جمہوری معاشروں میں صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے۔ ایک آزاد اور ذمہ دار صحافت نہ صرف عوام اور حکمرانوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ ریاستی اداروں کی کارکردگی پر بھی نظر رکھتی ہے۔ صحافی معاشرے کا وہ آئینہ ہوتے ہیں جو عوام کے سامنے حقیقت کا عکس پیش کرتے ہیں۔ اگر کسی ادارے میں بدعنوانی، نااہلی یا اختیارات کے غلط استعمال کی شکایات سامنے آئیں تو صحافی کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان معاملات کی نشاندہی کرے تاکہ متعلقہ ادارے جواب دہ بن سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت کو ہمیشہ عوامی مفاد سے جوڑا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں تنقید کو اکثر اصلاح کے بجائے مخالفت سمجھ لیا جاتا ہے۔ جب کوئی صحافی کسی سرکاری ادارے کے معاملات پر سوالات اٹھاتا ہے تو اس کے مؤقف کا جواب دلائل اور شواہد سے دینے کے بجائے بعض اوقات دباؤ، دھمکی یا قانونی کارروائی کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف آزادیٔ صحافت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ عوام کے حقِ معلومات پر بھی براہِ راست ضرب لگاتا ہے۔
گزشتہ روز مردان سے تعلق رکھنے والے صحافی منظور حسین اس وقت صحافتی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گئے جب انہوں نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مردان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مالی معاملات سے متعلق اہم سوالات اٹھائے۔ عوامی مفاد سے جڑے ان معاملات کو منظرِ عام پر لانے کے بعد انہیں قانونی نوٹس بھیج دیا گیا، جس پر مختلف صحافیوں اور صحافتی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا۔ صحافتی برادری کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی صحافی عوامی مفاد کے کسی معاملے پر سوال اٹھاتا ہے تو اس کا جواب شواہد اور حقائق سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ قانونی دباؤ کے ذریعے اس کی آواز دبانے کی کوشش کی جائے۔
منظور حسین کی جانب سے سامنے لائے گئے معاملات میں ایک اہم مسئلہ سولر منصوبے کے ٹینڈر سے متعلق تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس منصوبے کے لیے دو کمپنیوں نے درخواستیں جمع کرائی تھیں، تاہم ٹینڈر اسلام آباد کی ایک کمپنی کے حق میں منظور کیے جانے پر دوسری کمپنی نے اعتراضات اٹھائے۔ معترض فریق کا مؤقف تھا کہ یہ فیصلہ متعلقہ قواعد و ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مزید یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ منتخب کمپنی کے لائسنس کی مدت ختم ہو چکی تھی، جس کے باعث پورے عمل کی شفافیت پر سوالات پیدا ہوئے۔
ذرائع کے مطابق بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے دوران اس معاملے پر شدید تلخ کلامی ہوئی اور ماحول خاصا کشیدہ ہو گیا۔ اگر ان دعوؤں میں صداقت موجود ہے تو یہ معاملہ مزید تحقیق اور وضاحت کا متقاضی ہے۔ عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ سرکاری منصوبوں میں تمام قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری کی گئی یا نہیں۔
جب يہ سارا معاملہ سامنے آیا تو کئی سوالات کو جنم دیا کہ کس بنياد پر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مردان کا تقریباً چالیس لاکھ روپے مالیت کا سرکاری سامان ایک سابق طلبہ تنظیمی عہدیدار کو دیا گيا۔ اس سامان میں ایئر کنڈیشنرز، بیٹریاں، بڑے اور چھوٹے پرنٹرز اور یو پی ایس سمیت مختلف اشیاء شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ صرف ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ عوامی وسائل کے استعمال سے جڑا ایک اہم سوال ہے۔ سرکاری املاک عوام کی ملکیت ہوتی ہیں اور ان کے استعمال یا منتقلی کے حوالے سے مکمل شفافیت ضروری ہے۔ ایسے معاملات میں خاموشی اختیار کرنے کے بجائے حقائق کو سامنے لانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ان سوالات کا جواب دینے یا ان الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کے بجائے صحافی منظور حسین کو قانونی نوٹس بھیج دیا گیا۔ ایک ورکنگ جرنلسٹ کے خلاف اس قسم کی کارروائی نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ شاید سوال پوچھنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحافتی برادری میں اس اقدام پر تشویش پائی جاتی ہے۔
