28 فروری 2026 کو مشرقِ وسطیٰ کے حالات نے ایک نیا اور تشویش بھرا موڑ لیا جب اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا، جسے امریکی فوج نے “Operation Epic Fury” اور اسرائیل نے “Operation Lion’s Roar” کا نام دیا۔ اس کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیتالله سید علی خامنئی سمیت متعدد اعلیٰ حکومتی اور فوجی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی ریاستی ذرائع نے بھی بعد میں خامنئی کی موت کی تصدیق کی ہے جس سے دنیا بھر میں سیاسی اور عسکری حالات سنگین ہو گئے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ شائع کی کہ اس آپریشن میں امریکی فوج نے حساس اور خفیہ فوجی تجزیے کے لیے Claude AI نامی جدید مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا، جس نے intelligence data کو تیز رفتار انداز میں process کر کے فیصلہ سازی کی رفتار اور مؤثریت میں اضافہ کیا۔ یہ خبر سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر نئی بحث شروع ہو گئی کہ جدید جنگ میں AI کا کردار کس حد تک بڑھ چکا ہے۔
Claude AI
امریکی کمپنی Anthropic کی تخلیق ہے، خاص طور پر حساس اور خفیہ فوجی معلومات کے تجزیے کے لیے تربیت شدہ ہے، اور یہ لاکھوں صفحات پر مشتمل intelligence reports اور battlefield data کو تین چار گھنٹوں کے اندر analyze کر سکتی ہے، وہ کام جو انسانی تجزیہ کاروں کے لیے دنوں یا ہفتوں کا ہوتا ہے۔ Claude خود کسی فوجی آپریشن کا فیصلہ نہیں کرتی بلکہ انسانی فیصلہ سازوں کو اہم insights فراہم کرتی ہے تاکہ وہ زیادہ باخبر اور مؤثر فیصلے کر سکیں۔
Claude AI
کا فوجی استعمال کوئی نئی بات نہیں۔ جنوری 2026 میں وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کی گرفتاری کے آپریشن میں بھی Claude نے intelligence data کا تجزیہ کر کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی اور حکومت کو عملی فیصلہ سازی میں مدد فراہم کی۔
لیکن ایران پر ہونے والی مشترکہ کارروائی نے Claude کو تاریخی اہمیت دی، کیونکہ اس نے battlefield میں عملی intelligence فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
Claude
کے فوجی استعمال کو لے کر پہلے ہی امریکی دفاعی اداروں اور Anthropic کے درمیان اختلافات موجود تھے۔ Defense Secretary پِیٹ ہیگسیٹھ نے کمپنی کو deadline دی کہ Claude AI کو کسی بھی قانونی فوجی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے، لیکن Anthropic کے CEO داریو امودئِی نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔ ان کے مطابق Claude کو mass surveillance یا خودکار مہلک ہتھیاروں میں استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے، اور انہوں نے کہا:
"ہم اچھے ضمیر کے ساتھ ان کی بات نہیں مان سکتے۔”
یہ موقف AI کے اخلاقی استعمال اور national security کے درمیان بڑے ethical سوالات کو اجاگر کرتا ہے۔
اس اختلاف کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام وفاقی اداروں کو Claude AI کے استعمال سے روک دیا اور اسے "national security supply‑chain risk” قرار دیا۔
اس کے باوجود امریکی فوج نے ایران پر حملے کے چند گھنٹے بعد ہی Claude کو deploy کیا، اور US Central Command نے اسے intelligence assessment، target identification اور battlefield simulations کے لیے استعمال کیا جو واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں معلومات کی تیز ترین ترسیل اور فیصلہ سازی جنگی کارروائیوں میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
اس کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیتالله سید علی خامنئی کے ساتھ ساتھ چند اہم فوجی اور حکومتی شخصیات بھی ہلاک ہوئیں، جن میں
* آیتالله سید علی خامنئی — ایران کے سپریم لیڈر، جن کی موت حملے میں ایرانی ذرائع نے تصدیق کی۔
* علی شمخانی — ایران کے سیکیورٹی مشیر اور سابق آرمی کمانڈر، جو اعلیٰ حفاظتی عہدوں پر فائز تھے۔
