کراچی یا لاہور؟یا پھر پاکستان کے اصل ذائقے کہیں اور بستے ہیں؟

آج کل سوشل میڈیا پر ایک عجیب بحث چل رہی ہے۔

ایک طرف کراچی والے ہیں جو کہتے ہیں کہ پاکستان میں اگر اصل کھانا کہیں ہے تو وہ کراچی ہے، جبکہ دوسری طرف لاہور والے ہیں جن کے نزدیک کھانے کا مطلب ہی لاہور ہے۔ لیکن میرے خیال میں یہ بحث ہمیشہ ادھوری رہتی ہے، کیونکہ پاکستان صرف دو شہروں پر ختم نہیں ہوتا۔

میں نے کراچی سے کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ تک کئی سفر کیے ہیں۔

کبھی موٹروے سے، کبھی جی ٹی روڈ سے، کبھی سیلاب زدہ علاقوں کے ٹوٹے ہوئے راستوں سے۔ ان سفروں میں بڑے ہوٹل بھی دیکھے، چھوٹے ڈھابے بھی، اور ایسے گاؤں بھی جہاں شاید Google Maps بھی پوری طرح نہ پہنچتا ہو۔ اور جتنا سفر کیا، اتنا یقین ہوا کہ پاکستان کا اصل ذائقہ بڑے شہروں سے زیادہ چھوٹے شہروں، سڑک کنارے ڈھابوں اور پرانے بازاروں میں چھپا ہوا ہے۔

اسلام آباد سے بات شروع کرتے ہیں۔

اسلام آباد خوبصورت شہر ہے، صاف ستھرا، منظم اور دنیا بھر کے لوگوں سے بھرا ہوا۔ چونکہ یہ دارالحکومت ہے اس لیے یہاں کھانوں میں diversity بہت ہے۔

چائنیز، ترکش، عربی، افغانی، ہر طرح کا کھانا مل جاتا ہے۔

لیکن اگر آپ خالص دیسی ذائقہ ڈھونڈ رہے ہوں تو تھوڑا effort کرنا پڑتا ہے۔ یہاں platter culture بہت زیادہ ہے۔ چاول، BBQ اور اچھی presentation تو ہر جگہ مل جاتی ہے لیکن ہر جگہ ذائقے کی guarantee نہیں ہوتی۔ سید پور ، مونال ویسٹورنٹ کابل ریسٹورنٹ، BBQ Tonight اور Mr. Chips جیسے نام کافی مشہور ہیں، مگر اسلام آباد کے اصل مزے کبھی ان پرانے ڈھابوں میں تھے جو وقت کے ساتھ کم ہوتے گئے۔ آج بھی F-6 میں شاہین کیمسٹ کے پیچھے یا Aabpara کے اطراف کچھ پرانے ڈھابے ایسے ہیں جہاں دیسی کھانے کی روح ابھی باقی ہے۔ اور چائے؟ بھائی اسلام آباد میں اگر کسی کا بزنس نہ چلے تو وہ “کوئٹہ ہوٹل” کھول لیتا ہے۔

پھر اگر لاہور کی بات نہ ہو تو پاکستان کے فوڈ کلچر کی گفتگو ادھوری رہتی ہے۔ لاہور میں پانچ سال گزارنے کے بعد ایک بات confidence سے کہہ سکتا ہوں کہ لاہور والوں جیسا ناشتہ پورے پاکستان میں مشکل ہے۔

یہاں کے پائے، چنے، حلوہ پوری، دہی بھلے اور چکن کڑاہیاں واقعی لاجواب ہوتی ہیں۔ اسی طرح BBQ اور نرم روغنی نان بھی لاہور کی اپنی پہچان ہیں۔ صبح سویرے لاہور کی گلیوں میں نکلیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ شہر صرف کھاتا نہیں بلکہ کھانے کو celebrate کرتا ہے۔

لکشمی چوک صرف کھانے کی جگہ نہیں بلکہ لاہور کی cinematic اور food history کا حصہ ہے۔

ایک زمانے میں یہاں سینما، تھیٹر اور فلمی دنیا آباد تھی اور انہی گلیوں میں رات گئے تک چکن کڑاہیوں، ڈھابوں اور چائے خانوں کی رونق رہتی تھی۔ آج بھی لکشمی کی کڑاہی، چمن آئس کریم، رات گئے کی چائے اور پرانے لاہور کا ماحول ایک الگ experience دیتے ہیں۔ گڑھی شاہو کے سموسے، اندرون لاہور کی حلوہ پوری اور تکے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ لاہور کی سب سے بڑی خوبی شاید یہ ہے کہ آپ کے پاس سو روپے ہوں یا دس ہزار، کھانے کے options ختم نہیں ہوتے۔ اسی طرح چوبرچی کے پراٹھے اور مچھلی بھی شاندار رہی ہے.

لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ صرف لاہور ہی کھانوں کا شہر ہے تو پھر شاید آپ ملتان نہیں گئے۔ ملتان کو لوگ فوڈ سٹی کم سمجھتے ہیں لیکن جنوبی پنجاب کے لوگوں کے ہاتھ میں عجیب لذت ہے۔ قمر نہاری، ٹیسٹی بریانی ، بلے دا ڈھیرا، چکن پلاؤ اور اندرون ملتان کی حلوہ پوری واقعی underrated ہیں۔ اگر آپ لاہور سے مظفرگڑھ یا لیہ کی طرف جا رہے ہوں تو راستے کے ڈھابے ignore نہ کریں۔ تونسہ بیراج کے قریب مچھلی اور لیہ کے آس پاس کے کھانے بھی شاندار ہیں۔ پنجاب میں دودھ، دہی اور چائے بھی اچھی اور سستی ملتی ہے۔

بہاولپور اور صادق آباد کے کھانے بھی الگ مزاج رکھتے ہیں۔ بہاولپور کی خیر پوری دال، فرید گیٹ کی دال، کپتان کے پائے اور بابا نصیر کا ناشتہ کافی مشہور ہیں۔

جبکہ صادق آباد میں حافظ پراٹھا والا اپنے منفرد پراٹھوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں ambience کم اور taste زیادہ بولتا ہے۔

پھر اگر اندرون سندھ کی بات کریں تو وہاں کا کھانا کراچی سے بالکل مختلف دنیا لگتا ہے۔ سکھر، روہڑی، خیرپور، عمرکوٹ اور تھرپارکر کے ذائقے الگ ہیں۔ یہاں کی بھنڈی، دال مسور، اچار اور دیسی سبزیاں حیران کن حد تک مزے کی ہوتی ہیں۔ سندھ کی highways پر سفر کریں تو عمران ہوٹل جیسے نام بار بار سامنے آتے ہیں۔

ٹرک ڈرائیورز، فیملیز، سیاسی کارکن، سب وہاں رکتے ہیں۔ عمران ہوٹل صرف ایک ہوٹل نہیں بلکہ road culture کا حصہ بن چکا ہے۔ کڑک چائے، دیسی سالن، تازہ روٹی اور highway والا ماحول اس جگہ کو memorable بنا دیتا ہے۔

حیدرآباد بھی اپنے کھانوں کی وجہ سے الگ پہچان رکھتا ہے۔ اندرون شہر میں کہیں بھی دال کھا لیں، مزہ آ جاتا ہے۔ انڈس ہوٹل کے قریب توا مچھلی کافی مشہور ہے جبکہ اگر دنبے کا گوشت یا مٹن کڑاہی کھانی ہو تو سلاطین ریسٹورنٹ بہترین option ہے، البتہ patience ساتھ لانا پڑتا ہے کیونکہ کبھی کبھی آرڈر آنے میں دو گھنٹے بھی لگ جاتے ہیں۔

کراچی کی بات کریں تو اس شہر کی سب سے بڑی طاقت diversity ہے۔ یہ پورے پاکستان کا melting pot ہے، اس لیے ہر زبان، ہر علاقے اور ہر taste کا کھانا یہاں مل جاتا ہے۔ لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جن پر کراچی والوں کی monopoly ہے۔ بریانی، حلیم، بیف نہاری اور fresh seafood واقعی کراچی والوں کا میدان ہے۔ بسم اللہ بریانی، Students Biryani، غوثیہ نلی بریانی، جاوید نہاری اور برنز روڈ جیسے نام کراچی کے food culture کا حصہ بن چکے ہیں۔ برنز روڈ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ کراچی کی راتوں کی تاریخ ہے۔ اور fresh seafood؟ وہ کراچی جیسا شاید کہیں نہیں ملتا۔

