‏توہین مذہب کے الزامات پر کمیشن کی تشکیل کا فیصلہ معطل، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلوں پر سماعت

‏اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے جسٹس اعجاز اسحاق خان کے اس فیصلے کو تاحکمِ ثانی معطل کر دیا ہے، جس میں توہین مذہب (بلاسفیمی) کے الزامات کے ممکنہ غلط استعمال اور اس سے جُڑے مفادات کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

‏جمعرات کو جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے راؤ عبدالرحیم اور دیگر افراد کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیلوں پر ابتدائی سماعت کی۔ اپیل کنندگان کی نمائندگی سینئر وکلا کامران مرتضیٰ اور انتخاب شاہ نے کی، جنہوں نے عدالت کے سامنے تفصیلی دلائل رکھے۔

‏وکلا کا کہنا تھا کہ کمیشن کی تشکیل کی پٹیشن میں صرف یہ ذکر تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس ایک درخواست زیر التوا ہے، جو ابھی نمٹائی نہیں گئی، اس لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کرنا آئینی طور پر درست نہیں تھا۔ مزید کہا گیا کہ آرٹیکل 199 کے تحت صرف وہی درخواست گزار اہل ہوتے ہیں جن کے پاس کوئی متبادل قانونی راستہ نہ ہو، جب کہ اس کیس میں متبادل فورمز موجود تھے۔

‏دلائل میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ پٹیشن ملزمان کے ورثاء نے دائر کی، جو براہ راست متاثرہ فریق (aggrieved party) نہیں ہیں، اور مقدمات پاکستان کے مختلف حصوں میں درج ہیں، جب کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار صرف اسلام آباد تک محدود ہے۔

‏وکلا نے نشاندہی کی کہ کچھ مقدمات میں سزائیں ہو چکی ہیں اور وہ سپریم کورٹ تک جا چکے ہیں، لہٰذا ان پر نئے سرے سے کمیشن کیسے قائم کیا جا سکتا ہے؟

‏دلائل کے اختتام پر اپیل کنندگان کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ چونکہ سنگل بینچ کے حکم میں ایک مخصوص مدت کے اندر کمیشن بنانے کی ہدایت دی گئی ہے، اس لیے اگر اپیلوں پر سماعت مکمل ہونے سے پہلے وہ مدت ختم ہو جائے، تو اپیلوں کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ لہٰذا عدالت کمیشن کے قیام پر عبوری حکم جاری کرے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے