راولپنڈی کے علمی و ادبی حلقوں کی تاریخ اگر تحریر کی جائے تو اس میں چند ایسے نام ہمیشہ نمایاں رہیں گے جنہوں نے نہ صرف علم کو فروغ دیا بلکہ اپنی فکر اور بصیرت سے آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ کا کام کیا۔ انہی ناموں میں ایک نام پروفیسر ڈاکٹر سرور کامران کا بھی ہے، جو 21 دسمبر 1956 کو اس دنیا میں آئے۔ شہرِ راولپنڈی، جسے ہمیشہ سے ادیبوں اور شاعروں کا مسکن سمجھا جاتا رہا ہے، ڈاکٹر سرور کامران کی علمی تربیت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ آپ کی شخصیت میں راولپنڈی کی مٹی کی وہ حلاوت اور روایات کی وہ پاسداری نظر آتی ہے جو ایک سچے تخلیق کار کا خاصہ ہوتی ہے۔
ڈاکٹر سرور کامران کی شخصیت کا سب سے منفرد پہلو ان کا دو جہتی وژن تھا۔ وہ بیک وقت ایک ممتاز ریاضی دان اور ایک صاحبِ طرز ادیب و شاعر تھے۔ سائنس اور ادب کا یہ حسین امتزاج انہیں ان کے ہم عصروں میں منفرد مقام عطا کرتا تھا۔ جہاں وہ رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی میں بطور ڈین خدمات سرانجام دے رہے تھے، وہیں ان کی شاعری اور تنقیدی مضامین اردو ادب کے معتبر جرائد کی زینت بن رہے تھے۔ یہ نایاب خصوصیت انہیں اس قابل بناتی تھی کہ وہ جدید سائنسی شعور کو ادبی تنقید میں شامل کر سکیں اور ادب کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکیں۔
یہ امر قابلِ غور ہے کہ ریاضی اور شاعری کو عام طور پر متضاد تصور کیا جاتا ہے۔ ریاضی منطق، استدلال اور قواعد کا نام ہے، جبکہ شاعری جذبے، تخیل اور بے خودی کا فن۔ لیکن ڈاکٹر سرور کامران نے ثابت کیا کہ دونوں میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ دونوں کا مرکز ایک ہے حقیقت کی تلاش۔ ریاضی دان حقیقت کو مساوات میں ڈھونڈتا ہے اور شاعر حقیقت کو لفظ میں۔ ڈاکٹر صاحب نے دونوں طرح کی حقیقت کو سمیٹا تھا۔ وہ ریاضی کی خشک اور بے روح مساواتوں میں بھی حسنِ بیان ڈھونڈ لیتے تھے اور شاعری کی لطیف کیفیات کو بھی سائنسی منطق سے ہم آہنگ کر لیتے تھے۔ یہی ان کی نایاب خوبی تھی۔
ڈاکٹر سرور کامران کے ادبی سفر کو ڈاکٹر رشید امجد نے اپنی خود نوشت عاشقی صبر طلب میں ایک اہم واقعہ قرار دیا۔ ان کے مطابق سرور کامران کی آمد نے راولپنڈی کے حلقہ اربابِ ذوق میں نئی روح پھونک دی۔ اس وقت محفلوں میں مغربی ادب کے حوالے محدود تھے، مگر سرور کامران نے ایلیٹ، ایزرا پاؤنڈ اور ییٹس جیسے ادیبوں کو مباحث کا حصہ بنا کر ادبی افق کو وسیع کیا۔
ڈاکٹر اعجاز راہی نے اپنی خود نوشت بہت طے کر لیا ہم نے میں سرور کامران کی شخصیت اور خدمات کو تفصیل سے بیان کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ راولپنڈی کے اکثر نئے ادیب مغربی ادب سے ناآشنا تھے، مگر سرور کامران لاہور کے ادبی حلقوں سے تربیت یافتہ ذہن لے کر آئے اور بحثوں کو ایک نیا رنگ دیا۔ ان کے مطابق سرور کامران کی شمولیت نے نئے ادیبوں کے اثر کو بڑھایا اور حلقے کی فضا کو بدل دیا۔ نثار ناسک کی قیادت میں نوجوان ادیبوں کے ایک گروہ نے حلقے میں بغاوت کی، جس میں رشید امجد، علیم درانی، سلیم کوثر اور دیگر شامل تھے۔ سرور کامران اس گروہ میں ایک خوشگوار اضافہ ثابت ہوئے۔ ان کی آمد سے بحثوں میں تازگی آئی اور نئے لکھنے والوں کو زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوا۔ یہ تبدیلی اس بات کی علامت تھی کہ سرور کامران نہ صرف ادیب بلکہ فکری رہنما بھی تھے۔
محمد منشا یاد کے ساتھ ڈاکٹر سرور کامران کی دوستی محض دو ادیبوں کا تعلق نہیں بلکہ ایک فکری رفاقت تھی، جس میں منشا یاد کی افسانہ منزل پر ہونے والی نشستوں میں ان کی شرکت لازمی سمجھی جاتی تھی۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے ادبی منظرنامے کی تشکیل کے دور میں سرور کامران، رشید امجد اور منشا یاد کا مثلث بنیادی کردار ادا کر رہا تھا، اور سرور کامران اکثر منشا یاد کے افسانوں پر اپنی ناقدانہ رائے دیتے ہوئے گہرے علمی تبادلے کرتے تھے۔ یہ رفاقت بعد میں زندگی بھر کی دوستی میں ڈھل گئی، جس میں دونوں نے ایک دوسرے کے فن کو سراہا۔ منشا یاد کی کتاب شخصیت اور فن مصنف اسلم سراج الدین میں اس رفاقت کا تفصیلی ذکر موجود ہے، جو پاکستان اکادمی ادبیات اسلام آباد سے شائع ہوئی اور منشا یاد کی زندگی کا مستند ترین ریکارڈ مانی جاتی ہے۔ اسلام آباد کے ادبی منظرنامے کی تشکیل میں رشید امجد کی تنقیدی بصیرت، منشا یاد کی افسانہ نگاری اور سرور کامران کی علمی وسعت نے مل کر ایک ایسا ادبی ماحول تخلیق کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوا۔
ان کے بارے میں ایک بات اور بہت اہم ہے کہ وہ کسی بھی علمی بحث میں حصہ لیتے تو اپنی بات کو دلیل اور استدلال سے ثابت کرتے۔ وہ کبھی کسی کی بات کو بلاوجہ رد نہیں کرتے تھے اور نہ ہی کسی کی جذباتی خوشامد کرتے تھے۔ ان کی علمی دیانت ان کی شخصیت کا امتیازی وصف تھی۔ان کی شخصیت کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ وہ ہمیشہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ادب کا مستقبل نئے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے، اس لیے ان کی رہنمائی کرنا سینئر ادیبوں کی ذمہ داری ہے۔ وہ ابتدائی ادیبوں کے مخطوطات پڑھتے، انہیں مشورے دیتے اور انہیں شائع کرنے میں مدد کرتے تھے۔
ڈاکٹر سرور کامران کی تحقیقی خدمات کا اصل محور اقبالیات تھا، جہاں انہوں نے علامہ اقبال کے فلسفے کو نئے زاویوں سے پرکھتے ہوئے اسے عصرِ حاضر کے مسائل سے جوڑا اور اپنی کتاب مطالعہ اقبال چند نئے زاویے کے ذریعے اقبال کے فکری نظام کی گہرائی کو نمایاں کیا۔ وہ روایتی تشریحات سے ہٹ کر اقبال کے تصورِ خودی کو جدید نفسیاتی و سماجی تناظر میں دیکھتے اور مردِ مومن کو ایک عملی نمونہ قرار دیتے تھے، جسے اپنایا جا سکتا ہے۔ ان کی تنقید میں تخریب کے بجائے تعمیر کا عنصر غالب تھا، اور وہ متن کو اس کے سماجی و ثقافتی پس منظر میں دیانت و بصیرت کے ساتھ پرکھتے تھے، جس نے انہیں ایک منفرد ناقد بنایا۔ ناقدین کے نزدیک ان کا اسلوبِ بیان اقبال کی اردو اور فارسی شاعری کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے، جبکہ ان کے مقالات میں نئے حقائق کی تلاش اور پرانے نظریات کی نئی تفہیم ملتی ہے۔ اقبالیات کے ساتھ ساتھ انہوں نے میر، غالب، انیس، دبیر اور داغ جیسے کلاسیکی شعرا پر بھی گہرے تحقیقی مضامین لکھے اور اس بات پر زور دیا کہ کلاسیکی شاعری کو محض لفظی تشریح کے بجائے اس کے عہد کے سماجی و ثقافتی پس منظر میں پڑھا جائے تاکہ اس کی اصل عظمت کا ادراک ہو سکے۔
ڈاکٹر سرور کامران کی تصانیف ان کے گہرے علمی مشاہدے، وسعتِ مطالعہ اور منفرد تحقیقی ذوق کی آئینہ دار ہیں۔ ان کی اہم کتب اور ان کے مندرجات کا تفصیل ذیل ہے
۔ مطالعہ اقبال چند نئے زاویے
یہ کتاب ڈاکٹر سرور کامران کی علمی شناخت کا معتبر حوالہ ہے۔ اس میں انہوں نے فکرِ اقبال کے ان گوشوں کو وا کیا ہے جو عام طور پر تنقیدی بحثوں میں اوجھل رہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اقبال کے مردِ مومن کے تصور کو محض ایک فلسفیانہ اصطلاح کے بجائے عصرِ حاضر کے تقاضوں اور عملی زندگی کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب راولپنڈی اور لاہور کے ممتاز اشاعتی اداروں سے شائع ہو کر دادِ تحقیق حاصل کر چکی ہے۔
۔ کلاسیکی شعری روایت اور اردو تنقید
اس تصنیف میں ڈاکٹر صاحب نے اردو کی کلاسیکی شاعری، بالخصوص میر، سودا اور غالب کے فنی محاسن کا محققانہ جائزہ لیا ہے۔ کتاب میں دبستانِ دہلی اور دبستانِ لکھنؤ کا تقابلی مطالعہ نہایت بصیرت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کے لیے ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ مدلل بحث کی ہے کہ کلاسیکی شاعری محض گل و بلبل کے افسانے نہیں بلکہ اپنے عہد کے سماجی، سیاسی اور تہذیبی احوال کی سچی عکاس ہے۔
تنقیدی تناظر
یہ کتاب ڈاکٹر سرور کامران کے ان تحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے جو مختلف قومی و بین الاقوامی سیمینارز میں پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔ اس میں جدید اردو افسانے اور نظم کے بدلتے ہوئے رجحانات کے ساتھ ساتھ ادبی تھیوری اور معاصر ادب کے باہمی تعلق کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ مجموعہ ان کی نظریاتی پختگی اور عالمی ادبی تحریکوں سے ان کی وابستگی کا ثبوت ہے۔
نثری اسالیب کا ارتقا
اس کتاب میں فورٹ ولیم کالج سے لے کر دورِ حاضر تک کی اردو نثر کے ارتقائی سفر کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے سرسید احمد خان، ڈپٹی نذیر احمد، پریم چند اور دیگر مشاہیرِ ادب کے اسالیبِ نگارش کا تجزیہ نہایت سادہ اور شگفتہ زبان میں کیا ہے۔ یہ تصنیف لسانیات اور اسلوب نگاری کے طالب علموں کے لیے ایک گراں قدر تحفہ ہے.
کتب کے علاوہ ڈاکٹر صاحب کے بیسیوں تحقیقی مضامین ملک کے معتبر ادبی جرائد مثلاً فنون، اوراق، دستاویز، اردو اور تخلیق میں شائع ہوتے رہے۔ ان کی تحریروں میں علمی گہرائی کے ساتھ ساتھ ایسی سلاست اور روانی پائی جاتی تھی جو قاری کی دلچسپی کو آخر تک برقرار رکھتی تھی۔
ڈاکٹر سرور کامران بحیثیت استاد اپنی مثال آپ تھے۔ ان کے شاگرد آج ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی علمی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کے شاگرد ڈگری کے ساتھ ساتھ ذوق اور جستجو لے کر نکلے، اور آج کئی خود بڑے استاد اور محقق ہیں۔ رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی میں بطور ڈین انہوں نے اردو شعبے کو نئی سمت دی، نصاب میں جدت، تحقیقی کاموں کی حوصلہ افزائی اور بین الاقوامی سیمینارز کے ذریعے اردو ادب کو ایک بلند مقام عطا کیا۔
ڈاکٹر سرور کامران کی شاعری ان کی ذات کا عکس تھی، جس میں داخلیت، درد اور گہرائی نمایاں تھی۔ ان کے ہاں علامتیں محض زیبِ بیان نہیں بلکہ معنی کی توسیع کا ذریعہ تھیں—قید سماجی جبر، آواز باطنی شعور، رات وجودی تنہائی اور دیواریں انسانی حدوں کی علامت۔ ان کا انداز ناصر کاظمی کی داخلیت اور مظہر الاسلام کے فکری زاویے کی یاد دلاتا ہے، مگر اپنی انفرادیت کے ساتھ۔ اردو تنقید میں بھی ان کا قلم دیانت اور انصاف کا پیمانہ تھا؛ وہ تخلیق کے اندر اتر کر کرداروں کی سانس سناتے اور مصرعوں کے پسِ پردہ کرب کو لفظ دیتے۔ ان کی نثر میں ٹھہراؤ اور متانت تھی، مگر بے جان نہیں، کیونکہ وہ لفظ کو امانت سمجھتے تھے، لفاظی نہیں کرتے تھے۔
وہ پاکستان اکادمی ادبیات کے مختلف ادبی ایوارڈز کے لیے بطور منصف خدمات سرانجام دیتے رہے۔ مثال کے طور پر محمود احمد قاضی کی کتاب کتھا نگر کے لیے وہ جج مقرر ہوئے تھے۔ ان کی موجودگی میں کسی بھی ادبی تقریب کا وقار بڑھ جاتا تھا۔ ان کے فیصلے ہمیشہ غیر جانبدارانہ اور علمی دیانت پر مبنی ہوتے تھے۔
ان کی علمی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے راولپنڈی کے متعدد ادبی اداروں نے انہیں اعزازات سے نوازا۔ انہیں حلقہ اربابِ ذوق کی طرف سے سندِ امتیاز، پاکستان اکادمی ادبیات کی طرف سے بہترین محقق ایوارڈ اور دیگر متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر سرور کامران کی علمی و ادبی خدمات کے مستند حوالہ جات درج ذیل ہیں
جامعاتی تحقیقی مقالات کے حوالے سے، ڈاکٹر سرور کامران کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پاکستان ریسرچ ریپوزٹری میں ایک بنیادی حوالہ ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی جامعات جیسے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز یا علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے ریکارڈز میں ان کی نگرانِ تحقیق کے طور پر خدمات درج ہیں۔
ادبی جرائد میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہے۔ ان میں مجلہ اردو انجمن ترقی اردو پاکستان، مجلہ تخلیق لاہور، اور اخبارِ اردو مقتدرہ قومی زبان شامل ہیں۔
اخبارات کے ادبی صفحات میں روزنامہ جنگ راولپنڈی اور روزنامہ نواۓ وقت کے ادبی ایڈیشنز میں ان کے کالم، کتابوں پر تبصرے اور ادبی نشستوں کی رپورٹس ان کی فعال ادبی زندگی کا دستاویزی ثبوت ہیں۔
ڈاکٹر سرور کامران 11 اپریل 2024 کو راولپنڈی میں ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے، ان کی وفات نے اردو ادب و علمی حلقوں میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیا جو شاید کبھی پُر نہ ہو سکے۔ ان کی آخری رسومات میں شاگردوں، دوستوں اور مداحوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی اور ہر زبان پر یہی تھا کہ ہم نے اپنا ایک روشن ستارہ کھو دیا۔ ادبی جرائد میں تعزیتی مضامین شائع ہوئےشاگردوں نے سیمینارز منعقد کیے، اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کی علمی میراث کے اعتراف میں رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی نے ان کے نام پر ایک ادبی کرسی قائم کرنے کا اعلان کیا، جبکہ ان کے نامکمل تحقیقی کاموں کو مکمل کرنے کے لیے ایک ٹرسٹ بھی بنایا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ محض استاد نہیں بلکہ ایک فکری رہنما تھے جنہوں نے دلوں میں دائمی جگہ بنائی۔