منگل : 22 گروری 2022 کی اہم ترین عالمی خبریں | 22.02.2022 | 08:00

[pullquote]روس نے مشرقی یوکرائن میں علیحدگی پسندوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں فوج بھیجنے کا حکم دے دیا[/pullquote]

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے مشرقی یوکرائن میں علیحدگی پسندوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں فوج بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔ پوٹن نے پیر کو اُس حکم نامے پر دستخط کیے، جس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فوجی کب بھیجے جائیں گے۔ پوٹن نے ان فوجیوں کو علاقے میں امن برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق روسی صدر کے اس اعلان کے بعد فوجی گاڑیوں کو یوکرائنی سرحد کی جانب جاتے دیکھا گیا ہے۔ حکم نامے کے مطابق ماسکو نے مشرقی یوکرائن میں علیحدگی پسندوں کے زیر قبضہ دو علاقوں ڈونیسک اور لوہانسک کو خودمختار تسلیم کر لیا ہے۔ روس نواز علیحدگی پسندوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ان صوبوں پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔ تاہم ان صوبوں کے کچھ حصے ہی ان کے کنٹرول میں ہیں۔

[pullquote]روس یوکرائن کے خلاف عسکری محاذ آرائی کی تیاری کر رہا ہے، زیلنسکی[/pullquote]

یوکرائن کے صدر ولوودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ وہ روس کی جانب سے مشرقی یوکرائن میں فوجیں بھیجنے اور اس کے دو صوبوں کو خود مختار تسلیم کرنے کے اقدام پر مغرب سے واضح حمایت کے طلب گار ہیں۔ یوکرائنی صدر نے قوم سے خطاب کے دوران کہا کہ اب یہ واضح ہو جائے گا کہ کون یوکرائن کا دوست اور پارٹنر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرائن خوفزدہ نہیں ہے۔ یوکرائن کے سربراہ نے کہا کہ روس پر فوری پابندیاں عائد کر کے اسے سزا دینی چاہیے۔ زیلنسکی کے مطابق روس یوکرائن کے خلاف عسکری محاذ آرائی کی تیاری کر رہا ہے۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ وہ ماسکو کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر سکتے ہیں۔یوکرائن نے منگل کو ماسکو سے اپنے ایک اعلیٰ سفارتکار کو مشاورت کے لیے طلب کر لیا ہے۔

[pullquote]مغربی ممالک کی جانب سے روس کی مذمت[/pullquote]

مغربی طاقتوں نے مشرقی یوکرائن کی دو ریاستوں کو خودمختار تسلیم کرنے کے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے فیصلے کے بعد روس پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر جلد ہی روس کی جانب سے خودمختار قرار دی جانے والے مشرقی ریاستوں ڈونیسک اور لوہانسک پر مالی امداد کی پابندی عائد کر دیں گے۔ جرمن چانسلر اولاف شولس کا کہنا ہے کہ جرمنی روسی گیس پائپ لائن منصوبے نارڈ سٹریم کی منظوری کے عمل کو روک رہا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ برطانیہ روس پر فوری طور پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرے گا۔ یہ پابندیاں صرف ڈونیسک اور لوہانسک نہیں بلکہ روس پر لگائی جائیں گی ۔ یورپی یونین کی امور خارجہ کے سربراہ جوزف بوریل کے مطابق روس پر جامع پابندیوں کا جلد اعلان کیا جائے گا۔ نیٹو کے رکن ملک ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ روس کا یوکرائن کے مشرقی علاقوں کو خودمختار تسلیم کرنا ناقابل قبول ہے۔ کینیڈا، برطانیہ، فرانس اور دیگر مغربی ممالک کے جانب سے بھی روس کے اس اقدام کی مذمت کی گئی ہے۔

[pullquote]مغرب کی دھمکیاں نئی بات نہیں، روسی وزیر خارجہ[/pullquote]

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے مغرب کی جانب سے روس پر نئی پابندیاں عائد کیے جانے کی دھمکیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ لاوروف کے مطابق مغرب مشرقی یوکرائن میں امن کے قیام میں ناکامی کا ذمہ دار روس کو قرار دے رہا ہے۔ روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اور برسلز روس کو سزا دینے کی ساری آپشنز استعمال کر کے سکون لیں گے۔ لاوروف کے مطابق روس کو مغرب کی جانب سے دی جانے والی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیوں کی عادت ہو گئی ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے یوکرائن کی سالمیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کییف حکومت ملک کے تمام افراد کی نمائندہ حکومت نہیں ہے۔

[pullquote]برکینا فاسو: سونے کی کان میں دھماکا، درجنوں افراد ہلاک[/pullquote]

جنوب مغربی افریقی ملک برکینا فاسو میں ایک سونے کی کان میں دھماکے سے تقریبا ساٹھ افراد ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ اندازہ ہے کہ یہ دھماکا ان کیمیکلز کی وجہ سے ہوا جو سونے میں استعمال کیے جاتے ہیں اور وہاں ان کا ذخیرہ موجود تھا۔ برکینا فاسو کا شمار افریقہ میں سب سے زیادہ سونا پیدا کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ سونا اس افریقی ملک کی سب اے اہم برآمدات میں شامل ہے۔ اس ملک میں سونے کی تقریباﹰ آٹھ سو کانیں موجود ہیں۔

[pullquote]یورپی یونین کی جانب سے میانمار کی سرکاری کمپنی پر پابندیاں عائد[/pullquote]

یورپی یونین نے میانمار میں تیل اور گیس کی ایک سرکاری کمپنی پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ کمپنی میانمار کی فوجی حکومت کے لیے فنڈنگ ​​کا ایک بڑا ذریعہ رہی ہے۔ یورپی یونین نے میانمار کے 22 عہدیداروں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان افسران کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور ان پر سفری پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ اپنی حکمرانی کے خلاف مزاحمت پر فوجی جنتا کے عوام پر کریک ڈاؤن کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔ اس ملک کی فوج نے فروری 2021 میں جمہوری طور پر منتخب حکومت سے اقتدار چھین لیا تھا۔ بڑے پیمانے پر پر امن مظاہروں پر کیے جانے والے کریک ڈاؤن کے بعد اب میانمار کی فوجی حکومت کو مسلح مزاحمت کا سامنا ہے۔

[pullquote]جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر سینیگال کے دورے پر[/pullquote]

جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے یورپ اور سینیگال کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔ سینیگال کے صدر میکی سال نے اپنے جرمن ہم منصب کا دارالحکومت ڈاکار میں استقبال کیا۔ صدر سال نے جرمنی پر زور دیا کہ وہ فرانس کے فوجی انخلاء کے اعلان کے بعد سینیگال کے پڑوسی ملک مالی میں اپنی فوجیں تعینات رکھے۔ اقوام متحدہ کے امن مشن کے تحت جرمنی کے 1,170 فوجی مالی میں تعینات ہیں۔ دونوں صدور نے افریقہ میں کووڈ ویکسین کی تیاری پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ صدر سال نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک ویکسین کی مغربی امداد کے بجائے خود اپنی ویکسین بنانا چاہتا ہے۔ صدر شٹائن مائر کا کہنا تھا کہ جرمن کمپنی بائیو این ٹیک کی جانب سے افریقہ میں موبائل لیبز اس براعظم میں ویکیسن بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اُردو[/pullquote]

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے