احمد شمیم جدید اردو نظم کے افق پر ایک ایسا درخشندہ ستارہ ہیں جن کی شاعری اپنے منفرد اسلوب، گہرے احساس اور اچھوتے فنی تجربات کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔ وہ نہ صرف ایک اعلیٰ پائے کے شاعر تھے بلکہ ایک کھرے سچے انسان اور وسیع مطالعے کے حامل تھے۔ ان کی زندگی کا سفر، ہجرت کا درد، ادبی اصولوں سے وابستگی اور نظریاتی مضبوطی انہیں اردو ادب کی ان چند شخصیات میں شامل کرتی ہیں جنہوں نے اپنے قول و فعل میں کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
احمد شمیم کی تاریخِ پیدائش 31 مارچ 1927 ہے (بعض ادبی مآخذ جیسے ریختہ میں اسے 31 مارچ 1930 بھی لکھا گیا ہے)۔ کشمیر کی خوبصورت وادی، اس کی جھیلیں، باغات اور وہاں کا سحر انگیز ماحول ان کی رگ میں بسا ہوا تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سری نگر سے حاصل کی اور پرتاب کالج سے ایف ایس سی کیا۔
کشمیر میں آزادی کی سیاسی سرگرمیوں اور بھارتی انتظامیہ کی جانب سے مسلسل ہراساں کیے جانے کے باعث وہ 1948ء میں ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور راولپنڈی میں سکونت اختیار کی۔ اس ہجرت کا سب سے بڑا دکھ یہ تھا کہ وہ وہ سری نگر سے اکیلے آئے تھے اور اپنی والدہ کو سری نگر ہی چھوڑ آئے تھے اور پھر زندگی بھر ان سے دوبارہ نہ مل سکے۔ ماں سے دوری اور وطن سے جدائی کا یہ کرب ان کی شاعری کا ایک مستقل استعارہ بن گیا۔ اگرچہ انہوں نے شادی کر لی تھی اور بچے بھی تھے، مگر ان کا احساس تنہائی کبھی دور نہیں ہو سکا۔ یہ تنہائی ان کی شاعری کا ایک اہم موضوع بنی۔
پاکستان آنے کے بعد انہوں نے گورڈن کالج راولپنڈی سے تعلیم مکمل کی۔ وہ ریڈیو پاکستان اور محکمہ اطلاعات سے منسلک رہے اور بالآخر ڈائریکٹر اطلاعات کے عہدے تک پہنچے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں ان کی پہچان ایک باشعور، دیانت دار اور باصلاحیت افسر کی تھی۔
احمد شمیم اُن چند شعرا میں شامل ہیں جنہوں نے اردو کے ساتھ کشمیری زبان میں بھی لکھا، مگر ان کی اصل شناخت جدید اردو نظم ہے۔ ان کے کلام میں ہجرت اور ناسٹیلجیا کی شدت، دیومالائی و علامتی نظام کی پیچیدگی، اور ترقی پسند فکر کی جھلک نمایاں ہے۔ وہ بچپن کی یادوں، ماں کی محبت اور جلاوطنی کے دکھ کو فلسفیانہ انداز میں پیش کرتے ہیں، جبکہ یونانی و مقامی داستانوں سے اخذ کردہ علامتیں ان کی شاعری کو کثیر جہتی بناتی ہیں۔ راولپنڈی کی ترقی پسند تحریک سے وابستگی نے ان کے فن کو سماجی شعور اور عام انسان کے دکھ درد سے جوڑ دیا۔
احمد شمیم کو عوامی سطح پر جس نظم سے بے پناہ مقبولیت ملی، وہ ان کی لافانی نظم "کبھی ہم خوبصورت تھے” ہے۔ یہ نظم دراصل ان کی اپنی ماں کی یاد اور ماضی کی معصومیت کا مرثیہ ہے۔ اس نظم کے اشعار آج بھی دلوں کو لگتے ہیں:
> کبھی ہم خوبصورت تھے
> کتابوں میں بسی خوشبو کی صورت
جب اس نظم کو پاکستان کی مایہ ناز گلوکارہ نیرہ نور نے اپنی سحر انگیز آواز میں پی ٹی وی کے ایک ڈرامے کے لیے گایا، تو یہ کلام امر ہو گیا۔ یہ نظم محض ایک شعری تخلیق نہیں بلکہ ہر اس شخص کا ترجمان ہے جس نے کبھی اپنے ماضی کی خوبصورتی کو کھویا ہو۔
احمد شمیم کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کا ادبی ناقد اور استاد ہونا ہے۔ وہ ان دنوں ریڈیو پاکستان سے منسلک تھے اور ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ وہ نوجوان لکھنے والوں کی رہنمائی کرتے اور ان کی اصلاح کرتے تھے، چاہے وہ سخت ترین تنقید کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔
احمد شمیم کی شخصیت اور ادبی اصولوں کی یہ عکاسی ڈاکٹر اعجاز راہی کی خود نوشت "بہت طے کر لیا ہم نے” میں تفصیل سے درج ہے۔
جب اعجاز راہی اپنے ابتدائی دور میں افسانے لکھ رہے تھے تو حلقۂ ارباب ذوق اور لکھنے والوں کی انجمن میں ان کے افسانوں کی تعریف ہوتی تھی، مگر احمد شمیم بلا جھجک ان کے منہ پر کہہ دیتے تھے:
> "بات نہیں بنی۔”
جب راہی کہتے کہ یہ افسانہ تو حلقے میں سراہا گیا، تو شمیم جواب دیتے:
> "ہپو کریسی ہے، انجمن میں باہمی تعریف کا رواج ہے۔”
وہ نوجوان لکھنے والوں کو بہتر بنانا چاہتے تھے، ان کی کمزوریاں بتانا چاہتے تھے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر سکیں۔ ایک بار جب اعجاز راہی کا افسانہ "نیا پل” ماہنامہ اوراق میں شائع ہوا تو راہی احمد شمیم سے ملنے ان کے گھر گئے۔ شمیم نے انہیں دیکھتے ہی کہا:
> "آخر تم نے افسانہ لکھ ہی لیا۔”
راہی نے حیرت سے پوچھا:
> "تو کیا پہلے میں جھوٹ لکھتا رہا ہوں؟”
تو شمیم نے جواب دیا:
> "نہیں، لیکن پہلے تم آدھے افسانے لکھتے تھے، یہ پورا افسانہ ہے۔”
اعجاز راہی حلقۂ ارباب ذوق کے سیکرٹری تھے اور قمر جاوید جوائنٹ سیکرٹری تھے، تو انہوں نے "احمد شمیم کے ساتھ ایک شام” منانے کا پروگرام بنایا۔ مگر احمد شمیم نے اس شام کا انتظار نہیں کیا۔ جدید نظم کے اس مایہ ناز تخلیق کار نے 7 اگست 1982ء کو راولپنڈی میں اس دارِ فانی سے کوچ کیا۔ ان کی وفات نے اردو ادب کو ایک عظیم نقصان پہنچایا، مگر ان کا کلام آج بھی زندہ ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
شام تو پھر بھی منائی گئی، مگر احمد شمیم کے بغیر۔
اس پروگرام میں جتنے بھی مضمون نگاروں نے مضامین پڑھے، ہر مضمون نگار کی آنکھوں میں احمد شمیم آنسو بن کر بہہ رہے تھے۔ یہ شام "شامِ غریباں” بن گئی۔
احمد شمیم نظریات میں پختہ تھے اور سمجھوتہ نہیں کرتے تھے، نہ زندگی میں اور نہ اصولوں پر۔ ان کا یہی رویہ ان کے لیے مشکلات کا باعث بنا۔ وہ محکمہ اطلاعات میں ڈائریکٹر تھے اور ان کا آزاد کشمیر کے صدر سے نظریاتی اختلاف تھا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ صدر صاحب نے انہیں اتنا ذہنی اذیت دی کہ احمد شمیم کو پہلے فالج ہوا اور پھر وہ انتقال کر گئے۔
بعد ازاں ڈاکٹر اعجاز راہی اور قمر جاوید نے احمد شمیم کی یاد میں ایک مختصر مگر بامعنی کتاب بھی شائع کی، جو ان کے دوستوں کی محبت اور عقیدت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ اس یادگار کتاب کی ترتیب ڈاکٹر اعجاز راہی اور قمر جاوید نے دی اور ابتدائیہ تحریر کیا، جبکہ پیش لفظ پروفیسر فتح محمد ملک نے تحریر کیا۔ اس کے علاوہ افتاب اقبال شمیم، احمد داؤد، سجاد حیدر ملک، منصور قیصر، نثار ناسک، سعود ساحر، جمیل ملک، ڈاکٹر ایوب مرزا، فہیم جوزی، حسن عباس رضا، سحر صدیقی، عارف کمپلوی اور نوید جمیل نے اپنے اپنے انداز میں اظہارِ خیال کیا۔