اسلام آباد: وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے چار سالہ حج پالیسی پیش کر دی، جس کے تحت حج پیکج کا تخمینہ 12 سے 13 لاکھ روپے کے درمیان رکھا گیا ہے۔
حج پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ چار سال کے لیے جامع پالیسی پیش کی جا رہی ہے، جو حج انتظامات میں بنیادی اور دیرپا بہتری کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پالیسی وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات اور رہنمائی میں تیار کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق نئی پالیسی میں ٹیکنالوجی اور شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ حج انتظامات کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔ پہلی بار رجسٹریشن اور ویٹنگ لسٹ کی سہولت بھی متعارف کرائی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سرکاری اور نجی حج اسکیم کا کوٹہ بالترتیب 60 اور 40 فیصد برقرار رکھا جائے گا، جبکہ وزارت مذہبی امور نگرانی اور ریگولیشن کے فرائض انجام دے گی۔ عازمین 10 فیصد ابتدائی ادائیگی کے ساتھ درخواست دے سکیں گے اور تمام مالی معاملات شفاف طریقے سے مکمل کیے جائیں گے۔ زائد رقم عازمین کو واپس کر دی جائے گی۔
سردار محمد یوسف کا کہنا تھا کہ نجی حج کمپنیوں کی رجسٹریشن اور نگرانی کارکردگی کی بنیاد پر ہوگی، جبکہ عازمین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ حج تربیت کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حجاج محافظ اسکیم برقرار رہے گی اور نئی پالیسی سعودی وژن 2030 کے تحت ترتیب دی گئی ہے۔ ان کے مطابق 2027 سے 2030 تک یہ پالیسی حج انتظامات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگی، جس کا مقصد عازمین کو باوقار اور سہولت سے بھرپور سفر فراہم کرنا ہے۔