* محمد پاکپور — اسلامی انقلاب گارڈز کور (IRGC) کے سینئر کمانڈر۔
* سلاح اسدی — ایران کے فوجی intelligence کے اہم افسر، جس نے منصوبہ بندی اور اسٹریٹجک guidance میں کلیدی کردار ادا کیا۔
* جواد پورحسین — وزارتِ اطلاعات کے خارجہ intelligence یونٹ کے سربراہ،
* محمدرضا باجستانی — وزارتِ اطلاعات کے سیکیورٹی شعبے کے سربراہ۔
* علی خیراندیش — وزارتِ اطلاعات کے "جنگِ علیه ترور” یونٹ کے سربراہ۔
* سعید احیاحمیدی — وزارتِ اطلاعات میں اسرائیل امور کے مشیر۔
ان کے علاوہ خبر رساں اداروں کی اطلاع کے مطابق حملے میں خامنئی کے داماد سید علی خامنئی اور ان کی بیٹی بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔
یہ حملے ایران کے سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ اور مختلف فوجی مقامات، خاص طور پر تہران میں کیے گئے، جس کے بعد ایران نے فوری جواب میں خطے میں موجود امریکی اڈوں اور اسرائیل کے خلاف میزائل و ڈرون حملے شروع کر دیے، جس سے تناؤ مزید بڑھ گیا۔
اس کارروائی کے بعد عالمی توانائی کی منڈی میں بھی شدید ہلچل پیدا ہوئی، کیونکہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا جس کے نتیجے میں تقریباً 20 فیصد عالمی خام تیل اور LNG کی سپلائی متاثر ہوئی، اور متعدد جہازوں کو متبادل راستوں کی طرف جانا پڑا، جس سے عالمی منڈی میں عدم استحکام پیدا ہوا۔
Anthropic
کے دفاعی شعبے سے نکلنے کے بعد Sam Altman نے فوراً Pentagon کے ساتھ معاہدہ کیا اور OpenAI کے ماڈلز، جن میں ChatGPT بھی شامل ہے، کو classified military networks میں deploy کیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ جدید AI کو عملی فوجی کارروائیوں تک integrate کر رہا ہے۔
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ مستقبل کی جنگیں صرف فوجی قوت یا زمین و فضائی طاقت تک محدود نہیں رہیں گی۔ AI کی تجزیاتی صلاحیت، information operations اور battlefield decision‑making میں تیز تجزیاتی عمل اب جنگ کے لازمی اجزاء بن چکے ہیں۔ Claude AI نے یہ دکھا دیا کہ انسانی فیصلہ سازی اور AI کے تجزیاتی کردار کے درمیان توازن برقرار رکھنا بہت ضروری ہے، تاکہ AI صرف معلومات فراہم کرے اور انسانی judgment کی جگہ نہ لے۔
Claude AI اور عام ماڈلز جیسے ChatGPT کے درمیان بھی فرق واضح ہے: ChatGPT عام معلومات، گفتگو یا تخلیقی کاموں کے لیے موزوں ہے، جبکہ Claude AI حساس، خفیہ اور فوجی ڈیٹا کے تجزیے اور خطرات کی شناخت کے لیے تربیت یافتہ ہے۔ Claude میں مضبوط حفاظتی اصول ہیں تاکہ یہ صرف انسانی نگرانی کے تحت کام کرے اور خودکار خطرناک فیصلوں سے گریز کرے۔
ایران پر حملے کے بعد دنیا بھر میں سیاسی، اخلاقی اور قانونی بحثیں شروع ہو گئی ہیں۔ ایک طرف کچھ تجزیہ کار AI کی مدد سے تیز اور مؤثر فیصلے لینے کی صلاحیت کی حمایت کرتے ہیں، تو دوسری طرف ماہرینِ اخلاق اور بین الاقوامی قوانین پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ AI کے استعمال میں واضح ethical اور قانونی حدود کا ہونا ضروری ہے۔
مستقبل کی جنگیں اب صرف فوجی قوت تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ معلوماتی حکمت عملی، intelligence operations اور AI کے تجزیاتی کردار پر بھی منحصر ہوں گی۔ Claude AI نے یہ دکھا دیا کہ انسانی ذہانت اور AI کی طاقت کو ملا کر تیز، درست اور مؤثر فیصلے ممکن ہیں، لیکن ethical اور قانونی حدود کے بغیر یہ طاقت عالمی خطرات بھی پیدا کر سکتی ہے۔ اسی لیے مستقبل میں AI کے استعمال میں نہ صرف تکنیکی بلکہ انسانی فیصلہ سازی، اخلاقیات اور بین الاقوامی قوانین کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا، تاکہ حالات انسانی صلاحیتوں اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان متوازن رہیں۔
"مستقبل کی جنگیں نہ صرف فوجی قوت بلکہ معلوماتی اور تجزیاتی حکمت عملی پر بھی انحصار کریں گی، اور AI اس عمل کا لازمی حصہ بن جائے گا۔”