روس نے ایران کو ایسے جدید ڈرون فراہم کرنے کی پیشکش کی جو جام نہیں کیے جاسکتے: برطانوی جریدے کا دعویٰ

برطانوی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے ایران کو ایسے جدید ڈرون فراہم کرنے کی پیشکش کی جو جام نہیں کیے جاسکتے۔

برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق آپٹک فائبر کے ذریعے استعمال ہونے والے یہ ڈرون خلیج فارس اور دیگر علاقوں میں امریکی اور اتحادی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جا سکتے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس کے مرکزی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ (GRU) کے تیار کردہ اس خفیہ منصوبے میں ایران کو 5 ہزار قلیل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور طویل فاصلے کے لیے سیٹلائٹ کی رہنمائی سے چلنے والے نظاموں کی نامعلوم تعداد فراہم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

ایسے ہی ڈرون روسی افواج نے یوکرین کے خلاف کامیابی سے استعمال کیے ہیں۔

جریدے کے مطابق حاصل ہونے والی دستاویز میں یہ واضح نہیں کہ یہ روس نے ایران کو یہ پیشکش کب کی اور اسے قبول بھی کیا گیا یا نہیں۔

واضح رہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ ماسکو پہلے ہی خطے میں امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے میں مدد کے لیے ایران کو انٹیلی جنس فراہم کر چکا ہے۔

امریکی میڈیا کئی بار دعویٰ کرچکا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں روس بالواسطہ شامل ہوکر ایران کو امریکی اہداف پر حملوں کے لیےخفیہ معلومات دے رہا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے