وزن کم کرنا دنیا بھر میں صحت سے متعلق عام اہداف میں شامل ہے، جس کے لیے لوگ مختلف غذائی منصوبے اور ورزشیں اپناتے ہیں۔ تاہم یہ سوال اکثر زیرِ بحث رہتا ہے کہ روزانہ 10 ہزار قدم چلنا زیادہ مؤثر ہے یا 30 منٹ کی کارڈیو ورزش؟
ماہرین کے مطابق 10 ہزار قدم چلنا کم شدت والی، آسان اور زیادہ تر افراد کے لیے موزوں سرگرمی ہے، جو روزمرہ جسمانی حرکت میں اضافہ کر کے بتدریج وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
دوسری جانب 30 منٹ کی کارڈیو ورزش کم وقت میں دل کی دھڑکن تیز کر کے جسم کو زیادہ مؤثر انداز میں متحرک کرتی ہے، تاہم یہ نسبتاً زیادہ تھکا دینے والی بھی ہو سکتی ہے۔
کیلوریز جلانے کے اعتبار سے 10 ہزار قدم چلنے سے عموماً 350 سے 500 کیلوریز تک خرچ ہو سکتی ہیں، جبکہ 30 منٹ کی کارڈیو سے تقریباً 150 سے 250 کیلوریز جلتی ہیں۔ اگر تیز رفتاری یا ڈھلوان پر چلا جائے تو مزید کیلوریز بھی جلائی جا سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ قدم چلنے سے جسم دن بھر متحرک رہتا ہے، شدید بھوک یا تھکن کم محسوس ہوتی ہے اور مجموعی توانائی کا خرچ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے برعکس سخت کارڈیو کے بعد بعض افراد کو زیادہ بھوک لگتی ہے اور وہ غیر ارادی طور پر زیادہ کھا لیتے ہیں، جبکہ تھکن کے باعث باقی دن کی سرگرمیاں بھی کم ہو سکتی ہیں۔
تاہم کارڈیو ورزش دل اور پھیپھڑوں کی صحت بہتر بنانے، جسمانی برداشت بڑھانے اور وقت بچانے کے حوالے سے مؤثر سمجھی جاتی ہے۔ خاص طور پر وقفے وقفے سے کی جانے والی تیز رفتار ورزش (HIIT) ورزش کے بعد بھی اضافی کیلوریز جلانے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق وزن اور جسمانی چربی کم کرنے کے لیے بہترین حکمتِ عملی یہ ہے کہ دونوں طریقوں کو یکجا کیا جائے۔ اس کے لیے روزانہ 7,000 سے 10,000 قدم چلنے کے ساتھ ہفتے میں 2 سے 3 بار 30 منٹ کی کارڈیو ورزش اور متوازن غذا کو معمول بنایا جائے۔