” سات جنم ” تاریخ، علامت اور تہذیبی کشمکش کا بیانیہ

پاکستانی فکشن میں بعض تخلیقات ایسی ہوتی ہیں جو محض کہانی نہیں رہتیں بلکہ اپنے عہد کی فکری، سماجی اور تاریخی پرتوں کو سمیٹ کر ایک مکمل بیانیہ تشکیل دیتی ہیں۔شفقت نغمی کا ناول “سات جنم” بھی اسی قبیل کی ایک اہم اور قابلِ توجہ کاوش ہے،جو پاکستان کی سیاسی، مذہبی، سماجی اور معاشی تاریخ کو علامتی اور فنی انداز میں پیش کرتا ہے۔

ناول کی زبان اس کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے-نرم، شیریں اور دلنشیں، جس میں نثر کے اندر شعریت کی ایک لطیف جھلک موجود ہے۔ مصنف نے اشارات، کنایات، علامات اور تلمیحات کو نہایت مہارت کے ساتھ برتا ہے، جس سے متن میں فکری گہرائی اور جمالیاتی حسن پیدا ہو گیا ہے۔

“سات جنم” چھ حصوں پر مشتمل ہے- امیدِ بہار رکھ، دیارِ عشق میں، تہذیبوں کا تصادم، لوٹ کے بدھو، خوابوں کی دنیا، راجہ گدھ -یہ تمام عنوانات خود اپنے اندر ایک علامتی اور تہذیبی مفہوم رکھتے ہیں۔ہر باب میں آسمانی کتب، مفکرین اور شعرا کے اقتباسات شامل کر کے مصنف نے اپنے بیانیے کو فکری وسعت عطا کی ہے۔

ناول کے کردار،بالخصوص جولیا اور سکندر، تہذیبی تصادم اور مذہبی انتہاپسندی کی نمائندگی کرتے ہیں۔اسی طرح “ٹخنوی” اور “لشکرِ قتال” جیسے استعارے تبلیغی اور جہادی بیانیوں کے باہمی تصادم کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ تمام عناصر محض کہانی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے پیچیدہ تضادات کی علامتی ترجمانی ہیں۔

کہانی کا جغرافیہ ضلع اٹک کے علاقے چج کے ایک گاؤں “بہبودی” میں قائم کیا گیا ہے، جو خود ایک علامت بن کر ابھرتا ہے۔ محمد خان کی نسل در نسل کہانی جو میران شاہ وزیرستان سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوتا ہے-درحقیقت ایک وسیع تاریخی اور سماجی سفر کی نمائندگی کرتی ہے۔ ببول (کیکر) کا درخت اور اس کے نیچے واقع کنواں، جن کا پانی کبھی میٹھا اور کبھی کڑوا ہو جاتا ہے، ناول میں علامتی نظام کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔

ناول میں مذہبی طبقے کے روایتی رویے، تعلیم سے گریز، اور فکری جمود کو بھی تنقیدی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ محمد خان کے کردار کے ذریعے یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح محدود مذہبی تعلیم انسان کو نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا کر سکتی ہے۔

بیانیہ جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے، حقیقت اور خواب کی سرحدیں دھندلا جاتی ہیں۔ آخرکار محمد خان امریکہ پہنچتا ہے جہاں اس کا مکالمہ مسٹر ٹرنر سے ہوتا ہے-ایک ایسا کردار جو قاری کو معاصر عالمی سیاست کی یاد دلاتا ہے۔ “میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ عدالت کرے گی” جیسے جملے ناول کو محض ادبی تخلیق سے اٹھا کر ایک فکری مکالمہ بنا دیتے ہیں، جہاں وقت خود منصف کے طور پر سامنے آتا ہے۔

ناول کا اختتام بھی اسی علامتی اور فکری شدت کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں اقتدار، خواہش اور انجام کے درمیان ایک گہرا ربط قائم کیا گیا ہے۔

ببول کے درخت میں بسی ایک پراسرار قوت کے ہاتھوں محمد خان کا انجام، دراصل انسانی غرور اور اقتدار کی ناپائیداری کی علامت ہے۔

شفقت نغمی،جو ضلع اٹک کے گاؤں بہبودی سے تعلق رکھتے ہیں،ایک عالم و فاضل اور سول سروس سے ریٹائرڈ شخصیت ہیں۔ اس سے قبل وہ انگریزی میں “Chain of Being” اور “The Sins Left Behind” جیسے ناول تحریر کر چکے ہیں۔ وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ ان پر ابنِ صفی کا اثر ہے، جو ان کے بیانیے کی روانی اور دلچسپی میں جھلکتا ہے۔

اس ناول کو مستنصر حسین تارڑ، محمد حمید شاہد، حسن نثار، ڈاکٹر فاروق عادل، ڈاکٹر وحید احمد، ظفر حسن رضا اور اصغر ندیم سید جیسے ممتاز اہلِ قلم نے سراہا ہے، جو اس کی ادبی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔

ناول کے آغاز میں پیش کیا گیا اقتباس دراصل پورے بیانیے کا نچوڑ ہے: ایک ایسی قوم کی کہانی، جو معجزوں کی امید پر زندہ ہے، اور جس کے لیے ہر طویل رات کے بعد ایک روشن صبح کی آرزو ابھی تک باقی ہے۔

یوں “سات جنم” محض ایک ناول نہیں بلکہ پاکستان کی سات دہائیوں پر محیط ایک فکری، تاریخی اور علامتی داستان ہےجو قاری کو سوچنے، سوال اٹھانے اور اپنے عہد کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے