10 مئی 2026 کو آپریشن بنیان المرصوص (معرکہ حق) کو ایک سال مکمل ہو گیا۔ معرکہ حق پاکستان کی عسکری اور سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا جس نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے عزت و وقار میں اضافہ کیا۔
22 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر کے انت ناگ ضلع کے قریب پہلگام کے گھاس میدان میں ایک دہشت گرد حملہ ہوا جس میں 28 سیاح موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ اس کی تفصیلات یہ ہیں کہ تقریباً دو بج کر 50 منٹ پر کم از کم چار عسکریت پسند وادی کے گھاس میدان میں داخل ہوئے۔ اس علاقے کو چاروں طرف سے گھنے چیڑ کے جنگلات نے گھیرا ہوا ہے اور یہ میدان پہلگام سے تقریبا سات کلومیٹر دور ہے۔ اس جگہ کو منی سوئزر لینڈ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور یہ مقام عوام کے لیے ایک مقبول تفریحی مقام ہے۔
۔ہندوستانی میڈیا کے مطابق ان عسکریت پسندوں نے فوجی طرز کی وردیاں پہن رکھی تھیں اور ان کے پاس اے کے 47 ایم ایم کے چار کاربائنز تھے۔ اس حملے میں 28 لوگ ہلاک ہوئے جن میں بھارت کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے لوگوں کے علاوہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے دو مقامی افراد اور نیپال اور متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے۔
اس حملے کا الزام فورا ہی پاکستان پر لگا دیا گیا۔
30 اپریل کو لیفٹننٹ جنرل احمد شریف ڈی جی ائی ایس پی آر نے اس فالس فلیگ اپریشن کا پردہ چاک کیا اور ثبوتوں کے ساتھ حقائق بیان کئے۔ ڈی جی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ فالس فلیگ اپریشن ہندوستانی ایجنسی را کا منصوبہ تھا۔ اگر ہندوستان اس میں ہمیں ملوث کر رہا ہے تو اس کے ثبوت فراہم کئے جائیں۔اب تو ایک سال گزر جانے کے بعد بھی بھارت نے اس دہشت گرد حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے ثبوت مہیا نہیں کیے۔
پہلگام کا علاقہ پاکستانی بارڈر سے 200 کلومیٹر دور ہے اور یہ ایک دشوار گزار علاقہ ہے جہاں پہنچنا آسان نہیں لیکن وقوعہ کے 10 منٹ بعد ہندوستان کے ایک تھانے میں ایف ائی آر کا درج ہو جانا اس واقعے کی اصلیت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جس پر بھارت کے اندر سے بھی آوازیں سنائی دیتی ہیں کہ کیسے بغیر تحقیق کے پاکستان پر الزام لگا دیا گیا۔
بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناتے ہوئے آپریشن سندور لانچ کیا۔ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات کو بھارت نے 80 جنگی طیاروں کی مدد سے میزائیلوں کے بہت بڑے حملے کے بعد یہ دعوی کیا کہ اس نے بڑی کامیابی سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کے 9 مراکز کو نیست ونابود کر دیا۔ یہ مراکز کہاں واقع تھے یہ خود پاکستان کو بھی نہیں معلوم کیونکہ ہمارے ہاں کوئی ایسے مراکز تھے ہی نہیں۔
مگر بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ ہندوستان نے اپنی ہزیمت اور شرمندگی مٹانے کے لیے 8 اور 9 مئی کو پاکستان کی فوجی تنصیبات پر بھی میزائل داغ دیے جس سے پاکستان کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا کیونکہ کسی بھی ملک کی فوجی تنصیبات پر حملے کا مطلب اعلان جنگ ہے تاہم پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیشگی اعلان کیا کہ مناسب وقت پر اس حملے کا جواب دیا جائے گا۔
اس حملے کے جواب میں 10 مئی کی صبح پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کیا اور پھر جو ہوا وہ سب نے دیکھا کہ پاکستان نے اچانک اور بھرپور حملے میں بھارت کے پانچ رافیل طیارے مار گرائے۔ پاکستان کے اس کامیاب فضائی حملے سے دشمن کے اوسان خطا ہوگئے کیونکہ یہ طیارے نہ صرف بہت قیمتی تھے بلکہ جدید قسم کے ہتھیاروں سے لیس ہونے کی وجہ سے ناقابل تسخیر سمجھے جاتے تھے۔ ایک رافیل طیارے کی قیمت 81 ارب روپے بنتی ہے۔ مودی سرکار نے ہندوستانی عوام کو فرانس سے یہ مہنگے ترین طیارے خریدتے وقت یہ یقین دلایا تھا کہ اب ہندوستان ناقابل تسخیر ہے مگر پاکستانی پائلٹس کی عمدہ کارکردگی اور پاک فضائیہ کی جنگی حکمت عملی نے دنیا کی عسکری تاریخ بدل ڈالی۔ مغربی ٹیکنالوجی کی برتری ایک دم ختم ہو گئی اور ہندوستانی فضائیہ کو جن طیاروں پر بہت مان تھا وہ پلک جھپکتے زمین کا ایندھن بن گئے۔ اس واقعے سے نہ صرف پوری دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی بلکہ پاکستان کی فضائی برتری بھی واضح ہو گئی ۔
10 مئی 2025 کو جو کچھ ہوا وہ بھارت کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔ صرف پانچ گھنٹوں میں آپریشن بنیان المرصوص میں استعمال ہونے والے الفتح ون میزائل کی مدد سے پاکستان نے دشمن کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ دشمن کے 26 ٹکانوں پر بیک وقت حملہ کر کے پاک فضائیہ نے اپنی برتری ثابت کی جس سے دشمن کے ہاں صف ماتم بچھ گئی اور وہ اچانک جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور ہو گیا۔
یہ واضح رہے کہ کارگل کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان یہ سب سے بڑا معرکہ تھا اور اس آپریشن بنیان المرصوص نے ہندوستان کے چھکے چھڑا دیے۔
پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق صبح تین بج کر 45 منٹ پر حملے کا اغاز کیا گیا۔ ان حملوں میں پٹھان کوٹ اور اودم پور جیسے ہوائی اڈوں پر میزائل گرائے گئے اور ان کے میزائل براموس کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا ۔ ایس 400 جیسے جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹم کو تباہ کیا گیا۔ پاکستانی سائبر ٹیکنالوجی کے یونٹ نے ہندوستان کے شمال میں موجود پاور گرڈ کو مکمل طور پر بے اثر کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں متعدد سرکاری ویب سائٹوں کو بھی ہیک کر لیا گیا۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا کہ دونوں ممالک میں سول ایویشن ریگولیٹرز نے فضائی حدود کے کئی حصے بند کر دیے ۔ ہندوستان کو 32 شمالی ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل کرنا پڑ گئیں۔
ہندوستان میں اس حملے سے 48 اموات بھی ہوئیں اور دشمن گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا۔ بقول شاعر
دشمن نے پیش قدمی اچانک ہی روک لی
بانکے سجیلے جسموں کی دیوار دیکھ کر
ہماری فوج کا نظریہ جنگ اسلامی نظریہ جنگ کے عین مطابق ہے۔ جب دشمن ہار مان کر صلح کی بات کرے تو ہم اس کی بات سنتے ہیں۔
عدو نے رکھ دیئے ہتھیار میرے قدموں میں
پھر اس کے بعد نہ کچھ جنگ کا جواز رہا
جب 10 مئی کی شام کو ہندوستان کے محکمہ تعلقات عامہ نے اپنی پریس بریفننگ میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اس جنگ کو طول نہیں دینا چاہتے اور وہ پاکستان سے بھی De escalation کی توقع رکھتے ہیں تو اسی شام یعنی 10 مئی کو پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے چار بجے جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا۔ 11 مئی کو پاکستان کی فتح پر ملک بھر میں یوم تشکر منایا گیا۔ شہباز شریف وزیراعظم پاکستان نے اس روز قوم سے خطاب کیا اور افواج پاکستان اور پاکستان کے عوام کو خراج تحسین پیش کیا۔
اس جنگ میں پاکستان نے نہ صرف جنگی محاذ پر فتح حاصل کی بلکہ سفارتی محاذ پر بھی ہمیں کامیابی حاصل ہوئی اور اقوام عالم میں پاکستان کو پہلے سے زیادہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ اس معرکے میں پاکستان کی عسکری قیادت کے بروقت فیصلے پاکستان کی جیت کا سبب بنے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی پیشہ وارانہ مہارت نے پاکستان کو اقوام عالم میں ایک نمایاں مقام پر فائز کیا۔ پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ایک اہم مقام عطا ہوا اور پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے سرگرم کردار ادا کرنے پر مامور ہوا۔
داخلی طور پر پاکستانی افواج پر عوام کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوا۔ ملکی سطح پر اتفاق و اتحاد کی فضا قائم ہوئی اور معیشت کا پہیہ چلتا دکھائی دیا۔ معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہر مشکل وقت میں ہم دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر دکھائیں گے اور اسی اتحاد اور پک جہتی کا مظاہرہ کریں گے جس کی مثال ہم نے 10 مئی 2025 میں قائم کی۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو.(آمین)