پاکستان میں آزادی صحافت کو درپیش خطرات تشویشناک ہیں، ڈیجیٹل میڈیا الائنس فار پاکستان (ڈیجی میپ)

اسلام آباد: دنیا بھر میں آج ورلڈ پریس فریڈم ڈے منایا جا رہا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہارِ رائے کی صورتحال مسلسل سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ میڈیا پر مختلف نوعیت کی پابندیاں، صحافیوں کو درپیش معاشی مشکلات، آن لائن میڈیا پر بڑھتے ہوئے دباؤ، اور اظہارِ رائے کو محدود کرنے والے قوانین جمہوری اقدار کے لیے خطرناک رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا الائنس فار پاکستان (ڈیجی میپ) کے صدر سبوخ سید اور جنرل سیکرٹری عدنان عامر نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں صحافت نہ صرف معاشی دباؤ بلکہ ریاستی، سیاسی، فرقہ وارانہ اور جرائم پیشہ عناصر کے خطرات کا بھی سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گزشتہ برسوں کے دوران ایک سو سے زائد صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل کیے جا چکے ہیں، جبکہ متعدد کیسز میں آج تک قاتلوں کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ کئی خاندان آج بھی یہ جاننے سے محروم ہیں کہ ان کے پیاروں کو کیوں قتل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پیکا جیسے قوانین اور ان کا مبہم و مخصوص استعمال آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہارِ رائے کے لیے شدید خدشات پیدا کر رہا ہے۔ اگر کسی قانون کا استعمال شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدار نہ ہو تو اس سے نہ صرف صحافی بلکہ پورا معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔

سبوخ سید نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور اظہارِ رائے سے متعلق کسی بھی قانون سازی سے قبل صحافی تنظیموں، میڈیا اداروں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سول سوسائٹی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مکمل اور بامعنی مشاورت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو ایک زندہ، بیدار اور جمہوری معاشرہ بنانا ہے تو آئین کی بالادستی، جمہوری آزادیوں کا تحفظ، اظہارِ رائے کی آزادی اور صحافیوں کی سلامتی کو یقینی بنانا ہوگا۔

انہوں نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض مفاداتی اور منظم گروہوں نے اپنے مخصوص عناصر کو صحافت کا لبادہ پہنا کر سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے صحافتی صفوں میں داخل کر دیا ہے، جس کے باعث پیشہ ور صحافت، عوامی اعتماد اور معلومات کے نظام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت اور پروپیگنڈا میں فرق قائم رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ڈیجی میپ نے اس موقع پر خضدار پریس کلب اور بلوچستان سمیت ملک بھر کے اُن صحافیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جو مشکل اور خطرناک حالات میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ خضدار پریس کلب کے دس سے زائد صحافی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ خضدار پریس کلب کے ایک سابق صدر کو اسی روز قتل کر دیا گیا تھا جب پوری دنیا میں آزادیٔ صحافت کا عالمی دن اور جشن منایا جا رہا تھا، مگر افسوس کہ آج تک ان کے قاتلوں کو بے نقاب نہیں کیا جا سکا۔

ڈیجی میپ نے حکومت، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے تحفظ، آزادیٔ صحافت کے فروغ، اور صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کے احتساب کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے