[pullquote]یوکرینی شہر بُوچہ میں اجتماعی قبر کے مقام کی نشاندہی سیٹلائٹ تصاویر سے[/pullquote]
سیٹلائٹ امیج فراہم کرنے والی ایک امریکی کمپنی کا کہنا ہے کہ یوکرینی شہر بوُچہ کی نئی تصاویر میں اسی جگہ ایک پنتالیس فٹ لمبی خندق دیکھی جا سکتی ہے جہاں ایک اجتماعی قبر کی نشاندہی کی گئی تھی۔ میکسر ٹیکنالوجیز کی جانب سے لی گئی تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ یہ خندق ایک گرجا گھر کے احاطے میں کھودی گئی تھی۔ کمپنی کے مطابق یہ تصاویر اکتیس مارچ کو لی گئی تھیں لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ کھدائی کی علامات دس مارچ کو نظر آئی تھیں۔ بُوچہ چھتیس ہزار رہائشیوں پر مشتمل شہر ہے اور دارالحکومت کییف سے آٹھ کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے۔ فروری کے آخر میں یہ شہر ان روسی فوجیوں کا نشانہ بنا جو کہ کییف کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے۔ بچ جانے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک یوکرینی فوج نے علاقے پر اپنا کنڑول نہ سنبھال لیا، تب تک وہ کئی ہفتے گھروں کے تہہ خانوں میں چھپے رہے۔
[pullquote]نئی سویلین ہلاکتوں کے بارے میں یوکرین من گھڑت خبریں پھیلا رہا ہے، ماسکو[/pullquote]
روس نے منگل کو یوکرین پر الزام عائد کیا کہ وہ متعدد نئے مقامات پر شہریوں کی نئی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں من گھڑت خبریں پھیلا کر ماسکو کے خلاف پروپیگینڈا کر رہا ہے۔ روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یوکرینی فوج نے ایک فیک ویڈیو ریکارڈ کی ہے جس کے ذریعے یہ بتایا جا رہا ہے کہ پر امن شہریوں کو روسی فوجیوں نے ہلاک کیا ہے۔ ماسکو نے کہا کہ یہ ویڈیو پیر کی شام کو کییف سے بیس کلومیٹر دور شمال مغرب میں بنائی گئی تھی اور اسے مغربی میڈیا کے ذریعے ٹتقسیم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ روس کے مطابق یوکرین کے دیگر علاقوں میں بھی ایسی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں۔ روس کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرینی صدر بوُچہ میں سیکنڑوں شہریوں کی ہلاکتوں پر روس کے خلاف مزید عالمی پابندیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
[pullquote]یوکرینی صدر کا روسی جنگی جرائم کی تحقیقات اور مقدمہ چلانے کے لیے ایجنسی قائم کرنے کا اعلان[/pullquote]
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نےیوکرینی سر زمین پر روس کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک ایجنسی تشکیل دے دی ہے۔ زیلنسکی نے روس کے زیر کنٹرول علاقوں میں مزید ہلاکتوں اور زیادتیوں کے انکشاف کے خطرات سے خبر دار کیا ہے۔ یوکرینی صدر نے یوکرینی شہروں میں نہتے شہریوں کے خلاف روسی فوج کی جانب سے طاقت کے استعمال کا الزام عائد کیا ہے۔ کییف کے قریبی شہر بُوچہ کی اُن تصاویر جن میں عام شہریوں کی لاشیں سٹرکوں پر بکھری ہوئی نظر آ رہی ہیں اور ایک اجتماعی قبر دیکھی جا سکتی ہے ، سے دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے جرمنی کی سابقہ چانسلر انگیلا میرکل اور فرانس کے سابق صدر نکولا سارکوزی کی روس کے حوالے سے پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔سن 2008 میں جرمنی، فرانس اور نیٹو کی کچھ چھوٹی ریاستوں نے امریکہ کے دباؤ کے باوجود یوکرین کو نیٹو اتحاد میں شامل ہونے کی پیشکش نہیں کرنے دی تھی۔ ان ممالک کا کہنا تھا کہ یوکرین ابھی تیار نہیں اور اس اقدام سے روس ناراض ہو سکتا ہے۔
[pullquote]متعدد یورپی ممالک کی طرف سے روسی سفارتکاروں کی ملک بدری[/pullquote]
فرانس، اٹلی اور لیتھوانیا کی جانب سے بھی روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ قبل ازراں جرمنی نے روس کے چالیس سفارت کاروں کو ناپسندیدہ افراد قرار دیتے ہوئے ان کی ملک بدری کا حکم جاری کر دیا تھا۔ یہ اعلان جرمنی کی وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کیا۔ جرمنی کا دعویٰ ہے کہ یہ سفیر روس کی خفیہ ایجنسی کا حصہ ہیں۔ بیئربوک کے مطابق روس کے یہ سفارت کار جرمن معاشرے میں قائم ہم آہنگی اور آزادی کے خلاف کام کر رہے تھے۔ جرمن وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ ناقابل قبول ہے۔ روس کی وزارت خارجہ کے مطابق برلن کے اس فیصلے کا جواب دیا جائے گا تاہم روسی وزارت نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ گزشتہ کچھ ہفتوں سے دونوں ممالک کی جانب سے سفارتی بے دخلیوں کی کاروائیوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
[pullquote]نائیجیریا: ٹرین حملے کے مسافر اب بھی لا پتہ[/pullquote]
شمال مغربی نائیجیریا میں گزشتہ ہفتے مسلح افراد کی جانب سے ایک ٹرین پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کرنے کے بعد 150 سے زائد مسافر ہنوز لاپتہ ہیں۔ 28 مارچ کو ہونے والے اس حملے میں کم از کم آٹھ افراد مارے گئے تھے اور کئی افراد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ کچھ رشتہ داروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں مشتبہ افراد کی جانب سے رابطہ کر کے بتایا گیا ہے کہ ان کے قریبی رشتہ داروں کو اغوا کیا گیا ہے۔ وسطی اور شمال مغربی نائیجیریا میں مسلح گروپس عام شہریوں کو تشدد بناتے رہتے ہیں۔ یہ گروپ مقامی دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر چوریاں، اغوا اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں۔
[pullquote]جرمنی کا مالدووا کو بغیر کسی شرط کے پچاس ملین یورو کا قرض دینے کا اعلان[/pullquote]
جرمنی نے یورپی ملک مالدووا کو بغیر کسی شرائط کے پچاس ملین یورو کا قرض دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس قرض کا مقصد یورپ کی سب سے غریب ریاست کو یوکرینی مہاجرین کی آمد اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کی صورتحال سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ جرمنی منگل کو ایک ڈونرز کانفرنس میں رومانیہ اور فرانسیسی وزرائے خارجہ کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس کانفرنس میں مالدووا کے وزیر اعظم بھی شرکت کررہے ہیں۔ جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ برلن مالدووا کی اقتصادی مدد کرنا چاہتا ہے کیوں کہ اس ملک کو شدید سیاسی اور اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔
[pullquote]بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کے حملے[/pullquote]
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی حکام نے دعوی کیا ہے کہ چار اپریل پیر کی رات کو جنوبی ضلع شوپیاں میں عسکریت پسندوں نے ایک کشمیری پنڈت کو گولی مار دی۔ اس سے قبل دن میں سری نگر میں نیم فوجی دستے سی آر پی ایف پر حملے میں ایک فوجی ہلاک اور دوسرا بری طرح زحمی ہو گيا تھا۔ پولیس کے مطابق پیر کے روز ہی ایک اور حملے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارت کے دیگر علاقوں سے آئے مزدوروں پر فائرنگ کی گئی جس میں تین مزدور شدید زخمی ہو گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے متاثرہ علاقوں کا محاصرہ کر لیا گيا ہے۔
[pullquote]جرمنی: 1991 ء میں حملہ کرنے والا ایک دائیں بازو کا انتہا پسند گرفتار[/pullquote]
جرمنی میں وفاقی استغاثہ نے پیر کو اعلان کیا کہ 1991 ء جرمن صوبے زارلینڈ کے ایک قصبے زارلوئی میں پناہ گزینوں کے ایک گھر پر آتش زنی کے حملے کے الزام میں دائیں بازو کے ایک انتہا پسند کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس شخص پر قتل، اقدام قتل اور آتش زنی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔اس سال جنوری میں، جرمن تفتیش کاروں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے 30 سال پرانے کیس میں کچھ نئی معلومات سامنے آئی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس حملے کے پیچھے ایک انتہا پسند شخص تھا۔استغاثہ کے مطابق، ایک انچاس سالہ شخص نے 18 ستمبر 1991 ء کی شام جرمنی کے ایک چھوٹے مغربی قصبے زارلوئی میں انتہائی دائیں بازو کے ایک گروپ کے دیگر اراکین کے ساتھ گزاری۔ کہا جاتا ہے کہ اس گروپ نے مشرقی جرمن قصبے ہوئیسویرڈا میں نسل پرستانہ حملوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے اور کہا اسی طرح کے جرائم ان کے قصبے میں بھی ہونے چاہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ اس کے فوراً بعد، مشتبہ شخص نے پناہ کے متلاشیوں کی رہائش گاہ پر جا کر سیڑھیوں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔
[pullquote]کینیا: تیل کے بحران کو ختم کرنے کے لیے حکومت کی سبسڈی[/pullquote]
کینیا کے صدر اوہورو کینیاٹا نے مالی سال کے ضمنی بجٹ پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس بجٹ میں ملک کے ایندھن سبسڈی پروگرام کے لیے اضافی ڈھائی سو ملین یورو مختص کیے گئے ہیں۔ کینیا کی حکومت نے تیل کی قلت کا ذمہ دار کمی کے خوف کے باعث کی جانے والی خریداری اور ذخیرہ اندوزی کو ٹھہرایا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قلت کے خدشات کو دور کرنے کے لیے سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے۔یہ اعلان پٹرول اسٹیشنوں پر کئی دنوں سے جاری طویل قطاروں کے بعد کیا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے اکثر تیل کی خرید کی حد مختص کی جاتی رہی ہے۔ کینیا میں تیل کی قیمتوں میں گزشتہ سال سے اضافہ ہو رہا ہے۔ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد اس افریقی ملک میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اُردو[/pullquote]