جہالت کا بلیک ہول
میں فزکس کو سائنسی علوم کی امی جان خیال کرتا ہوں اور اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ یہ زندگی میٹا فزکس نہیں , فزکس کے اصول پر چل رہی ہے ۔جن اقوام نے میٹافزکس کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی ،تاریخ کی گرد نے انہیں چھپا لیا۔میں ایک حقیقی فزیسسٹ کو ہی ولی کامل مانتا ہوں ،وہی قدرت کے مقاصد کو پورا بھی کر رہا ہوتا ہے اور علم کی حدود میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے۔
ڈاکٹر پرویز ہود بائی کو میں بہت زیادہ نہیں جانتا۔امریکہ سے فارغ التحصیل ایک فزیسسٹ کے طور پر میں ان کا احترام کرتا رہا۔کچھ عرصہ پہلے انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کی کسی تقریب میں علامہ اقبال کے حوالے سے کچھ کمزور اور سطحی باتیں کیں تھیں ، وہ تو اچھا ہوا کہ تقریب میں نامور استاد ڈاکٹر اقبال آفاقی صاحب تشریف فرما تھے اور انہوں نے اپنے خالص علمی انداز میں ہود بائی کے تسامحات پر گرفت کر لی۔
پرویز ہود بائی کا ایک مستحکم سوشل میڈیا نیٹ ورک موجود اورمتحرک ہے۔یہاں اسلام آباد میں انہوں نے بلیک ہول کے نام سے ادارہ بنا رکھا ہے جہاں مختلف موضوعات پر لیکچرز ہوتے ہیں ۔ان کے ہاں عمومی طور پر لیکچرز ارشاد فرمانے والے بھی "منظور شدہ محکمہ تعلیم” دانشور اور دانش جو ہوتے ہیں۔یہاں تعلیم سے مراد وہ تعلیم ہے جو ان کے اپنے جہان فراست سے ہم آہنگ اور متفق ہو۔یو ٹیوب چینل پر ان کی گفتگوئیں اور ارشادات کثرت سے موجود ہیں۔ٕ
ایک قدامت پرست، تنگ نظر ،کم علم اور نادان معاشرے کے لیے سائنسی طرز فکر و عمل کو فروغ دینے کی سعی کرنے والوں کو میں اس معاشرے کے محسن شمار کرتا ہوں۔ کاش پرویز ہود بائی بھی ایسے ہی ہوتے، جیسا کہ ان کے مداح انہیں سمجھتے اور خیال کرتے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے وہ ایک روایتی پیر نکلے ، ایک ایسا پیر جس کے سطحی فرمودات اور کاذب ملفوظات اس کے معتقدین کو اپنی گمراہ گرفت میں لے کر اسیر کر لیتے ہیں۔
انہوں نے نہ جانے کس پراسرار جذبے کے تحت یا کس کے اشارہ ابرو کی تعمیل میں بھٹو خاندان کو اپنے عناد کا نشانہ بنانا ضروری خیال کیا ہے۔وہ جس پریقین انداز میں گفتگو کرتے ہیں ،اس سے گمان ہوتا ہے کہ شائد سچ بول رہے ہوں گے . میں بالکل نہیں سمجھ سکا کہ ایک ایسا شخص جس سے عقل و شعور کی باتیں اور معروضی و سائنسی موضوعات سے متعلق تازہ تحقیق سننا چاہتے ہیں وہ اچانک جھوٹ بولنے والا منہ بنا کر میر مرتضیٰ بھٹو مرحوم ،محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور شہید وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں بڑی ہی نازیبا گفتگو شروع کردے۔
