ہر دور کی اپنی ایک حقیقت اور اپنا ایک مزاج ہوتا ہے۔ ایک زمانہ وہ تھا جب چند عظیم کردار پورے معاشرے کی سوچ بدل دیتے تھے۔ لوگ شام کو بیٹھ کر انقلابیوں، مفکروں اور قومی ہیروز کی داستانیں سنتے تھے۔ آج دنیا بدل چکی ہے۔ یہ بھگت سنگھ کا دور نہیں، بلکہ اطلاعات کے سیلاب، سوشل میڈیا کے شور اور نت نئے فتنوں کا دور ہے۔
بہت سے لوگ آج بھی ہر تحریک اور ہر احتجاج کو تاریخ کے انقلابات سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج کی ریاستیں، معاشرے اور انسانی زندگی کا ڈھانچہ ماضی سے بالکل مختلف ہے۔ کروڑوں کی آبادیوں پر مشتمل جدید ریاستیں ایک پیچیدہ نظام کے تحت چلتی ہیں۔ حکومتوں کی ذمہ داری صرف ٹیکس جمع کرنا نہیں بلکہ بجلی، پانی، تعلیم، صحت، سڑکیں، مواصلات اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔ یقیناً کمزوریاں اور خامیاں موجود ہیں، مگر دنیا اب اس دور سے بہت آگے نکل چکی ہے جہاں لوگوں کو کھیتوں میں جبراً کام کروا کر حکومتیں چلائی جاتی تھیں۔
شاید انسانی تاریخ میں آج سے زیادہ متضاد دور کبھی نہیں آیا۔ ایک طرف انسان کے پاس وہ تمام سہولتیں موجود ہیں جن کا ماضی کی نسلیں تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ علم، سفر، رابطے اور آسائش کے بے شمار ذرائع چند لمحوں کی دسترس میں ہیں۔ مگر دوسری طرف یہی معلومات کی یلغار انسانی ذہن کے لیے ایک نیا فتنہ بھی بن چکی ہے۔ ہر لمحہ آنے والی خبریں، افواہیں، آراء اور جذباتی بیانیے انسان کو الجھن اور انتشار کا شکار کر دیتے ہیں۔ آج اصل امتحان معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ سچ اور جھوٹ، حقیقت اور پروپیگنڈے کے درمیان فرق کرنا ہے۔ شاید اسی لیے یہ دور بیک وقت انسانی ترقی کا بہترین اور ذہنی آزمائش کا مشکل ترین دور کہلاتا ہے۔
آج کا سب سے بڑا مسئلہ شاید غربت سے زیادہ ذہنی بے چینی ہے۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے انسان کو اپنی زندگی سے زیادہ دوسروں کی زندگیوں میں دلچسپی لینا سکھا دیا ہے۔ لوگ اپنی حقیقت سے زیادہ دوسروں کی نمائش شدہ کامیابیوں کا تعاقب کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ لمحہ جس میں جینا چاہیے، وہی کھو جاتا ہے۔
تاریخ میں بھگت سنگھ، ، اور بے شمار ایسے کردار گزرے جنہوں نے اپنے نظریات کے لیے جانیں قربان کیں۔ ان کے نام تاریخ میں محفوظ ہو گئے، مگر معاشرے پھر بھی آگے بڑھ گئے۔ زندگی کا پہیہ رکا نہیں۔ خاندانوں نے اپنے دکھ سمیٹے اور وقت کے ساتھ روزمرہ زندگی کی طرف لوٹ گئے۔ یہی زندگی کا اٹل اصول ہے۔
آج کے دور میں سب سے قیمتی شے انسان کی جان ہے۔ اگر انسان زندہ ہے تو وہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکتا ہے، اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دے سکتا ہے، معاشرے کی خدمت کر سکتا ہے اور اپنے خواب پورے کر سکتا ہے۔ لیکن اگر جان چلی جائے تو نظریات، نعروں اور جذبات کی تمام بحثیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے وقت، اپنی توانائی اور اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کریں۔ محنت کریں، علم حاصل کریں، اپنے فرائض ادا کریں، قانون کا احترام کریں، ٹیکس دیں، اپنے والدین اور بچوں کی ذمہ داری نبھائیں اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا فارمولا ہے، مگر درحقیقت ایک مہذب اور مستحکم معاشرے کی بنیاد یہی اصول ہیں۔
فتنوں کے اس دور میں جذبات کو بھڑکانا آسان ہے، مگر زندگی بنانا مشکل ہے۔ نفرت پیدا کرنا آسان ہے، مگر تعمیر کرنا مشکل ہے۔ اسی لیے آج شاید سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ آپ کسی ہجوم کا حصہ بن جائیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ اپنی عقل، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ زندگی گزاریں۔
یاد رکھیے، اگر آپ زندہ ہیں تو آپ کے پاس ہر چیز بدلنے کا امکان موجود ہے۔ آپ کا وجود ہی آپ کی طاقت ہے۔