پشاور اور خیبر پختونخوا کی بات آئے تو پھر گوشت کا ذکر لازمی ہو جاتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ دنبے کا گوشت، مٹن، چپلی کباب، روش اور گوشت پلاو جیسی چیزیں پٹھانوں سے بہتر شاید ہی کوئی بنا سکے۔ یہاں کے لوگ کم مصالحے میں گوشت کا اصل ذائقہ نکال لیتے ہیں اور یہی ان کے کھانے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

پشاور میں نمک منڈی کی کڑاہی اور چپلی کباب اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں، جبکہ تارو جبہ کے کباب پورے پاکستان میں مشہور ہیں، اگرچہ وہاں بیٹھنے کا ماحول بہت ideal نہیں۔ مردان اور تخت بھائی میں تقریباً ہر چند کلومیٹر بعد اچھے چپلی کباب مل جاتے ہیں، لیکن اگر واقعی memorable taste چاہیے تو کاٹلنگ میں شنکر کباب ضرور try کرنے چاہئیں۔

ہزارہ کی طرف جائیں تو ذائقہ مزید بدل جاتا ہے۔ مانسہرہ، شنکیاری اور قلندرآباد کے کبابوں کا flavor پشاور سے مختلف ہے۔ قلندر آباد میں دلاور خان کے چپلی کباب کافی مشہور ہیں، لیکن وہاں وقت پر پہنچنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ اچھا مال جلد ختم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح شنکیاری میں صدیق کباب اور نمکین کباب کافی مشہور ہیں۔ اگر بہترین seekh اور کباب کھانے ہوں تو اوگی روڈ پر سسلی کے علاقے میں اچھے کباب مل جاتے ہیں، جبکہ خواجگان میں قلندری کباب والے لالہ عبدالرحمان لالا کافی معروف ہیں۔ مانسہرہ کے قریب شاہ جی دال والے بھی جی ٹی روڈ پر کافی مشہور ہیں جہاں سادہ مگر زبردست دال ملتی ہے۔

اگر آپ سوات، مینگورہ یا شمالی علاقوں کی طرف جائیں تو وہاں سیاحت کی وجہ سے ہر جگہ اچھا کھانا نہیں ملتا، لیکن اندرون بازاروں میں اب بھی ایسے چھوٹے ہوٹل موجود ہیں جہاں خالص دیسی ذائقہ باقی ہے۔ جنوبی اضلاع میں “صوبت” کافی مشہور ہے، خاص طور پر دنبے والی اصلی صوبت، لیکن وہ ہر کسی کے taste کی چیز نہیں۔

پھر کوئٹہ ہے، جہاں روش، سجی اور کھڈی کباب صرف کھانے نہیں بلکہ ثقافت کا حصہ ہیں۔ کابل جان، دبئی ہوٹل اور گلشن کڑاہی کافی مشہور جگہیں ہیں۔ اور سچ یہ ہے کہ جو مزہ کوئٹہ کی سجی میں ہے، وہ copy نہیں ہو سکتا۔

گلگت بلتستان کا کھانا شاید پاکستان میں سب سے underrated ہے۔ یہاں کے لوگ کم مصالحہ استعمال کرتے ہیں، اسی لیے کھانے کا اصل flavor برقرار رہتا ہے۔ Mantu، Chap Shoro، Khasta-mu اور Chapso جیسی dishes زائقے میں منفرد ہیں.

آخر میں بات وہی ہے کہ پاکستان کے فوڈ کلچر کو صرف “کراچی vs لاہور” تک محدود کرنا زیادتی ہے۔ لاہور والوں کو ناشتے، چکن، دال اور مٹھائیوں پر mastery حاصل ہے۔ کراچی والے بریانی، نہاری، حلیم اور seafood میں unmatched ہیں۔ پشاور اور بلوچستان والے مٹن، دنبہ، روش اور کباب میں الگ مقام رکھتے ہیں، جبکہ جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کے سادہ ڈھابے آج بھی اصل ذائقہ سنبھالے ہوئے ہیں۔

پاکستان کا اصل ذائقہ شاید بڑے ریسٹورنٹس میں نہیں بلکہ ان سڑکوں، ڈھابوں اور چھوٹے شہروں میں ہے جہاں لوگ ابھی بھی کھانا “دل” سے بناتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے