ڈاکٹر علی شریعتی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ کربلا کو سمجھنا ہو تو پہلے یہ سمجھو کہ امام حسینؓ کے پاس کربلا جانے کے علاوہ اورکیا راستہ تھا؟
امیر معاویہؓ کو حکمرانی ملی تو انہوں نے ریاستی طاقت اور رعب و دبدبے کا نیا ماڈل متعارف کروایا جسے انہوں نے کامیابی کے ساتھ بیس برس تک چلایا۔ اُن کی گورننس کا سنہرا اصول اِس قول میں پوشیدہ تھا کہ: ”اگر میرے اور لوگوں کے درمیان ایک بال (یا باریک دھاگہ) بھی ہو تو میں اسے ٹوٹنے نہیں دیتا۔ جب لوگ اسے اپنی طرف کھینچتے ہیں تو میں اسے ڈھیلا چھوڑ دیتا ہوں اور جب وہ اسے ڈھیلا چھوڑتے ہیں تو میں اسے (اپنی طرف) کھینچ لیتا ہوں۔“ لیکن پھر اُن سے بھی ایک خطا ہو گئی جس نے اسلامی تاریخ کا دھارا ہی موڑ دیا یعنی یزید کی نامزدگی اور یوںاسلامی خلافت ایک موروثی بادشاہت میں تبدیل ہو گئی۔
جب یزید نے بیعت کا مطالبہ کیا تو امام حسینؓ کے سامنے سب سے ’آسان اور دانشمندانہ‘ راستہ یہ تھا کہ بیعت کر لیں۔ اگر اُس زمانے میں آئی وی لیگ کا سند یافتہ کوئی کنسلٹنٹ ہوتا تو وہ بھی امام کو یہی مشورہ دیتا کہ ’زمینی حقائق‘ کا ادراک کریں اور یزید کی کابینہ میں شامل ہو جائیں۔ صحابہ کرام کے گھرانوں میں ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے یہی کیا اور اسے ’مصلحت‘ کا نام دیا۔ عبداللہ بن عمرؓ نے بیعت کی۔
عبداللہ بن عباسؓ نے امام حسینؓ کو سمجھایا کہ کوفے مت جائیں۔ یہ دونوں اصحاب نہایت سمجھدار ، تجربہ کار اور پرہیزگار تھے۔ لیکن امام حسینؓ نے وہ راستہ چنا جو محفوظ نہیں تھا۔ یہاں شریعتی کا اصل سوال پھن پھیلا کر کھڑا ہو جاتا ہے کہ جب انسان کے پاس ’محفوظ راستہ‘ موجود ہو، باعزت بھی ہو، قابلِ قبول بھی ہو اور پھر بھی وہ اسے ٹھکرائے تو اس کا مطلب کیا ہے؟ شریعتی کہتے ہیں کہ یہی لمحہ کربلا کا اصل لمحہ ہے، میدانِ جنگ نہیں، یہ لمحہ، جب امام حسینؓ نے مدینے میں فیصلہ کیا کہ بیعت نہیں کریں گے، اُس دن کربلا شروع ہو گئی تھی۔
لیکن بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی۔ امام حسینؓکے سامنے بیعت کے علاوہ اور بھی کئی راستے تھے۔ ابنِ عباسؓ نے مشورہ دیا کہ یمن چلے جائیں، گوشہ نشینی اختیار کریں، وقت گزاریں، جب حالات بدلیں گے، پھر دیکھا جائیگا۔ یہ بھی ایک معقول راستہ تھا۔ حضرت علیؓ نے کئی برس تک یہی حکمت عملی اپنائی تھی، صبر، خاموشی اور انتظار کی اسٹرٹیجی۔ مگر امام حسینؓ نے یہ راستہ بھی نہیں چنا۔ تیسرا راستہ تھا کہ کوفے کی بجائے مکے میں ہی رہیں، حرم کی پناہ میں، لیکن جب خبر ملی کہ یزید نے احرام باندھ کر حاجیوں کے روپ میں قاتل بھیجے ہیں تاکہ مکے میں ہی کام تمام کر دیں تو امام حسینؓنے مکہ بھی چھوڑ دیا۔
انہوں نے کہا کہ میں حرم کی بے حرمتی نہیں ہونے دوں گا، میری موت کسی اور جگہ ہو گی،یعنی اپنی حفاظت کیلئےحرم کو ڈھال نہیں بنایا۔ جب عبداللہ بن زبیر ؓنے امام سے مکہ میں ہی رکنے کی خواہش ظاہر کی، تو امام نے فرمایا: ”بخدا! اگر میں مکہ سے ایک بالشت باہر قتل کیا جاؤں تو یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں مکہ کے اندر قتل کیا جاؤں۔ خدا کی قسم! اگر میں مٹی کے کسی بِل میں بھی چھپ جاؤں، تب بھی یہ لوگ مجھے نکال لائیں گے تاکہ اپنی حاجت (قتل) پوری کر سکیں۔“
