ایک زمانہ تھا جب لاہور کی بسنت آتی تھی تو آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جاتا تھا۔ چھتیں گواہ ہوتی تھیں خوشیوں کی، گلیاں گونجتی تھیں قہقہوں سے۔
میلوں میں جانا ایک روایت تھی، نہروں کے کنارے بیٹھنا ایک سکون۔ پھر نہ جانے کب ہم نے خوشی کو بھی مشکوک سمجھنا شروع کر دیا۔
آج پاکستان ایک عجیب بیماری کا شکار ہے۔ اس بیماری کا نام ہے "بین کلچر”۔ جہاں کوئی چیز پھلتی پھولتی دیکھیں، بین لگا دو۔ جہاں لوگ اکٹھے ہوں، دفعہ 144 لگا دو۔ جہاں کوئی لطف اٹھائے، کوئی نہ کوئی وجہ ڈھونڈ کر روک دو۔
بسنت پر پابندی لگی تو کہا گیا دھاگے سے حادثے ہوتے ہیں۔ بات بالکل سچ تھی۔ مگر حل یہ تھا کہ دھاگے کو قابو کرو، بسنت کو نہیں۔ لیکن ہم نے کیا؟ تہوار ہی ختم کر دیا۔ میلے بند ہوئے تو سکیورٹی کا بہانہ تھا۔ نہروں پر کشتی رانی بند ہوئی تو کوئی اور وجہ گھڑ لی گئی۔ چڑیا گھر اور پارک وہی ہیں، بس ان میں زندگی نہیں رہی۔
یہ ہماری حکومتوں کی سب سے آسان پالیسی ہے۔ مسئلہ حل کرنا مشکل ہے، مسئلے کو بند کر دینا آسان۔ انتظام کرنا محنت مانگتا ہے، پابندی لگانا نہیں مانگتی۔ تو پھر کیوں محنت کریں؟
مگر اس آسانی کی قیمت پوری قوم چکا رہی ہے۔
جو قوم کھیل نہ سکے، ہنس نہ سکے، اکٹھے نہ بیٹھ سکے، وہ آہستہ آہستہ اندر سے ٹوٹنے لگتی ہے۔ تفریح صرف وقت گزاری نہیں، یہ روح کی خوراک ہے۔ یہ وہ دھاگہ ہے جو معاشرے کو جوڑ کر رکھتا ہے۔ جب یہ دھاگہ کاٹ دیا جائے تو لوگ بکھر جاتے ہیں۔ اور بکھرے ہوئے لوگ پھر غصے، مایوسی اور انتہا پسندی کی طرف بڑھتے ہیں۔
یہ الگ بحث ہے کہ ہماری سڑکیں کیوں نہیں بنتیں، اسپتال کیوں نہیں چلتے، اسکول کیوں اندھیرے میں ہیں۔ مگر یہ بحث ضروری ہے کہ ہماری خوشیاں کہاں گئیں؟ وہ تہوار کہاں گئے جو ہمیں ایک کرتے تھے؟ وہ میلے کہاں گئے جن میں امیر غریب ایک ساتھ بیٹھتے تھے؟
کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ جس قوم کو رونا بھی آتا ہو اور ہنسنا بھی، وہی زندہ قوم ہے۔ ہم سے ہنسنا چھین لیا گیا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پوچھیں، بلکہ مطالبہ کریں، کہ ہماری تفریح ہمیں واپس کرو۔ پابندی لگانا حل نہیں، انتظام کرنا حل ہے۔ خرابی کو ٹھیک کرو، زندگی کو نہیں بجھاؤ۔
کیونکہ جو قوم لطف اٹھانا بھول جائے، اُسے تاریخ اٹھا لیتی ہے۔