شہادتوں پر قہقہے: سوشل میڈیا کی بے حسی اور ہمارے معاشرے کا المیہ

مظفرآباد کے قریب پیش آنے والے ہیلی کاپٹر حادثے نے ایک بار پھر کئی گھروں کے چراغ بجھا دیئے۔ چند لمحوں میں کئی خاندانوں کی زندگیاں بدل گئیں، مائیں اپنے بیٹوں سے محروم ہو گئیں، بیویاں اپنے سہارے کھو بیٹھیں اور بچے عمر بھر کے لیے ایک ایسی کمی کے ساتھ جینے پر مجبور ہو گئے جسے کوئی بھر نہیں سکتا۔ یہ ایک ایسا سانحہ تھا جس پر پورے معاشرے کو دکھ اور افسوس کا اظہار کرنا چاہیے تھا، مگر افسوس کہ سوشل میڈیا کے بعض گوشوں میں ایک مختلف ہی منظر دیکھنے کو ملا۔

حادثے کی خبروں کے نیچے ہنستے ہوئے ایموجیز، طنزیہ تبصرے اور نفرت سے بھرپور جملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم بطور معاشرہ کس حد تک حساسیت کھو چکے ہیں۔ اختلافِ رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ ریاستی اداروں، پالیسیوں اور حکومتی فیصلوں پر تنقید بھی جمہوری معاشروں کا حصہ ہوتی ہے۔ لیکن کسی حادثے میں جان گنوانے والوں کی موت پر خوشی منانا، ان کی شہادت کا مذاق اڑانا اور ان کے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنا کسی مہذب معاشرے کی نشانی نہیں۔

اسلام ہمیں ہر انسان کے احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ سورۃ الحجرات، آیت 11 میں فرماتا ہے: "اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔” اگر زندہ انسانوں کے تمسخر سے منع کیا گیا ہے تو فوت شدگان اور ان کے لواحقین کے احترام کا تقاضا بدرجۂ اولیٰ موجود ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں بھی اس حوالے سے واضح رہنمائی موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مردوں کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ اپنے اعمال کے انجام تک پہنچ چکے ہیں۔” (صحیح البخاری) ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا: "مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔” (صحیح البخاری) ان تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی فوت شدہ شخص کے بارے میں طنز، مذاق یا نفرت انگیز گفتگو اسلامی اخلاقیات کے منافی ہے۔

سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا ہے، مگر اس آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے بعض لوگ اس فرق کو بھول جاتے ہیں کہ تنقید اور تضحیک میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ایک حادثے پر ہنسنے والا شخص شاید یہ بھول جاتا ہے کہ اس خبر کے پیچھے حقیقی انسان ہیں، حقیقی خاندان ہیں اور حقیقی آنسو ہیں۔ کسی بھائی کا کل اثاثہ، کسی ماں کی زندگی کا سہارا تھے، اور کسی بچے کے لیے پوری دنیا تھے۔ اس کے لیے یہ صرف ایک پوسٹ یا خبر ہو سکتی ہے، لیکن کسی ماں کے لیے یہ اس کے جگر کے ٹکڑے کی جدائی ہے۔

سوال یہ نہیں کہ مرنے والوں کے بارے میں آپ کی سیاسی یا نظریاتی رائے کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اتنی بنیادی انسانیت بھی کھو چکے ہیں کہ موت پر بھی خوشی منانے لگیں؟ کیا ہمارے دل اس قدر سخت ہو چکے ہیں کہ کسی یتیم بچے کے مستقبل، کسی بیوہ کی تنہائی اور کسی بوڑھے والدین کے غم کا احساس بھی باقی نہیں رہا؟

اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن موت کے بعد کسی انسان کی تذلیل کرنا یا اس کی موت کو مذاق بنانا نہ اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات کے مطابق۔ اختلاف زندہ لوگوں کے افکار، نظریات اور اعمال سے کیا جاتا ہے، نہ کہ ان لوگوں کی بے حرمتی سے جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہوں۔

کسی سانحے پر اختلافی سیاست کرنا آسان ہے، لیکن انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ کم از کم غم کے لمحوں میں نفرت کو ایک طرف رکھ دیا جائے۔ دنیا کے مہذب معاشروں میں لوگ شدید اختلافات کے باوجود مرنے والوں اور ان کے خاندانوں کے احترام کو برقرار رکھتے ہیں۔ کیونکہ موت کے بعد سیاسی نعرے نہیں، انسانی قدریں اہم رہ جاتی ہیں۔

مظفرآباد کے ہیلی کاپٹر حادثے نے صرف چند جانیں نہیں لیں، بلکہ اس نے ہمارے اجتماعی رویوں کا بھی امتحان لیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس امتحان میں ہم میں سے بہت سے لوگ ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ جب کسی کی موت پر قہقہے لگنے لگیں، جب دکھ پر ایموجیز کے ذریعے تمسخر کیا جانے لگے، تو یہ صرف ایک فرد کی بے حسی نہیں ہوتی بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی زوال کی علامت بن جاتی ہے۔

انسانیت کی اصل پہچان یہی ہے کہ ہم دوسروں کے دکھ کو سمجھیں، ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کریں اور اختلافات کے باوجود بنیادی انسانی احترام کو برقرار رکھیں۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جو دکھ کے لمحوں میں نفرت نہیں بلکہ ہمدردی کا راستہ اختیار کرے۔

اختلاف کیجئے،تنقید کیجئے،سوال اٹھائیے، مگر کم از کم اتنی انسانیت ضرور باقی رکھیے کہ کسی کے غم کو تماشا نہ بنائیں اور کسی کی موت پر قہقہے نہ لگائیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے