینڈ کیسے بنا؟[/pullquote]

طالب علم شہیر سیالوی کے حق میں سوشل ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بنا ۔ شہیر سیالوی بریلوی مسلک کی طلبہ تنظیم انجمن طلبہ اسلام کے اہم عہدے دار رہے ہیں ۔ اسلام آباد میں زیر تعمیر چرچ کی بنیادیں منہدم کرنے اور وہاں روزانہ آذان بھی دیتے رہے ۔ وہ تحریک لبیک کے بھی بھرپور سپورٹر ہیں ۔ اکثر انتہا پسندانہ مذہبی موقف کے اظہار میں وہ نمایاں رہتے ہیں۔

[pullquote]ڈی چوک اسلام آباد میں طلبہ کا احتجاج [/pullquote]

ستمبر کے مہینے میں پاکستان میڈیکل کونسل کے خلاف پچھلے تین سال سے ایم ڈی کیٹ کا امتحان دوبارہ دینے والے طلبہ نے احتجاجی کیمپ لگایا ۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ ایم ڈی کیٹ میں کوئی شفافیت نہیں لہذا اس کو ری کنڈکٹ کروایا جائے۔اس سلسلے میں پندرہ ہزار سے زائد طلباء نے پی ایم سی کے خلاف آن لائن پیٹیشن دائر کروائی ۔ طلبہ مطالبات کی منظوری کے لیے وزیر اعظم ہاؤس کی جانب مارچ کیا۔ پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور کئی طلبہ کو گرفتار بھی کیا ۔ٹویٹر بھی ان طلبہ کے احتجاج کا بھی کئی روز تک ٹرینڈ بنا رہا ۔

[pullquote]عدم تشدد کا عالمی دن [/pullquote]

عدم تشدد کا ہیش ٹیگ بھی ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈز میں رہا۔ اس سلسلے میں بہت سارے لوگوں نے مہاتما گاندھی کی 152وی برسی کے موقع پر انکو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مہاتما گاندھی انسانیت کیلئے ایک رول ماڈل تھے۔اس کے ساتھ متعدد ٹویٹس میں لوگوں نے دنیا میں امن کے فروغ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سوچ اور اعمال کے ذریعے تشدد پسند خیالات کی نفی کرنا پوری دنیا میں پیار اور محبت پھیلانے کے مترادف ہے۔ اس سلسلے میں متعدد ٹویٹس کی گئیں جن میں گاندھی کے ساتھ باچا خان کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ کئی لوگوں نے اپنی ٹویٹس میں باچا خان کو عدم تشدد کی فلاسفی کا بانی بھی لکھا ہے۔

[pullquote]ایوبیہ چئیر لفٹ بند کرو[/pullquote]

#خطرناک ایوبیہ چیئرلفٹ بھی ٹویٹر پر زیر بحث رہا جس میں شہریوں کی جانب سے ایوبیہ چیئر لفٹ کو بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔لوگوں کی جانب سے گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے دیا گیا نوٹیفیکیشن شئیر کیا گیا جس میں جی۔ڈی۔اے کی جانب سے چیئر لفٹ کنٹریکٹر محمد ایاز خان کو سیفٹی مئیر سرٹیفیکیٹ جمع کروانے کو کہا گیااور ایسا نہ کرنےپر جلد سے جلد چئیر لفٹ کو بند کرنے کا حکم دیا۔اس سلسلے میں لوگوں کی طرف سے کی ہوئی مزید ٹویٹس میں بتایا گیا کہ ایوبیہ چئیر لفٹ 27 سال پہلے ایکسپائر ہوئی ہے جسکا تاحال استعمال لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔اس ٹرینڈ کے بعد حکومت نے چئیر لفٹ بند کرنے کا حکم دے دیا ۔

[pullquote]ایک ٹویٹ کی وجہ سے بڑی کارروائی [/pullquote]

پارکس اور تفریحی مقامات پر سگریٹ نوشی اور منشیات کے استعمال پر شہریوں کی شکایات پر پولیس کے چھاپے ، کئی افراد کو گرفتار کر لیا ۔ پبلک پارکس اور تفریحی مقامات میں سگریٹ نوشی کے خلاف ٹویٹر پر مہم اسلام آباد سے شروع کی گئ جس پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر شہزاد اکبر نے خصوصی نوٹس لیا اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ہدایات جاری کیں کہ وہ تفریحی مقامات اور پبلک پارکس کو شہریوں خصوصا خواتین اور بچوں کے لیے ہر لحاظ سے محفوظ بنائیں ۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے تفریحی مقامات اور پارکس میں مستقل چھاپوں کا سلسلہ شروع کروا دیا ہے جس کے نتیجے میں کئی افراد کو گرفتار کیا گیا ۔ پارکس میں سگریٹ نوشی کی سزا ایک لاکھ روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید ہے ۔

[pullquote]ہوٹلز ،کمروں اور ٹرائی رومز میں خفیہ کیمرے [/pullquote]

کئی اہم شخصیات کی لیک ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ہوٹلز اور ٹرائی رومز کے بارے میں لوگوں نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے پرائیویسی کی شدید ترین خلاف ورزی قرار دیا ۔لوگوں نے کہا کہ لوگوں کی نجی زندگی اب یہاں محفوظ نہیں رہی ۔ آواری ہوٹل کی انتظامیہ نے سابق گورنر محمد زبیر عمر کی ویڈیو کے بعد ایک بیان جاری کیا جس میں کہا کہ ہوٹل کے کمرے میں کیمرے ہوٹل انتظامیہ نے نہیں لگائے بلکہ کمرے کرائے پر لینے والے نے لگائے ہوں گے ۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بہت زیادہ گفتگو ہو ئی ۔ بی بی سی اردو کی فرحت جاوید نے اس موضوع پر ایک ویڈیو رپورٹ تیار کی جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کیسے پتا لگایا جائے کہ کسی کمرے، ہوٹل یا کسی دکان کے ٹرائی روم کہیں خفیہ کیمرے تو نصب نہیں ہیں؟

[pullquote]ستمبر 2021 میں ٹاپ رہنے والے کچھ ٹرینڈز[/pullquote]

#BoycottMorningWithJuggunKazim
#InternationalDayofNonViolence
#StudentsMarchToPmHouse
#WeAreShahveerSialvi @ShaheerSialvi
#لبيك_یارسول_اللہ
#نشئی_نے_گھڑی_بیچ_دی
#رضاکےوارث_لبیک_والے
#PanamaPapers
#مجدد_دین_و_ملت_احمدرضا
#PrayForDrAQKhan
#مہنگائی_بین_الاقوامی_مسئلہ
#UmerShareef
#Journalismisnotcrime
#GharidaFaruqi
#PandoraPapers
چہلم امام حسین ع
#زناکار_معزز_نہیں
لبرل ازم فحاشی کی جڑ
#اسلام مخالف بل نا منظور

بشکریہ تجزیات آن لائن

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے