فنون لطیفہ اور شخصی آزادی فطرت کی نوازشات ہیں۔
انِ سے انکار نہ صرف فطرت سے انکار ہے بلکہ معاشرہ کو مرگ کی شاہراہ پر گامزن کرانے کے مترادف بھی ہے۔
مہذب دنیا ذہنی اور مادی ترقی کی معراج تک پہنچ چُکی ہے مگر آج اکیسویں صدی میں ہم اس غیر متعلق ایشو پر الجھ پڑے ہیں کہ عامر (گلناز) کو رقص کا حق حاصل ہے یا نہیں؟
شعور کی کس پست نہج پر ہیں ہم!
آج کے اس علمی دور میں اگر شخصی آزادی اور فنون لطیفہ پر قدغن کے حق میں دلائل دیے جائیں تومیرے نزدیک یہ شعور کی بانجھ پن ہی ہوگی۔
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھ لیں آپ مختلف مذاہب خاص طور پر توحیدی مذاہب کو ہمیشہ فنون لطیفہ کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے پائیں گے۔
جب آپ معاشرے میں انسان کی شخصی آزادی پر قدغن لگائیں گے، فنون لطیفہ کے آگے بند باندھیں گے تو معاشرہ گھٹن کا شکار ہوکر انتہاپسندی کی طرف گامزن ہوگا،
یہی وجہ ہے باقی دنیا کی نسبت مذہبی معاشروں میں انتہاپسندی زیادہ دیکھنے کو ملے گی۔
رجعتی فکر سے منسلک لوگ اگر عامر کے رقص کے خلاف جہاد کا نعرہ بلند کرتے تو حیرانگی ہر گز نہ ہوتی مگر ذہنی کوفت جس بات پر سب سے زیادہ ہوئی وہ یہ تھی کہ جن سینئر ساتھیوں سے روشن خیالی کے سبق کا الف، ب ازبر کیا تھا، وہی مخالفت میں پیش پیش تھے۔
ان دوستوں کی خدمت میں یہ گزارش ضرور کرنا چاہوں گا کہ فنون لطیفہ اور شخصی آزادی سے انکار معاشرے کو بانجھ پن کی طرف دھکیل تو سکتی ہے مگر تعمیر اور ترقی کی طرف ہر گز نہیں لے جا سکتی۔
آخری اور اھم بات یہ کہ جب بھی کسی رجعتی سوچ اور عمل کے خلاف بات کی جائے تو آگے سے طنزاً کہا جاتا ہے کہ اپنے گھر سے شروعات کریں۔
تو اس پیرائے میں عرض کرتا چلُوں کہ یہ سوچ اور طرز عمل رجعتی ہی ہے،
آپ شخصی آزادی کے حق کو یہ کہہ کر رد نہیں کرسکتے کہ چونکہ آپ کی گھر کے افراد ایسا نہیں کرتے لہذا یہ حق کسی کو حاصل نہیں ہونا چاہیے اور یہ عمل یا فکر جائز ہے۔
میرے گھر کے افراد بھی تو اسی معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں پر یہ قدغن اور پابندیاں نافذ ہیں،
معاشرے کے دیگر افراد کی طرح وہ بھی اس انسانی حق سے محروم ہیں، ھم ایک ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں
جہاں پر زندگی بسر کرنے والے سارے انسانوں کو یہ بنیادی انسانی حق حاصل ہو اور وہ اپنی خواہشات کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں یا زندگیوں کا اہم فیصلہ خود کرسکیں۔
میرے نزدیک ہر انسان کو یہ بنیادی انسانی حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کس طرح گزارے، کس طرح کے کپڑے پہنے، کس طرح کا کھانا کھائے، کس تعلیمی ادارے میں پڑھے، کس کو شریک حیات چُن کر اس سے شادی کرے۔
یہ تمام اور اس جیسے دیگر اھم فیصلوں کا اختیار اس انسان کے علاوہ کسی اور کو نہیں کرنا چاہئیے۔
ان دوستوں کی خدمت میں عرض ہے کہ میری طرف سے میرے گھر کے افراد پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے
( میں ہوتا بھی کون ہوں کسی دوسرے انسان پر پابندی لگانے والا اور نہ ہی اس سوچ کا قائل ہوں )
میں شخصی آزادی کا قائل انسان ہوں، کسی بھی کام کے لیے کسی کو اس کی خواہش اور مرضی کے برخلاف فورس نہیں کرسکتا۔
البتہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے اپنی کاوش اور کوشش جاری رکھ سکتا ہوں کہ جہاں پر ہر انسان کو شخصی آزادی کا حق میسر آئے۔
فنون لطیفہ حوصلہ شکنی کے بجائے زندگیوں کا ناقابل جُدا حصہ ہو۔
جب ایسا معاشرہ تشکیل پائے تو "سنج” (میری بیٹی) اپنی یونیورسٹی میں ہزاروں ناظرین کے سامنے رقص کریگی تو مجھے اُس کی صلاحیت پر فخر ہوگا۔