قانونی نوٹس کی خبر سامنے آنے کے بعد مختلف صحافتی تنظیموں اور صحافیوں نے اس اقدام کی مذمت کی۔ سرِفہرست پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام آباد نے اس کارروائی کے خلاف بھرپور آواز اٹھاتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت کے منافی قرار دیا اور فوری طور پر قانونی نوٹس واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ایسوسی ایشن کے مذمتی بیان کے بعد دیگر صحافتی تنظیموں اور صحافیوں نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اختلافِ رائے یا کسی خبر پر اعتراض کا جواب قانونی دباؤ نہیں بلکہ شواہد اور حقائق ہونے چاہئیں۔ صحافتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ عوامی مفاد کے معاملات پر سوال اٹھانے والے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے بجائے ان کے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیا جانا چاہیے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی ادارے یا حکومت کا دامن صاف ہے تو پھر تحقیقات سے گریز کیوں کیا جا رہا ہے؟ اگر اٹھائے گئے اعتراضات بے بنیاد ہیں تو ان کی تردید ثبوتوں کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر ان سوالات میں وزن موجود ہے تو ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ جمہوری معاشروں میں احتساب سے فرار نہیں بلکہ احتساب کا سامنا کیا جاتا ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت ہمیشہ آزادیٔ صحافت، شفافیت اور احتساب کے دعوے کرتی رہی ہے۔ اسی لیے صحافتی برادری یہ توقع رکھتی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے کو محض ایک صحافی کے خلاف کارروائی کے طور پر نہیں بلکہ ایک سنجیدہ عوامی مسئلے کے طور پر دیکھے گی۔ صحافت کا کام سوال پوچھنا ہے اور سوال پوچھنے والے کو سزا دینا کسی بھی جمہوری روایت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ ایک طرف صحافی ارشد شریف جیسے جرات مند صحافیوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف عوامی مفاد کے معاملات پر آواز اٹھانے والے صحافیوں کو قانونی نوٹسز کے ذریعے دباؤ میں لانے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ ایسے متضاد طرزِ عمل سے آزادیٔ صحافت کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت کے پاس آج بہترین موقع ہے کہ وہ اس معاملے پر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دے۔ اگر ٹینڈرنگ کے عمل یا سرکاری سامان کی منتقلی میں کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو حقائق عوام کے سامنے رکھے جائیں تاکہ افواہوں اور شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو سکے۔
اسی کے ساتھ صحافی منظور حسین کو بھی عزت و احترام کے ساتھ اپنا پیشہ ورانہ فریضہ انجام دینے کا حق دیا جانا چاہیے۔ ان کے خلاف جاری قانونی نوٹس واپس لیا جائے اور ان کے اٹھائے گئے سوالات کا جواب قانونی دھمکیوں کے بجائے شواہد کی بنیاد پر دیا جائے۔ یہی رویہ جمہوریت، شفافیت اور انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوگا۔
اگر ایسا نہ کیا گیا تو صحافتی برادری میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ بدعنوانی کے الزامات کا جواب تحقیقات سے نہیں بلکہ سوال اٹھانے والوں کو دبانے سے دیا جا رہا ہے۔ ایک مضبوط حکومت وہی ہوتی ہے جو تنقید سننے کا حوصلہ رکھتی ہو، احتساب سے نہ گھبراتی ہو اور سچ بولنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہو۔ آج خیبر پختونخوا حکومت کے سامنے اصل سوال یہی ہے کہ وہ صحافت کو اپنا شراکت دار سمجھتی ہے یا اپنا مخالف۔ اور اسی سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے کہ انصاف واقعی موجود ہے یا پھر انصاف اب بھی کہیں گم ہے۔