وفاقی بجٹ، متوسط طبقہ: امیدیں، خدشات اور زمینی حقائق

ہر سال وفاقی بجٹ پیش ہوتے ہی ملک بھر میں بحث و مباحثے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ حکومت اسے معاشی ترقی، مالی استحکام اور عوامی فلاح کا ذریعہ قرار دیتی ہے، جبکہ عوام اس امید کے ساتھ بجٹ کا انتظار کرتے ہیں کہ شاید اس بار ان کی مشکلات میں کچھ کمی آئے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بجٹ محض آمدنی اور اخراجات کا تخمینہ نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات، معاشی پالیسیوں اور عوامی مسائل کے حل کے بارے میں ایک واضح پیغام ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ کے اثرات معاشرے کے ہر طبقے پر مرتب ہوتے ہیں، تاہم متوسط اور تنخواہ دار طبقہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

اس سال کے بجٹ میں اگرچہ بعض شعبوں کے لیے مراعات، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی اصلاحات کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن عام شہری کی نظر اس بات پر ہے کہ آیا اس کی زندگی میں کوئی حقیقی آسانی پیدا ہوگی یا نہیں۔ مہنگائی، بجلی و گیس کے نرخ، تعلیمی اخراجات، علاج معالجے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور روزمرہ ضروریات کی بلند لاگت نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ خصوصاً تنخواہ دار طبقہ ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں آمدنی میں اضافہ اخراجات کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ سرکاری و نجی ملازمین کی تنخواہوں میں ہونے والا معمولی اضافہ اکثر چند ہفتوں میں ہی مہنگائی کی نذر ہو جاتا ہے۔ گھروں کے کرائے، بچوں کی فیسیں، ادویات، ٹرانسپورٹ اور یوٹیلٹی بلز مسلسل بڑھ رہے ہیں جبکہ آمدنی اسی رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔ نتیجتاً لاکھوں خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

عالمی منڈی میں جب تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آتی ہے تو اس کے فوائد عام صارف تک اسی تناسب سے منتقل نہیں ہوتے۔ دنیا کے کئی ممالک میں قیمتیں حالات کے مطابق بڑھتی اور کم ہوتی رہتی ہیں، مگر پاکستان میں اکثر اوقات اضافہ مستقل صورت اختیار کر لیتا ہے جبکہ کمی کے اثرات محدود رہ جاتے ہیں۔ اس کا براہِ راست بوجھ عام آدمی اور متوسط طبقے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہی صورتحال دیگر اشیائے خوردونوش کے حوالے سے بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ چینی، آٹا، گھی، دالیں، سبزیاں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ تو فوری ہو جاتا ہے لیکن کمی شاذ و نادر ہی نظر آتی ہے۔ ایک بار قیمت بڑھ جائے تو اسے واپس لانا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اس سے متوسط طبقہ مسلسل دباؤ میں رہتا ہے جبکہ اس کی قوتِ خرید روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔

بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کسی حد تک ریلیف کا اعلان خوش آئند ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ ریلیف بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کافی ہے؟ اگر ایک طرف چند ہزار روپے کی بچت ہو لیکن دوسری طرف بجلی، گیس، پٹرول، تعلیم اور علاج کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو جائے تو عام شہری کو حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہو پاتا۔ ایک اور اہم مسئلہ بے روزگاری ہے۔ ملک کی بڑی نوجوان آبادی روزگار کے بہتر مواقع کی منتظر ہے۔ بجٹ کی کامیابی کا پیمانہ صرف محصولات میں اضافہ نہیں بلکہ روزگار کی فراہمی، سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی سرگرمیوں کے استحکام میں بھی پوشیدہ ہے۔ اگر نوجوانوں کو باعزت روزگار میسر نہ ہو تو معاشی ترقی کے دعوے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ تعلیم اور صحت کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہیں۔ اگر بجٹ میں ان شعبوں کو مناسب ترجیح نہ دی جائے تو معاشرتی ترقی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ ایک ایسا نظام جس میں عام شہری اپنے بچوں کو معیاری تعلیم اور خاندان کو مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کر سکے، وہ حقیقی ترقی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

بجٹ کا اصل مقصد صرف آمدنی اور اخراجات کا حساب پیش کرنا نہیں بلکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا، معاشی انصاف کو یقینی بنانا اور قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو فروغ دینا بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے مزید سہولتیں پیدا کرے، مہنگائی پر مؤثر کنٹرول قائم کرے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات لائے اور قیمتوں کی نگرانی کا ایسا نظام متعارف کرائے جو عوام کو حقیقی فائدہ پہنچا سکے۔ ملکی ترقی کا خواب اسی وقت شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے جب متوسط طبقہ معاشی طور پر مضبوط اور مطمئن ہو۔ کیونکہ یہی طبقہ ملکی معیشت کی بنیاد، ٹیکس نظام کا اہم حصہ اور سماجی استحکام کا ضامن ہے۔ اگر بجٹ عوامی مشکلات میں کمی، روزگار کے مواقع میں اضافے اور بنیادی ضروریات تک آسان رسائی کا ذریعہ بنے تو ہی اسے کامیاب بجٹ قرار دیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر اعداد و شمار، اعلانات اور دعوے عوامی مسائل کا مؤثر حل ثابت نہیں ہو سکتے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے