بلوچستان آج ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ترقی محض دعوؤں تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی، واضح اور زمینی حقائق کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صحت، تعلیم، زراعت، ٹرانسپورٹ، توانائی، شہری سہولیات اور ادارہ جاتی اصلاحات کے شعبوں میں جامع اور مربوط اصلاحاتی عمل جاری ہے، جس کے اثرات براہِ راست عوام کی روزمرہ زندگی میں نظر آ رہے ہیں۔
اس پورے ترقیاتی وژن کے پس منظر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کا وژن بھی نمایاں ہے، خصوصاً چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ترقیاتی ایجنڈا، جس میں صوبائی خودمختاری، عوامی سہولیات کی فراہمی، معیاری صحت و تعلیم، روزگار کے شفاف مواقع اور پسماندہ علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا شامل ہے۔ اسی وژن کے تحت سرکاری نظام میں شفافیت، ڈیجیٹلائزیشن اور میرٹ پر مبنی پالیسیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
صحت کے شعبے میں پیپلز ایئر ایمبولینس کا آغاز ایک تاریخی قدم ہے، جس نے دور دراز علاقوں میں فوری طبی امداد کو ممکن بنایا ہے۔ کوئٹہ میں 150 بستروں پر مشتمل جدید ٹراما سینٹر، کارڈیک اسپتال اور ایمرجنسی یونٹس کے ساتھ ساتھ ریفرل سسٹم کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ مریضوں کو بروقت علاج میسر آ سکے۔ اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں بنیادی مراکزِ صحت کی اپ گریڈیشن اور موبائل ہیلتھ یونٹس بھی فعال کیے جا رہے ہیں۔
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت 3 لاکھ 45 ہزار سے زائد مریضوں کو مفت اور معیاری علاج، ڈائیلاسز، کیموتھراپی اور بڑے آپریشنز کی سہولت بلا معاوضہ فراہم کی جا چکی ہے، جس سے عوام کو علاج کے اخراجات میں نمایاں ریلیف ملا ہے۔
مزدوروں اور شہداء کے بچوں کے لیے ملک کے بڑے شہروں اور دور دراز علاقوں میں مفت تعلیم اور داخلوں کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اسکولوں کی اپ گریڈیشن، ڈیجیٹل کلاس رومز، آئی ٹی لیبز اور جدید نصاب کی تیاری پر کام جاری ہے۔ اساتذہ کی تربیت کے خصوصی پروگرام اور میرٹ پر بھرتیوں کا نظام تعلیمی معیار بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
2100 نئے کمیونٹی اسکولز کے قیام سے ایک لاکھ 36 ہزار بچے تعلیم سے منسلک ہو چکے ہیں۔
چیف منسٹر یوتھ اسکلز پروگرام کے تحت 620 نوجوانوں کو ورک ویزے جاری کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت طالبات اور خواتین کو سفری سہولیات فراہم کر کے انہیں خودمختار بنایا جا رہا ہے۔
چیف منسٹر بلوچستان الیکٹرک بائیک اسکیم کے ذریعے تعلیم اور روزگار کا سفر مزید آسان بنایا جا رہا ہے تاکہ ہر بیٹی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔
زراعت کے شعبے میں سولرائزیشن منصوبہ کسانوں کے لیے ایک بڑی سہولت بن کر سامنے آیا ہے، جس سے بجلی کے اخراجات میں کمی اور پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چھوٹے کاشتکاروں کے لیے آسان قرضوں، جدید زرعی آلات اور پانی کے بہتر استعمال کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے، جس سے دیہی معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔
سولرائزیشن منصوبوں سے کسانوں کو نئی سہولیات میسر آ رہی ہیں اور زراعت میں نئی امیدیں جنم لے رہی ہیں۔ بلوچستان ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے۔
توانائی کے منصوبے دور دراز علاقوں تک بجلی کی فراہمی میں مدد دے رہے ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر، رابطہ سڑکوں کی بہتری، پلوں اور شہری انفراسٹرکچر کے منصوبے بھی تیزی سے جاری ہیں، جو علاقائی روابط کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔
روزگار کے شعبے میں شفافیت کو بنیادی اصول بنایا گیا ہے۔ بھرتیوں میں میرٹ، ڈیجیٹل سسٹم اور خودکار نگرانی کے نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ سفارش اور بدعنوانی کا خاتمہ ہو اور ہر شہری کو مساوی مواقع حاصل ہو سکیں۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں جدید اصلاحات کے تحت کوئٹہ اور تربت میں گرین اور پنک بس سروس کے منصوبے عوام کے لیے بڑی سہولت ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ سروسز محفوظ، آرام دہ اور سستی سفری سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔ خصوصاً پنک بس سروس خواتین کے لیے محفوظ ماحول مہیا کر رہی ہے، جبکہ گرین بس سروس شہری ٹرانسپورٹ کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے۔
مستقبل میں ان سروسز کو الیکٹرک اور ماحول دوست نظام میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔
حکومت بلوچستان کی جانب سے عوام کے لیے ایک اور بڑی سہولت کے طور پر کوئٹہ سے پیپلز ٹرین سروس شروع کی جا رہی ہے۔ ٹرین کی بوگیاں مکمل طور پر تیار کر لی گئی ہیں اور توقع ہے کہ اس سروس کا باقاعدہ افتتاح 14 اگست کو کیا جائے گا۔
حکومتی سطح پر ڈیجیٹل گورننس کے فروغ سے سرکاری خدمات کو آن لائن کیا جا رہا ہے، جس سے عوام کو دفاتر کے غیر ضروری چکروں سے نجات مل رہی ہے اور شفافیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شکایات کے فوری ازالے کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
یہ تمام اقدامات اس بات کی واضح علامت ہیں کہ میر سرفراز بگٹی کی قیادت اور بلاول بھٹو زرداری کے عوام دوست وژن کے تحت بلوچستان ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، جہاں صحت، تعلیم، زراعت، توانائی، ٹرانسپورٹ، روزگار کی شفاف فراہمی اور جدید طرزِ حکمرانی کا مربوط اور پائیدار نظام عوامی زندگی میں حقیقی اور دیرپا بہتری لا رہا ہے۔