آج ہی کے دن 11 مئی 1912 کو اردو کے سب سے مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی پیدائش کا دن ہے۔ غالب کی طرح منٹو کو ہر دور میں نہ صرف پڑھاجاتا ہے بلکہ ان کی مقبولیت میں بھی مزید اضافہ ہورہا ہے۔ کہنے کو تو منٹو ایک کہانی کار تھے۔ لیکن میرے خیال میں منٹو بنیادی طور پر ایک فلمی آدمی تھے۔ ان کا مشاہدہ غضب کا تھا۔ فلمی دنیا کے حوالے سے دیکھا جائے تو منٹو بہترین اسکرین پلے رائٹر تھے۔ وہ جو دیکھتے اس کو اس طرح سے پینٹ کرتے کہ جیسے کسی مصور نے افسانے کو حقیقت کا روپ دے دیا ہو۔
منٹو صاحب کی یہ خوبی تھی کہ ان کا مشاہدہ بڑے کمال کا تھا۔ اسی لیے ان کے خاکے پڑھتے ہوئے یوں معلوم ہوتا کہ جیسے ہم کوئی فلم دیکھ رہے ہوں۔ منٹو صاحب پر نندیتا داس نے ” منٹو ” کے نام سے ایک فلم بنائی ہے۔ جس میں نواز الدین صدیقی نے بہترین کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ سرمد کھوسٹ کا ڈراما منٹو بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔
سرمد کھوسٹ نے بہترین ڈائریکشن کی ہے اور خود بھی منٹو کا اچھا کردار نبھایا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ سرمد منٹو جیسا گیٹ اپ کرتے ہوئے بھی منٹو جیسا نہیں لگ سکا۔
منٹو کے افسانے ہوں, خاکے ہوں یا کوئی کہانی ہو۔ جس طرح سے وہ کردار نگاری کرتے تھے۔ وہ ان ہی کا خاصہ تھا۔ لوگ منٹو پر فحاشی کا الزام لگاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہےکہ اگر ان کی تحریر سے فحاشی کو نکال بھی دیا جائے تب بھی ان کی تحریر میں جو ایک خاص قسم کی کاٹ ہے اور جو ان کا کہانی کہنے کا اپنا انداز ہے اسکا مقابلہ کوئی اور لکھاری نہیں کرسکتا ہے۔
آپ معروف اداکار اشوک کمار کو تو جانتے ہوں گے۔ اور اگر نہیں جانتے ہیں تو گلوکار کشور کمار کو تو جانتے ہی ہوں گے۔ اشوک کمار کشور کمار کے بڑے بھائی تھے۔
اپنے دور کے سپر ہٹ اداکار تھے۔ اشوک کمار کے بہنوئی ایس مکر جی نے ان کو فلم میں چانس دلوایا تھا۔( جو ان دنوں بمبئی ٹاکیز میں اسسٹنٹ تھے)۔ اور اس طرح اشوک کمار کو ہیرو بننے کا موقع مل گیا۔ اشوک کمار کی جوڑی اداکارہ دیوکا رانی کے ساتھ بنی جو بہت مشہور ہوئی۔ بعد ازاں منٹو کی دوستی اشوک کمار سے ہوگئی۔ اشوک کمار جو منٹو سے عمر میں دو ماہ بڑے تھے۔
ایک دن انھوں نے منٹو سے کہا کہ وہ ان سےعمر میں بڑھے ہیں۔ اسی لیے انہیں دادا منی کہا جائے۔ منٹو نے سر تسلیم خم کردیا۔ بنگالی زبان میں دادا منی کا مطلب ہے بڑا بھائی۔ دونوں ایک دوسرے کے گھر جاتے۔ اشوک کمار یعنی دادا منی کو منٹو کی بیگم صفیہ کے ہاتھ کا بنایا ہوا قیما بہت پسند تھا۔ جبکہ منٹو جب دادا منی کے گھر جاتے تو پینے کے ساتھ ساتھ دادا منی کی بیگم کے ہاتھ کی بنی گزگ سے لطف اندوز ہوتے۔ دونوں کی بیویاں بھی دوست بن چکی تھیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ اشوک کمار مقبول ہوتے گئے۔ لڑکیوں کی نظر جب بھی ان پر پڑتی تو وہ دیوانہ وار ان کے پاس دوڑی چلی آتیں۔ کالج کےلڑکے اشوک کمار کے اسٹائل میں کھلی آستینوں والے کرتے پہنا کرتے۔
کبھی کبھی تو مجھےایسا لگتا ہے کہ منٹو کہانیاں, خاکے یا افسانے لکھنے کے لیے ہی مختلف شخصیات سے رسم و راہ بڑھاتے تھے۔ مگر اشوک کمار سے واقعی ان کی دوستی تھی۔ منٹو بمبئی نگریا میں تقریباً دس برس رہے۔ فلم انڈسٹری میں وہ تقریباً سبھی لوگوں سے واقف تھے۔
ایک مرتبہ فلمی ادارے فلمستان کے لیے اشوک کمار کو فلم بنانے کے لیے کہا گیا۔ جس کی کہانی انہوں نے منٹو سے لکھوائی تھی۔ اس کہانی کانام "آٹھ دن” تھا۔ اشوک کمار بمبئی ٹاکیز میں رہ کر فلمی باریکیوں سے باخوبی واقف ہوچکے تھے۔ جب فلم بننے میں دیر ہوئی تو فلمستان والوں نے جلدی فلم مکمل کرنے کو کہا۔ دادا منی نے منٹو کو اپنے ساتھ لیا۔ منٹو پریشانی کے عالم میں ان کے ساتھ فلم کے سیٹ پر پہنچے اور وہاں پہنچ کر دادا منی نے ایک پاگل کا کردار زبردستی منٹو سے کروالیا اور منٹو نے جیسا تیسا کر بھی لیا۔ اس فلم کے دیگر زبردستی کے اداکاروں میں اوپندر ناتھ اشک اور راجہ مہدی علی خان جیسی ہستیاں بھی شامل تھیں۔ جن سے اشوک کمار نے کام لیا۔ یہ وہی راجہ مہدی علی خان تھے جنھوں نے انڈیا کا سب سے مقبول گیت۔
لگ جا گلے کہ پھر یہ حسیں رات ہو نہ ہو
شاید پھر اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو
لکھا تھا۔
وقت گزرتا گیا منٹو ایک مرتبہ پھر بمبئی ٹاکیز میں جا پہنچے۔ اس وقت 1947 کے فسادات کی بو پھیلی رہی تھی۔ ہندو مسلم فسادات کے لیے ماحول تیار کیا جا رہا تھا کہ ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ جس نے منٹو کی روح فنا کردی۔ ہوا یوں کہ منٹو کو ان کے گھر چھوڑنے کے لیے دادامنی نے اپنی کار نکالی۔ شارٹ کٹ لیتے ہوئے دادامنی ایک ایسے محلے میں چلے گئے۔ جہاں ہندؤں کو دیکھتے ہی مار نے کا حکم تھا۔ منٹو شدید گھبراہٹ میں مبتلا ہوگئے اور خدا کو یاد کرنے لگے۔ ان کو دادامنی کی جان کی فکر تھی۔ اشوک کمار ایک ہندو تھے مگر سارا ہندوستان انھیں پہچانتا تھا۔ منٹو ابھی دعائیں ہی کر رہے تھے کہ دادامنی کے پاس کچھ لوگ آئے۔ اسی دوران لوگوں نے دادامنی کو پہچان لیا۔ اشوک کمار بھلے ہی ہندو ہوں مگر لاکھوں لوگ ان کے فین تھے اور ان سے بے پناہ پیار کرتے تھے۔ اچانک مجمع میں سے ایک آواز آئی اشوک بھائی” آگے راستہ نہیں ملے گا برابر والی گلی سے نکل جائیں”۔ اس طرح فسادات کے ماحول میں بھی لوگوں نے اپنے محبوب اداکار کو راستہ دے کر اپنی محبت کا ثبوت دیا اور منٹو کی جان میں جان آئی۔
اشوک کمار کو اردو زبان سے بہت پیار تھا۔ وہ اردو کے کچھ الفاظ لکھ بھی لیتے تھے۔ تقسیم کے بعد منٹو لاہور چلے آئے تو اشوک کمار نے منٹو کو اردو میں ایک خط بھی لکھا تھا اور کہاں تھا کہ واپس آجاؤ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ دونوں کی ملاقات دوبارہ نہیں ہوسکی مگر فلمی دنیا میں منٹو اور دادامنی کی دوستی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