ماں کائنات کا سب سے خوبصورت، معتبر اور مقدس لفظ ہے۔ یہ ایک ایسی ہستی کا نام ہے جس کے وجود سے دنیا کے تمام رنگ قائم ہیں۔ ماں کی محبت بے غرض، بے لوث اور لازوال ہوتی ہے۔ دنیا کے تمام رشتے کسی نہ کسی غرض یا مفاد کے تابع ہو سکتے ہیں، لیکن ماں کا رشتہ ہر قسم کی مصلحت اور لالچ سے پاک ہوتا ہے۔
ماں کے عالمی دن (Mother’s Day) کو منانے کا مقصد اسی عظیم ہستی کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور اس کی قربانیوں کا اعتراف کرنا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنی مصروفیات سے چند لمحے نکال کر اس ہستی کا شکریہ ادا کریں جس نے ہمیں بولنا، چلنا اور جینا سکھایا۔ ماں کا وجود اس تپتی ہوئی دھوپ میں ایک گھنے اور ٹھنڈے سائے کی مانند ہے جو خود تو ہر سختی جھیل لیتا ہے مگر اپنی اولاد پر آنچ نہیں آنے دیتا۔
ماں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اس دن کا آغاز بیسویں صدی کے اوائل میں امریکہ سے ہوا۔ اینا جاروس نامی خاتون نے اپنی ماں کی یاد میں اس مہم کا آغاز کیا، جس کے بعد 1914ء میں امریکی صدر ووڈرو ولسن نے مئی کے دوسرے اتوار کو سرکاری طور پر ماں کا دن قرار دیا۔ آج یہ دن دنیا بھر میں روایتی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ اگرچہ ماں کے لیے کسی ایک دن کو مخصوص کرنا اس کے احسانات کا احاطہ نہیں کر سکتا، لیکن یہ دن نئی نسل میں مامتا کے احترام اور شعور کو بیدار کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ یہ دن ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم عالمی سطح پر مانی جانے والی اس سچائی کا اعتراف کریں کہ ماں کے بغیر انسانی معاشرے کا تصور ہی ناممکن ہے۔
دینِ اسلام نے ماں کے مقام و مرتبہ کو جو بلندی عطا کی ہے، اس کی نظیر کسی دوسرے مذہب یا معاشرے میں نہیں ملتی۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد والدین، خصوصاً ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ سورہ لقمان میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ”ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق تاکید کی، اس کی ماں نے اسے تکلیف پر تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا“۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ”جنت تمہاری ماؤں کے قدموں تلے ہے“۔
ایک اور حدیث میں حسنِ سلوک کے حقداروں میں ماں کا نام تین بار مسلسل لیا گیا اور چوتھی مرتبہ باپ کا ذکر کیا گیا۔ یہ تعلیمات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ معاشرے کی فلاح اور آخرت کی کامیابی ماں کی خدمت اور اس کی رضا مندی میں پنہاں ہے۔
کسی بھی قوم کی اخلاقی، سماجی اور فکری تعمیر میں ماں کا کردار سب سے بنیادی ہوتا ہے۔ ماں بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔ وہ صرف ایک بچے کی پرورش نہیں کرتی بلکہ ایک پوری نسل کی آبیاری کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے تمام عظیم رہنماؤں، مفکرین اور سائنسدانوں کی کامیابی کے پیچھے ان کی ماؤں کی بہترین تربیت کا ہاتھ تھا۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے لے کر علامہ اقبالؒ تک، تاریخ کے ہر روشن باب کے پیچھے ایک ماں کی دی گئی لوری اور سکھائی گئی سچائی جھلکتی ہے۔ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ ماں ہی معاشرے کو جرائم سے پاک، تہذیب یافتہ اور ترقی پسند شہری فراہم کر سکتی ہے۔ اگر ماں کمزور ہوگی تو پوری قوم فکری اور اخلاقی طور پر معذور ہو جائے گی۔
نو ماہ تک پیٹ میں پالنے سے لے کر، لوری دے کر سلانے اور اپنی نیندیں قربان کر کے اولاد کو سکھانے تک، ماں کی زندگی کا ہر لمحہ قربانی کی ایک انوکھی داستان ہے۔ جب بچہ بیمار ہوتا ہے تو ماں کی راتوں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔ وہ خود بھوکی سو سکتی ہے لیکن اولاد کو بھوکا نہیں دیکھ سکتی۔ وہ معاشرے کے طعنے اور سختیاں خود برداشت کرتی ہے لیکن اپنی اولاد کی مسکراہٹ کے لیے ہر حد پار کر جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جہاں بدلے کی کوئی چاہ نہیں ہوتی۔ اولاد چاہے کتنی ہی دور چلی جائے یا نافرمان ہو جائے، ماں کا دل کبھی اپنی اولاد کے لیے بددعا نہیں نکالتا، بلکہ اس کے ہاتھ ہمیشہ اولاد کی کامیابی اور سلامتی کے لیے ہی اٹھتے ہیں۔
آج کے مادی اور تیز رفتار دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے فاصلے سمیٹ دیے ہیں، وہاں انسانی رشتوں میں دوریاں بھی پیدا کر دی ہیں۔ موبائل اور سوشل میڈیا کی مصروفیت نے ہمیں اس ماں سے دور کر دیا ہے جو ہمارے ساتھ بیٹھ کر دو بول بولنے کو ترستی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بھی اولڈ ایج ہومز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مادی آسائشوں کی دوڑ میں مصروف اولاد اکثر یہ بھول جاتی ہے کہ بڑھاپے میں ماں کو قیمتی تحائف، بنگلوں یا گاڑیوں سے زیادہ ان کے وقت، توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماں کا عالمی دن منانا اسی وقت بامعنی ہو سکتا ہے جب ہم اپنی ماؤں کو وہ عزت، وقار اور وقت دیں جس کی وہ حقدار ہیں۔
زندگی کی تپتی ہوئی راہوں میں جب انسان مایوس ہو جاتا ہے اور ہر طرف اندھیرا نظر آنے لگتا ہے، تو ماں کی ایک پھونک اور اس کے ہاتھ کی تھپکی انسان کے اندر نیا حوصلہ پیدا کر دیتی ہے۔ ماں کی دعا اولاد کے لیے ایک ایسی ڈھال ہے جو آنے والی ہر مصیبت اور بلا کو ٹال دیتی ہے۔ جو لوگ اپنی ماؤں کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی دعائیں لیتے ہیں، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، ماں کی نافرمانی کرنے والے اور اسے دکھ دینے والے کبھی حقیقی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ ماں کی خوشنودی میں ہی رب کی خوشنودی چھپی ہوئی ہے۔
اس عالمی دن پر محض سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کرنے یا ایک دن کا دکھاوا کرنے کی بجائے یہ سچا عہد کریں کہ ہم اپنی ماؤں کی زندگی میں ان کے فرماں بردار بنیں گے۔
ان کی بوڑھی آنکھوں میں کبھی اپنی وجہ سے آنسو نہیں آنے دیں گے۔ ان کی نافرمانی اور دل آزاری سے بچیں گے اور اگر وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں تو ان کے لیے ایصالِ ثواب اور مغفرت کی دعاؤں کو اپنی زندگی کا معمول بنائیں گے۔ ماں کے وجود کا احترام صرف سال کے ایک دن تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ سال کا ہر دن، ہر گھنٹہ اور ہر لمحہ ہی ماں کا دن ہونا چاہیے کیونکہ ہماری زندگی کا وجود ہی اس کے دم سے ہے۔