میر مرتضیٰ بھٹو کو اپنا شاگرد قرار دے کر ایک نالائق طالب علم ثابت کر کے وہ فزکس کے کس قانون کو مستحکم کر رہے ہیں ؟ہود بائی میر مرتضیٰ بھٹو کے بارے میں اپنی متناقص اتہام تراشی کا کوئی جواز یا ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہیں ۔ ہود بائی کا دعویٰ ہے کہ وہ 1969 ء میں امریکہ گئےاور ایک سال میں اتنا کام کیا اتنا کام کیا کہ ان کا نروس بریک ڈاؤن ہوگیا،ان کے مطابق وہ کلچرل مس فٹ ہو گئے۔پتہ نہیں یہ کیا اور کس طرح کا مس فٹ ہوتا ہے بہرحال وہ کہتے ہیں کہ امریکہ میں پڑھنے اور سخت محنت کرنے سے ،جس میں باتھ روم دھونا بھی شامل تھا، ان کے بقول ان کا فیوز اڑ گیا ۔اس کے ایک سال بعد واپس کراچی چلے آئے اور اسی اڑےہوئے فیوز کے ساتھ انہوں نے کراچی کے گرائمر اسکول میں ایک ٹرم پڑھایا ،جس میں میرمرتضی بھٹو او لیول کے طالب علم تھے ۔
پرویز ہود بائی دعوی کرتے ہیں کہ وہ ساتویں جماعت کو جنرل سائنس کا مضمون پڑھاتے تھے ۔یہ 1970 اور 1971 کا قصہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ حضرت 1969 میں امریکہ جاکر ،سخت محنت کر کے اپنا فیوز اڑوانے کے بعد سمسٹر بریک لے کر واپس کراچی آگئے تھے۔جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ میر مرتضیٰ بھٹو نے 1971ء میں کراچی گرائمر اسکول سے او لیول کا امتحان پاس کیا کر لیا تھا ،جس کے بعد 1972ء میں انہوں نے بیچلر ڈگری مکمل کرنے کے لیے امریکہ کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی داخلہ حاصل کیا اور 1976 میں ہاورڈ یونیورسٹی سے اپنی گریجویشن مکمل کی۔
اب یہ سراغ کہیں سے نہیں مل رہا کہ امریکہ سے اپنا فیوز اڑوا کراور نروس بریک ڈاؤن کے بعد واپس آکر انہوں نے ساتویں جماعت میں میر مرتضیٰ بھٹو کو کس سائنسی اصول کے تحت پڑھایا اور انتہائی بے کار اسٹوڈنٹ پایا تھا؟ستم ظریف ایک اور پہلو سے حیران ہے ،وہ کہتا ہے کہ پرویز ہود بائی 11جولائئ 1050 ء میں پیدا ہوے ،جبکہ میر غلام مرتضی بھٹو 18 ستمبر 1954ء کو پیدا ہوئے ۔اب ان کی عمروں میں فرق چار سال کے قریب بنتا ہے۔دوسری حیرت اس کی یہ ہے کہ خود پرویز ہود بائی صاحب 1968ء تک کراچی گرائمر اسکول کے طالب علم رہے تھے ۔جس کے بعد،ان کے اپنے مطابق وہ 1969ء میں امریکہ چلے گئیے۔وہاں ایک سال محنت ،مشقت اور خواری کے بعد واپس کراچی چلے آئے اور اس مرتضیٰ بھٹو کو ساتویں جماعت میں جنرل سائنس کا مضمون پڑھا کر ،میتھیمیٹکس میں نالائق پایا ،جس نے 1971ء میں او لیول مکمل کر لیا تھا۔
ستم ظریف یہ سب جان کر چکرا سا گیا ہے ،وہ کہہ رہا تھا کہ مجھے مارو ،اس کی آواز بہت ہی آہستہ تھی ،میں نے سن بھی لی تھی ،پر میں نے اسے اس لیے نہیں مارا کہ اس سارے گھن چکر میں اس بے چارے کا کوئی قصور نہیں تھا۔
امریکہ میں تعلیم کو اپنا فخر سمجھنے والے پرویز ہود بائی ہاورڈ یونیورسٹی تک پر حیران ہیں کہ اس نے مرتضیٰ بھٹو کو داخلہ کس طرح دے دیا۔؟اس ساری بات چیت میں بھٹو خاندان کے ساتھ ان کی تہہ دار تہہ عناد اور نفرت ابل ابل کر ان کی آنکھوں اور دہن سے باہر نکل رہی تھی۔انہوں نے منشیات استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا ہے اس الزام سے پرویز ہودبائی کہ ذہنی صحت کے بارے میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
میر مرتضی نالائق اور بے کار اسٹوڈنٹ تھے ،ہود بائی گرائمر اسکول میں ساتویں جماعت کو جنرل سائنس پڑھاتے تھے۔یہ ساری گفتگو سنتے ہوئے ہود بائی کی کذب بیانی ان کے چہرے کے اتار چڑھاؤ سے صاف نظر آرہی ہے۔وہ جس سائنٹیفک یقین اور اعتماد کے ساتھ میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کا ذمہ دار آصف علی زرداری کو قرار دے رہے ہیں ، اور جس حقارت سے محترمہ بینظیر بھٹو کو اپنی ایک سال جونیئر کلاس فیلو قرار دے کر”پنکی” کہہ کر پکارنے کا دعوی کر رہے ہیں۔ ،اور جس طرح انہوں نے شہید وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے خالص تراشیدہ الزامات کا عنوان بنایا ہے ،اس سے یوں نظر آرہا ہے کہ پرویز ہود بائی کسی نئے ڈرامے میں کام کرنے کا معاہدہ کئے بیٹھے ہیں۔
پرویز ہود بائی نے سیاست اور سیاسی شخصیات کے بارے میں کیا بے ہودہ اور بے تکی گفتگو کی ہے۔ ان کے منہ سے سطحی اور ضیاءالحق کے تاریک دور میں وضع کئے جانے والے مفروضات کا اعادہ سن کر خیال آیا کہ ؛ یہ تو پھر فزکس بھی اسی طرح کی جانتے ہوں گے۔ایک ایسا شخص جو سائنسدان ہوتے ہوئے کچھ ایجاد نہ کرسکے ،یا جو نوجوان نسل میں خود کو مقبول کرنے کا ہر حربہ آزماتا چلا جائے ،اسے اپنی معلومات اور خیالات کو سچائی اور حقیقت پر مبنی رکھنا چاہیئے ۔اپنی اس ساقط الاعتبار گفتگو میں صرف ایک بات ایسی کی جس سے اختلاف ممکن نہیں ،انہوں نے اپنی طرح ملک سے باہر جا کر اعلی تعلیم حاصل کرنے والوں کے بارے میں جب یہ کہا کہ "آٹے میں نمک ہیں ان میں سے ،جنہوں نے کسی ٹیکنیکل فیلڈ میں کچھ کر دکھایا ہو” تو لگا کہ انہیں کچھ کچھ عرفان ذات کی دولت بھی حاصل ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ؛ جیسا کہ انہوں نے خود اپنی گفتگو میں کہا ہے کہ امریکہ میں ایک سال رہ کر اور مسلسل باتھ روم دھو دھو کر ان کا ذہنی توازن مجروح ہو گیا تھا ،اوربقول ان کے ان کا فیوز اڑ گیا تھا جس کی وجہ سے وہ سمسٹر بریک لے کر واپس کراچی آگئے تھے ،تو قوی امکان اس بات کا ہے کہ پھر اس کے بعد یہ نارمل زندگی کے لیے درکار ذہنی صحت حاصل نہ کر پائے ہوں ،اور بقیہ زندگی اسی طرح کی بے سروپا باتیں کر کے گزار رہے ہوں۔بہرحال جب میں ایک ڈھلتی عمر کے کسی شخص کو ذہنی مسائل کا شکار دیکھتا ہوں تو مجھے اس کی مجروح شخصیت دیکھ کر بہت ترس آتا ہے۔