چوتھا آپشن حُرّ نے دیا تھا۔ لیکن اُس وقت تک کوفے سے مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر آ چکی تھی اور امام حسینؓ جانتے تھے کہ واپسی کا مطلب کیا ہوگا یعنی یزید کے دربار میں حاضری۔ سو انہوں نے حُرّ کو بھی انکار کر دیا۔ پانچواں راستہ کربلا میں ملا جب عمر بن سعد 3 محرم الحرام کو چار ہزار کے لشکر کے ساتھ کربلا پہنچا تھا۔ وہ ذاتی طور پر نواسہ رسولؐ سے جنگ کرنے سے کتراتا تھا اور چاہتا تھا کہ کسی طرح یہ معاملہ صلح سے حل ہو جائے۔ تاریخِ طبری کے مطابق، ابن سعد نے اپنے خطوط اور پیغامات کے بعد امام حسینؓ سے براہِ راست بات چیت کی خواہش ظاہر کی چنانچہ دونوں لشکروں کے درمیان ایک غیر جانبدار جگہ پر رات کے وقت ملاقاتیں طے پائیں۔
امام حسینؓ کے ساتھ ان کے بھائی عباس بن علی ؓ اور بیٹے علی اکبر ہوتے، جبکہ ابن سعد کے ساتھ اسکا بیٹا حفص اور ایک غلام ہوتا تھا۔ انہی ملاقاتوں میں اُن مشہور زمانہ تین شرائط پر گفتگو ہوئی جن میں امام حسینؓ نے پیشکش کی کہ یا تو انہیں واپس مدینے جانے دیا جائے یا پھر کسی سرحدی علاقے میں بھیج دیا جائے جہاں وہ عام مسلمان کی طرح رہ سکیں۔ تیسری شرط، کہ انہیں یزید کے پاس بھیج دیا جائے تاکہ وہ اُس سے مل کر معاملات طے کر سکیں، مورخین کا کہنا ہے کہ امام نے یہ بات کبھی نہیں کی۔ دراصل یہاں بھی امام حسینؓ کے پاس یزید کی بیعت کا آپشن موجود تھا، ابن سعد کا یہی مقصد کہ امام کو راضی کرلے ، مگر آپ نے یہ راستہ بھی نہیں چنا۔علی شریعتی کہتے ہیں کہ امام حسینؓ نے اپنی شہادت سے پہلے تاریخ کو پڑھ لیا تھا۔
وہ جانتے تھے کہ اگر انہوں نے بیعت کر لی تو یزید کی حکومت کو ایک ایسی مذہبی سند مل جائے گی جسے صدیوں تک استعمال کیا جائے گا کہ’’رسول اللہﷺ کے نواسے نے بیعت کی‘‘۔ یہ جملہ تاریخ میں لکھا جاتا اور پھر ہر غاصب حکمران اسے اپنی ڈھال بناتا۔ امام حسینؓ کی خاموشی پوری امت کی خاموشی بن جاتی۔ انہوں نے اپنی جان دی تاکہ آنے والی نسلیں یہ نہ کہہ سکیں کہ ’جب حسینؓ نے بیعت کر لی تھی تو ہم کیوں نہ کریں۔‘ شریعتی کہتے ہیں کہ کربلا کا سبق یہ نہیں کہ ہر شخص جا کر لڑے اور مرے۔ کربلا کا سبق یہ ہے کہ جب آپ کے سامنے ’محفوظ‘ اور ’درست‘ راستے میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو، تو آپ کون سا راستہ چُنیں گے؟ ہر شخص کی زندگی میں یہ لمحہ آتا ہے۔ مگر عافیت پسندی وہ زہر ہے جو عملی زندگی میں ہمیں َکوفی‘ بنا دیتا ہے۔
کوفے کے لوگ، اِبن سعد کی قیادت میں آنیوالی چار ہزار کی فوج، یہ سب اسی مصلحت پسندی کے اسیر تھے۔ اِبن سعد شروع میں امام حسینؓ کے ساتھ لڑائی سے ہچکچا رہا تھا لیکن ابن زیاد کے احکامات اور ریاستی عہدوں کے لالچ نے اسے اندھا کر دیا۔ ابن زیاد نے اسے صاف کہہ دیا تھا کہ یا تو امام حسینؓ سے غیر مشروط ہتھیار ڈلوائے جائیں یا پھر کمان شمر کے حوالے کر دی جائے۔ پھر اسی ابن سعد کی فوج نے نواسہ رسول ﷺ کی عورتوں کے کانوں سے بالیاں بھی کھینچ لیں۔
کوئی کوفے کا آئی جی لگ گیا تو کوئی بصرہ کا گورنر، مگر محض چند برس کے اندر ہی کربلا کے تمام کردار اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ مختار ثقفی نے ابن زیاد، شمر اور ابن سعد، تینوں کو چُن چُن کر قتل کیا۔ یزید دو سال میں ہی نامعلوم بیماری کا شکار ہو کر مر گیا اور پوری اموی سلطنت 68برس میں ختم ہو گئی۔ کس نے محفوظ راستہ چنا اور کس نے درست راستے کا انتخاب کیا، فیصلہ تاریخ نے کر دیا۔
بشکریہ جنگ