گھر کے صحن میں خوبصورت شام دھیرے دھیرے سے اتر رہی تھی۔ نیم کے تناور درخت کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں تلے بچھی دری پر مٹی کے برتن سجے تھے اور تازہ پکی ہوئی روٹیوں کی خوشبو فضا میں گھل رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وقت نے کچھ لمحوں کے لیے اپنی رفتار کم کر دی ہو۔ یہ وہی لمحے ہوتے ہیں جب زندگی اپنی اصل صورت میں دکھائی دیتی ہے سادہ، مانوس اور دل کے قریب۔ انسان کی روزمرہ عادات بظاہر معمولی نظر آتی ہیں، مگر ان میں پوشیدہ معنی روح تک اتر جاتے ہیں۔ انہی لمحوں میں چار زندگیاں ایک دسترخوان کے گرد سمٹ آئیں۔
حاجی عبدالرحمن، جن کے چہرے پر برسوں کی دانائی اور سکون جھلکتا تھا آہستگی سے بیٹھے۔ ان کے ساتھ ان کا بیٹا سلیم، جو شہر کی تیز رفتار زندگی کا عادی ہو چکا تھا، قدرے بے صبری کے ساتھ موبائل ایک طرف رکھ کر بیٹھ گیا۔ سلیم کی بیٹی مریم، جو جدید تعلیم یافتہ اور نئے رجحانات سے متاثر تھی، تھوڑی جھجک کے ساتھ اردگرد دیکھ رہی تھی۔ ان سب کے درمیان چھوٹا احمد تھا، جس کی آنکھوں میں معصوم تجسس چمک رہا تھا۔
کھانا شروع ہوا تو حاجی صاحب نے نرمی سے کہا، "بیٹا، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور بسم اللہ پڑھو۔” ان کی آواز میں شفقت تھی، حکم نہیں۔ مریم نے ایک لمحہ توقف کیا، پھر دھیرے سے اپنے ہاتھ سے نوالہ بنایا۔ اس کے لیے یہ ایک نیا مگر عجیب طور پر مانوس تجربہ تھا۔ انگلیوں پر روٹی کی نرمی، سالن کی گرمی اور خوشبو کا امتزاج ایک ایسی کیفیت پیدا کر رہا تھا جو کسی چمچ کے ذریعے ممکن نہ تھی۔
سلیم نے مسکراتے ہوئے کہا، "ابا جان، آج کل تو لوگ اسے پرانا طریقہ سمجھتے ہیں۔” حاجی عبدالرحمن نے گہری نظر سے بیٹے کو دیکھا اور بولے "بیٹا، پرانا وہ ہوتا ہے جس میں روح نہ ہو۔ جس عمل میں برکت ہو، وہ کبھی فرسودہ نہیں ہوتا۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے بھی اپنے دستِ مبارک سے کھانا تناول فرمایا اور ہمیں سکھایا کہ کھانے میں سادگی اور شکرگزاری اختیار کرو۔”
مریم خاموشی سے سن رہی تھی۔ اس کے ذہن میں وہ تمام لمحات گردش کرنے لگے جب وہ جلدی میں اسکرین کے سامنے یا دوستوں کے ساتھ رسمی انداز میں کھانا کھاتی رہی تھی۔ یہاں، اس سادہ سے صحن میں ہر لقمہ ایک الگ معنی رکھتا تھا۔ احمد نے معصومیت سے پوچھا "دادا ابو، ہاتھ سے کھانے میں کیا خاص بات ہے؟” حاجی صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا "بیٹا، یہ کھانا نہیں ہے یہ احساس ہے۔ جب تم اپنے ہاتھ سے کھاتے ہو تو تمہیں رزق کی قدر زیادہ محسوس ہوتی ہے، اور دل میں شکر پیدا ہوتا ہے۔”
ہوا میں ایک خاموشی سی چھا گئی، یہ خاموشی بوجھل نہ تھی بلکہ سکون سے بھری ہوئی تھی۔ ہر شخص اپنے خیالوں میں گم تھا۔ مریم کو اپنی دادی جان کی یاد آئی، جو بچپن میں اسے اسی طرح نوالہ بنا کر کھلاتی تھیں۔ اس لمحے اسے محسوس ہوا کہ وہ کھانا نہیں کھا رہی ہے اپنی جڑوں سے دوبارہ جڑ رہی ہے۔
کھانے کے بعد حاجی عبدالرحمن نے پانی پیتے ہوئے کہا، "اسلام ہمیں ہر کام میں اعتدال اور شعور سکھاتا ہے۔ کھانے سے پہلے بسم اللہ اور بعد میں الحمدللہ کہنا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ سب اللہ کی نعمت ہے۔ اور جب ہم اپنے ہاتھ سے کھاتے ہیں تو یہ عاجزی اور قربت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔” بخدا ان کے الفاظ میں سچائی تھی جو دلوں میں اترتی چلی گئی۔
اسی طرح رات گہری ہونے لگی مگر اس دسترخوان پر بیٹھے لوگوں کے دل روشن ہو چکے تھے۔ سلیم نے پہلی بار محسوس کیا کہ زندگی کی اصل خوبصورتی ان سادہ لمحات میں پوشیدہ ہے جنہیں وہ اکثر نظر انداز کر دیتا تھا۔ مریم کے چہرے پر ایک اطمینان تھا جیسے اس نے خود کو دوبارہ پا لیا ہو۔ احمد تو پہلے ہی اس تجربے کو ایک کھیل سمجھ کر خوش تھا، اب اس کے دل میں بھی ایک نرم سا اثر رہ گیا۔
اس شام نے انہیں یہ سکھا دیا کہ بعض عادات انسان کی پہچان، اس کے رشتوں اور اس کے رب سے تعلق کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے کھانا نہ کسی رسم کی پابندی ہے یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو زمین سے جوڑے رکھتا ہے، اسے اس کی اصل یاددہانی کراتا ہے اور اس کے دل میں شکر، سکون اور وابستگی کا چراغ روشن کرتا ہے۔