میرے بابا!آپ آجائیے

دہشت گردی کی کوئی ایسی تعریف کرنا کہ جو ہر لحاظ سے مکمل اور موقع پر سو فیصد اتفاق راۓسے لاگو کی جاسکے۔اگر ناممکن نہیں تو کم ازکم انتہائی مشکل ضرور ہے۔

یہ کہانی گاؤں میں رہنے والا ایک غریب زمیندار گل جان کی ہے۔جس کے والد اس کی بچپن میں شہر میں محنت اور مزدوری کے لیے گئے اور دہشت گردی کے ایک واقعے میں شہید ہوگئے ان کے بعد ان کا گھرانہ فاقے کرنے پر مجبور تھا۔لیکن ماں اپنے بچوں کو بھوکا مرتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔خالہ فرخندہ بہت نیک دل اور پردے کی پابند خاتون تھیں دہشتگردی کے ناسور نے ان کو دوسرے لوگوں کے کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور کر دیا کیونکہ زندہ رہنے کے لئے اور اپنے بچوں کی کفالت کرنے کے لئے یہ ضروری تھا اس طرح کام کاج شروع کرکے وہ اپنا گزر بسر کررہی تھیں۔ان کے بڑے بیٹے گل جان کو لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن بہن اور بھائیوں میں وہ بڑا تھا بھائی مرجان اور بہن نازیہ اس سے چھوٹے تھے جس کی وجہ سے اس پر زمہ داری بھی زیادہ تھی.

پڑھنے سے زیادہ وہ اپنے ماں باپ کے کام میں ہاتھ بٹانا اور پھر وقت ملتے ہی گاؤں کی مسجد میں سپارہ پڑھنے چلا جاتا تھا لیکن غریبی کی وجہ سے اسکول جانا نصیب نہ ہوسکا، لیکن وہ اپنے بہن بھائی کو ضرور اسکول بھیجتا تاکہ یہ دونوں پڑھ لکھ کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں ان کی ماں اپنے بڑے بیٹے کے اس خلوص اور قربانی کو دیکھ کر بہت افسردہ ہوتی تھی کہ وہ کتنی بے بس ہے ماں ہوکر اپنے بچوں کے لئے کچھ نہیں کرسکتی وہ راتوں کو اٹھ کر اللّٰہ سے دعائیں مانگتی تھی کہ میرے بچوں پر رحم کریں گل جان کے اپنے بہن بھائی کے لئے پیار اور ساتھ کام میں بٹانا کسی نعمت سے کم نہیں تھا وہ دعا کرتی کہ اللّٰہ گل جان کو سلامت اور خوش رکھے،مرجان اور نازیہ پڑھنے لگے گل جان اپنی ماں کے ساتھ کھیتوں میں کام کرتا رہا وقت اس قدر تیزی سے گزرتا گیا کہ پتہ نہ چلا،مرجان نے اپنے گاؤں میں اچھے نمبروں سے پاس کرلیااور نادرہ کے دفتر میں کلرک لگ گیا جو گل جان اور ان کی امی کے لئے کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔نازیہ آٹھویں تک پڑھ سکی اس کی شادی کردی گئی وہ اپنی سسرال میں خوش خرم زندگی گزار رہی تھی اب اماں گل جان کی شادی کی کوشش میں لگی تھی کہ اس عمر گزارتی جارہی ہے۔گل جان تو اپنے اماں اور بہن بھائی کے لئے بھلائی چاہنے بندہ تھا۔

جب ماں نے اسے شادی کا ذکر کیا تو کہنے لگا کہ اماں میں نے آپ کی خدمت کرنی ہے نازیہ اور مرجان کو خوش دیکھ کر مجھے بہت خوشی اور سکون ملتا ہےیہ میرے لئے کافی ہے،اماں نے کہا بیٹا آپ کی محبت اور قربانی سے اپنے گھر کی ہوگئی مرجان افسر بن گیا وہ اپنی منزل پر پہنچ گیا،اب میری خواہش یہ ہے کہ میں آپ کا گھر آباد دیکھ سکوں میرے بوڑی جان کا کچھ پتہ نہیں آج ہوں کل نہیں۔یہ سن کر گل جان خاموش ہوگیا کچھ دیر بعد اماں سے کہا کہ اماں جان جو مناسب ہوں وہ کریں وہ کریں آپ کی خوشی میرے خوشی،اس طرح گل جان شادی کے بندھن میں بندھ گیا اس کی دلہن بہت خوبصورت اور سلیقہ مند لڑکی تھی وہ گل جان کا بہت خیال رکھتی تھی اللّٰہ نے ان کی قربانیوں کا صلہ دیا،اماں ان دونوں کے پیار کو دیکھ کر خوش ہوتیں سال گزرتے رہے.

اب گل جان ایک پیاری سی بیٹی کا باپ بن گیا سارے گاؤں میں خوشی اور مبارک باد کے نعرے گونجنے لگے سب اس بچی کے اچھے نصیب کے لئے دعائیں دینے لگے، گل جان نے بچی کا نام پریال رکھا،جب پریال پانچ سال کی ہوگئی تو گل جان نے اسے اچھے سکول میں داخل کروایا کیونکہ گل جان کے دل میں پڑھنے کا شوق اب تک ژندہ تھا،گل جان بچی کو ٹیوشن بھی پڑھوتا تھا وہ پر یال سے کہتا تھا کہ تم پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بننا کیونکہ میرے پڑھنے کا شوق ادھورا رہ گیا لیکن تم نے میرے خواب کو پورا کرنا ہے، پریال معصوم سی آواز میں کہتی تھی کہ ٹیک ہے بابا جان میں ڈاکٹری کی ڈگری آپ کے ہاتھ سے لوں گی کیوں کہ ڈاکٹر بننا آپ کا بھی خواب تھا اس طرح ہم دونوں کا خواب بھی پورا ہو جائے گا اور میں ڈگری لیے وقت یہ فخر کروں گی کہ مجھے اپنے بابا جان کے ہاتھوں سے یہ ڈگری ملی ہے،گل جان کی آنکھوں میں یہ سنتے ہی آنسو آجاتے تھے کہ خدا مجھے بھی یہ دن دیکھنا نصیب کرے۔

اب گل جان اور بھی زیادہ زیادہ محنت کرنے لگا کیوں کہ پریال کو ڈاکٹر جو بننا تھا،وہ گاؤں سے شہر کے طرف روزگار کے حصول کے لئے روانہ ہوا،جاتے ہوئے پریال نے کہا بابا جان شہر سے میرے لیے گڑیا لانا بھولنا نہیں،گل جان نے پریال کو پیار کرکے کہا کہ اگر زندگی رہی تو ضرور لے کر آؤں گا۔

گل جان نے شہر میں محنت مزدوری شروع کردی پہلی مزدوری سے ہی پریال کے لیے گڑیا خریدنے کا سوچا یہ سوچ کر خوش ہو رہا تھا کہ کہ اس کو دیکھ کر پریل بہت خوش ہوگی خوب محنت اور لگن سے پڑھے گی۔کچھ دنوں سے شہر کے حالات خراب تھے۔جگہ جگہ دھماکے ہورہے تھے۔اس لئے گل جان نے شہر سے گاؤں واپسی کا سوچا لیکن اسے پہلے بیٹی سے کے گئے وعدے کے مطابق گڑیا خریدنی تھی۔وہ گڑیا خریدنے بازار گیا۔جس جگہ پر گل جان کھڑا تھا اچانک وہاں ایک زوردار دھماکا ہوا جس کی گونج دور دور تک سنائی دی۔دھماکے کے نتیجے میں بہت سے افراد موقع پر شہید ہوگئے گل جان بھی خون میں لے پت پڑا تھا۔اس کو دوسرے زخمیوں کے ساتھ اسپتال پہنچایا گیا لیکن گل جان کا بہت خون بہہ چکا خون زیادہ بہنے کی وجہ سے اس کی حالت خراب تھی ڈاکٹروں نے بھر پور کوششِ کی لیکن گل جان نہ بچ سکا اس کے ایک ہاتھ میں اپنی بیٹی کے لئے لی گئی گڑیا ضرور موجود تھی جو اس نے سختی سے پکڑ رکھی تھی۔

ڈاکٹروں نے پوری کوشش کی کہ اس گڑیا کو اس کے ہاتھ سے علیحدہ کردیں لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا مجبوراً میت کو ایسے ہی گاؤں روانہ کردیا گیا۔
جب گاؤں میں گل جان کی میت پہنچی تو ہر آنکھ اشکبار تھی گھر والوں کے کے آہ بکا سے قیامت کا سماں تھا۔اس پر معصوم بچی کے بین تھے کہ اسے گڑیا نہیں چاہیے۔باباجان آپ آٹھ جائیں۔ہم دونوں نے تو ڈاکٹر بننا ہے میرا کیا ہوگا۔گل جان کی ماں کچھ سال پہلے اپنے شوہر کو دہشت گردی کے ہاتھوں کھوچکی تھی۔اس کے لئے یہ صدمہ سہنا اب آسان نہ تھا۔اپنی جوان اولاد کو خون میں لت پت دیکھ کر وہ اپنے حواس کھو بیٹھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے