ٹیلنٹ کو مت دباؤ

آپ نے سنا ہوگا کہ "پانی اپنے لیے راستہ بنا دیتا ہے۔” لاریب! یہ سچ ہے۔ ہزاروں میل دور کسی پہاڑی کی چوٹی پر بنی جھیل کا پانی اپنے لیے راستہ بنا کر کسی صحرا، شہر یا دیہات میں چشمہ بن کر نکلتا ہے، کیونکہ پانی کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔

بالکل اسی طرح ٹیلنٹ بھی پانی کی طرح ہوتا ہے۔ اسے وقتی طور پر روکا جا سکتا ہے، دبایا جا سکتا ہے، نظرانداز کیا جا سکتا ہے، اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جا سکتی ہیں، مگر اسے ہمیشہ کے لیے روکا نہیں جا سکتا۔ قدرت نے جس شخص کو صلاحیت دی ہو، وہ کسی نہ کسی موڑ پر، کسی نہ کسی میدان میں، اپنی جگہ بنا ہی لیتا ہے۔

میں سینکڑوں ایسے ٹیلنٹ انسانوں کو جانتا ہوں جن کا راستہ روکا گیا، ان کی حوصلہ شکنی کی گئی، انہیں مواقع نہیں دیے گئے، ان کی صلاحیتوں کو نظرانداز کیا گیا، مگر انہوں نے اپنی جگہ بنا لی۔

آپ اپنے اردگرد دیکھ لیجیے۔ والدین، سرپرست، سرکاری محکموں، نجی دفاتر اور مختلف اداروں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ٹیلنٹ کی قدر نہیں کی جاتی، بلکہ بعض اوقات ان کی درگت بنائی جاتی ہے۔ کسی باصلاحیت نوجوان کو صرف اس لیے آگے نہیں بڑھنے دیا جاتا کہ وہ کسی طاقتور شخص کا آدمی نہیں، کسی کے خاندان سے تعلق نہیں رکھتا، خوشامد نہیں کرتا یا چمچہ گیری کا ہنر نہیں جانتا۔ لیکن ٹیلنٹ آخرکار اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔

جن شخصیات، اداروں اور محکموں نے ٹیلنٹ کی قدر کی ہے، اسے مواقع دیے ہیں اور صلاحیت رکھنے والوں پر اعتماد کیا ہے، انہوں نے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ اور جنہوں نے ٹیلنٹ کو دبایا، اہل لوگوں کو پیچھے دھکیلا، نااہلوں کو آگے بڑھایا اور خوشامدیوں کو میرٹ پر ترجیح دی، وہ بالآخر روبہ زوال ہوئے ہیں۔

اس لیے اگر آپ بڑے ہیں، یا خوش قسمتی سے بڑے بن گئے ہیں، تو ٹیلنٹ کی قدر کیجیے۔ کسی باصلاحیت شخص کو اپنے سے چھوٹا سمجھ کر اس کا راستہ مت روکیے۔ ممکن ہے جس شخص کو آپ آج معمولی سمجھ کر نظرانداز کر رہے ہیں، کل وہ آپ کے ادارے، آپ کے شہر یا آپ کے معاشرے کا بڑا سرمایہ بن جائے۔

اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے!

چمچے کبھی آپ کو بڑا یا کامیاب نہیں بنائیں گے۔ وہ صرف آپ کو یہ احساس دلاتے رہیں گے کہ آپ بہت بڑے ہیں۔ اصل عظمت تو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب آپ اپنے سے بہتر لوگوں کو پہچانتے، انہیں آگے بڑھاتے اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ایک اچھا سربراہ وہ نہیں جو اپنے اردگرد صرف اپنے مداح جمع کر لے، اچھا سربراہ وہ ہے جو اپنے اردگرد اپنے سے زیادہ قابل لوگوں کو جگہ دے۔

ایک اچھا والد وہ نہیں جو اپنے بچے کو اپنی مرضی کا سانچہ بنا دے، اچھا والد وہ ہے جو اپنے بچے کے اندر چھپی صلاحیت کو پہچان لے۔

ایک اچھا ادارہ وہ نہیں جہاں ہر شخص سربراہ کی تعریف کرتا ہو، اچھا ادارہ وہ ہے جہاں اہل شخص کو بولنے، سوچنے، اختلاف کرنے اور آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہو۔

ٹیلنٹ کو دبانے سے ٹیلنٹ ختم نہیں ہوتا، صرف آپ کا ادارہ اس کے فائدے سے محروم ہو جاتا ہے۔

پانی کی طرح ٹیلنٹ بھی اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ مسئلہ ٹیلنٹ کا نہیں، اسے روکنے والوں کا ہے۔

اس لیے ٹیلنٹ کو مت دباؤ۔

اسے راستہ دو، موقع دو، حوصلہ دو، ممکن ہے وہی تمہارے ادارے، تمہاری نسل اور تمہارے معاشرے کا مستقبل بن جائے۔

تم اپنے مستقبل کے کیوں دشمن بنتے جا رہے ہو؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے