اسلام آباد ؛ تبادلیب کی حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بیرونی ترقیاتی امداد میں کمی کے باعث پاکستان میں صحت کے اہم منصوبے عملی طور پر مکمل بندش کےخطرے سے دوچار ہیں اور یہ بحران صرف بجٹ بڑھانے سے حل نہیں ہو سکتا۔
تبادلیب کے شہاب صدیقی، بہزاد تیمور، اور سیدہ فروا قمر جعفری کی طرف سے ایک نئی رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔“ انحصار سے آگے: بیرونی ترقیاتی امداد میں کمی کے پاکستانی نظام صحت پر اثرات کا جائزہ” کے عنوان سے جاری کی گئی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح غیرملکی امداد میں کمی صحت کے نظام کے مخصوص افعال کو متاثر کر رہی ہے جسے ملکی بجٹ جزوی طور پر ہی پورا کر پاتا ہے۔ ان افعال میں ادویات و طبی سامان کی خریداری، تشخیصی صلاحیت، سپلائی چین مینجمنٹ، اور ماہر عملے کی فراہمی شامل ہیں۔ یہ رپورٹ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں صحت اور ترقیاتی ماہرین کے انٹرویوز، بجٹ اور غیر ملکی امداد کے ڈیٹا کے تفصیلی تجزیے پر مبنی ہے۔
امداد میں کمی کے اثرات بہت ہی واضح نظر آ رہے ہیں۔ یو ایس ایڈ کی معطلی سے 60 سے زائد مراکز بند ہو گئے ہیں، جس سے 17 لاکھ افراد کی طبی سہولیات متاثر ہوئی ہیں۔ گلوبل فنڈ کی 2 کروڑ 72 لاکھ ڈالر کی کٹوتی سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ٹی بی کی نگرانی کا نظام صرف آدھا رہ گیا، تشخیصی کٹس کی مالی معاونت ختم ہو چکی ہے اور ایچ آئی وی سے متاثرہ ہزاروں مریضوں کا علاج خطرے میں پڑ گیا۔ اگر حکومت نے بروقت متبادل نہ بنایا تو یہ مشکلات مزید بڑھ جائیں گی کیونکہ غیرملکی ترقیاتی امداد میں کمی جاری رہے گی۔
تبادلیب کے ہیومن کیپیٹل ڈائریکٹر شہاب صدیقی کا کہنا ہے کہ “یہ محض اقتصادی نہیں، بلکہ ایک ضابطے کا مسئلہ ہے پاکستان میں بجٹ میں آنے والے پیسے زیادہ تر ملازمین کی تنخواہوں اور ساز و سامان پر خرچ ہوتے ہیں۔ جبکہ غیر ملکی ترقیاتی امداد ویکسین، ادویات، تشخیصی سہولیات اور سپلائی چین کو بھی فنڈز فراہم کرتی ہے۔ جب بیرونی ترقیاتی امداد کم ہوتی ہے تو اس منصوبے کاعملہ تو برقرار رہتا ہے لیکن وہ بنیادی وسائل ختم ہو جاتے ہیں جو پروگرام کو چلانے کے لیے ضروری ہیں۔
یہ دباؤ اس وجہ سے بھی بڑھ رہا ہے کہ پاکستان کا صحت پر خرچ مجموعی قومی پیداوار کا صرف 0.9 فیصد ہے، جو عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی تجویز کردہ کم از کم 5 فیصد سے بہت کم ہے۔ پاکستان میں 2017 سے اب تک گرانٹ پر مبنی امداد میں 59 فیصد کمی آ چکی ہے، جبکہ او ای سی ڈی کے اندازے کے مطابق 2026 میں عالمی امداد میں مزید 5.9 فیصد کمی متوقع ہے، جو عارضی نہیں بلکہ ایک ساختی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
تبادلیب کی رپورٹ میں ایک متبادل نظام تجویزکیا گیا ہے۔ رپورٹ میں جو فوری اقدامات تجویز کئے گئے ان میں نیشنل ہیلتھ فنانسنگ فورم کا قیام، قومی ترقیاتی امداد کی رجسٹری کی تیاری اور ایک رسک میٹرکس کی تشکیل شامل ہے تاکہ صحت کے منصوبوں کو ان کی اہمیت اور متبادل دستیابی کے لحاظ سے درجہ بندی کیا جا سکے۔
درمیانی مدت کی حکمتِ عملی میں ٹی بی، ایچ آئی وی-ایڈز اور حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرامز کے لیے محدود مدت کے متبادل منصوبے شروع کرنے، خریداری اور بھرتی کے نظام میں اصلاحات اور صحت کے بجٹ کو خام قومی پیداوار کے 3 فیصد تک بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔ طویل مدتی اصلاحات میں تکنیکی صلاحیت میں اضافہ اور پروگراموں کو بتدریج بنیادی صحت کے نظام میں ضم کرنا شامل ہے۔