اپوزیشن جو بھی چال چلے گی اس کے لیے تیار ہوں، عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر اپوزیشن کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہےکہ چوروں کا ٹولہ جو بھی کرے میں ان کے لیے تیار ہوں۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جن ممالک میں غربت ہے وہاں طاقتور چوری کرکے بچ جاتا ہے اور کمزورجیل میں جاتا ہے، ان ممالک میں قانون کی بالادستی نہیں، وہ غریب ملک وسائل سے بھرے ہیں لیکن وہاں قانون کی بالادستی نہیں، طاقتور لندن میں محلات خرید سکتا ہے مگر چھوٹا چور بھینس اور موٹرسائیکل چوری کرکے کتنا نقصان کرتا ہے، وہ جیل چلا جاتا ہے، ساری دنیا میں ممالک وسائل کی کمی سے نہیں بلکہ طاقتور ڈاکوؤں کے دندنانے سے غریب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم کرپشن اور جرم کو قبول کرلیں اور انہیں برا نہیں سمجھیں تو یہ معاشرے کی تباہی کی بنیاد بنتی ہے، اگر میں چوری سے پیسا بناسکتا ہوں تو کیوں تعلیم حاصل کروں اور محنت کروں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین نے ساڑھے چار سو وزرا کو جیلوں میں ڈالا، اس لیے وہ اوپر گیا، ہماری جنگ حقوق کی جنگ ہے،عورتوں اور کمزور طبقے کے حقوق کی جنگ ہے، اس لیے جب تک زندہ ہوں ان کو این آر او نہیں دوں گا، جہاد لڑوں گا، اس میں میرے ملک کی بہتری ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہاں طاقت ور شخص قانون کے نیچے نہیں آنا چاہتا، جہاں چوری سے پیسہ بنے وہاں لوگ پڑھائی اور محنت کیوں کریں گے؟ پھر معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے لیکن میں جب تک زندہ ہوں این آر او نہیں دوں گا۔

عالمی یوم نسواں پر فاطمہ جناح یونیورسٹی راولپنڈی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ خواتین کی وراثت کے حقوق میں سمجھ ہونی چاہیے کہ نبیؐ نے 1500 سال قبل خواتین کو حقوق دیے، یورپ میں بھی خواتین کو حقوق ملے لیکن افسوس کہ پاکستان میں بعض جگہ خواتین کو حقوق نہیں دیے جاتے، میانوالی میں ایک جگہ گیا تو وہاں تصور ہی نہیں تھا خواتین کو حقوق دینے کا، یہ رواج ہمارے ہاں ہندوستان سے آیا جہاں شوہر کے مرنے پر خواتین کو ساتھ ہی ستی کردیا جاتا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے خواتین کے حقوق کے لیے قانون بنادیا اب معاشرے کو اس پر عمل درآمد کرانا ہے، طلاق کے قانون میں خواتین کو حقوق دینے پڑتے ہیں، جلد اس حوالے سے بھی قانون سازی کریں گے، اسی طرح تعلیم بھی ہے ہم نے خواتین کی تعلیم پر بھی زور نہیں دیا، میری زندگی میں میری کامیابیوں کی سب سے بڑی وجہ میری والدہ ہیں جو کہ پڑھی لکھی تھیں، والدہ کو ان کے وراثت کے حقوق ملے اور ان کے پڑھا لکھا ہونے کی وجہ سے آج میں پڑھا لکھا ہوں، آج میری کامیابیوں میں میری والدہ کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

پاکستان میں احساس پروگرام کا 98 فیصد پیسہ خواتین کے ذریعے تقسیم کیا جاتا ہے، ہم بچی کی تعلیم کے لیے والدین کو زیادہ پیسے دیتے ہیں کیوں کہ ماں پڑھی لکھی ہوتی ہے تو پورا گھر کامیاب ہوتا ہے، ہماری اسکالر شپ 40 فیصد لڑکوں اور 60 فیصد لڑکیوں کے لیے ہے۔

انہوں ںے کہا کہ قانون کی بالادستی سے معاشرہ کامیاب ہوتا ہے، طاقت ور لوگ قوم کا پیسہ چرا رہے ہیں اور این آر او چاہتے ہیں لیکن میں جب تک زندہ ہوں این آر او نہیں دوں گا، پرویز مشرف نے گھٹنے ٹیک دیے اور طاقت وروں کو این آر او دے دیا، یہاں طاقت ور شخص قانون کے نیچے نہیں آنا چاہتا، جہاں چوری سے پیسہ بنے وہاں لوگ پڑھائی اور محنت کیوں کریں گے؟ پھر معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے، ہم قانون کی حکمرانی کے لیے سب سے بڑا جہاد لڑ رہے ہیں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ اللہ نے مجھے دنیا میں ٹاپ پانچ کپتانوں میں رکھا تھا، دنیا کی تاریخ میں میرا بھی نام ہے، یاد رکھیں کپتان جب میچ کھیلتا ہے تو وہ اپنے مخالف کی ہر چیز کے لیے تیار ہوتا ہے اگر وہ ٹاس جیتے گا تو میں کیا کروں گا، میں ٹاس جیتوں تو کیا ہوگا، وہ وکٹ تیز بنائے گا تو میں کونسی بال کراؤں گا، اس لیے ڈاکوؤں کا گلدستہ اور چوروں کا ٹولہ جتنی بھی کوشش کرے جو پلاننگ کرلے، یہ جوبھی کریں گے میں ان کے لیے تیار ہوں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے