گلگت بلتستان کے الیکشن 2026 کے مکمل ہونے کے بعد ممبران اسمبلی نے حلف لیا اور اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، وزیر اعلیٰ ، قائد حزب اختلاف اور کابینہ تشکیل دے دی گئی ہے، تاہم بہت سے نزاعات اور سیاسی چپقلشیں ابھی باقی ہیں جو وقت پر حل ہونگے ان شا اللہ، اب چونکہ اسمبلی وجود میں آچکی ہے تو ممبران اسمبلی سے ایک انتہائی اہم گزارش کرنا چاہتا ہوں، یہ گزارش مجھ سمیت گلگت بلتستان کے پچیس لاکھ لوگوں اور لاکھوں سیاحوں اور تاجروں کی بھی ہے، اور وہ ہے "شاہراہ قراقرم کی بندش پر قانون سازی” امید ہے اس بابت ممبران اسمبلی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی فرصت میں اسمبلی سے یہ بل منظور کریں گے۔
پوری دنیا جانتی ہے کہ شاہراہ قراقرم پاکستان اور چین کو ملانے والی دنیا کی بلند ترین شاہراہ ہے جس کو بین الاقوامی درجہ حاصل ہے، اس شاہراہ کو قدیم شاہراہ ریشم کا جدید تسلسل بھی کہا جاتا ہے۔ اس عظیم شاہکار کی تعمیر پاکستان اور چین کے مابین دوستی، تعاون اور انجینئرنگ مہارت کی ایک زندہ و جاوید مثال ہے۔
اس عظیم منصوبے پر عملی کام 1966ء میں شروع ہوا اور بارہ سال کی مسلسل محنت کے بعد 1978ء میں مکمل ہوا۔ پاکستان کی جانب سے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) اور چین کے انجینئرزاور اور ماہرین تعمیرات نے انتہائی دشوار گزار پہاڑی علاقوں، گلیشیئرز اور خطرناک چٹانوں اور پہاڑی سلسلوں کو کاٹ کر اس شاہراہ کو وجود بخشا ہے۔ اس دوران سینکڑوں پاکستانی اور چینی کارکنوں، مزدوروں اور انجینئروں نے اپنی جانوں کا قیمتی نذرانہ پیش کیا، جن کی قبریں اس شاہراہ کے مختلف مقامات پر موجود ہیں۔
تقریباً 1300 کلومیٹر طویل یہ شاہراہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حسن ابدال سے شروع ہو کر خیبر پختونخوا کے ایبٹ آباد، مانسہرہ، تھاکوٹ اور کوہستان سے گزرتی ہے، پھر گلگت بلتستان کے دلکش وادیوں بالخصوص گلگت بلتستان کا گیٹ وے ضلع دیامر ، گلگت، نگر، ہنزہ ،گوجال اور سوست سے ہوتی ہوئی خنجراب پاس تک پہنچتی ہے۔ وہاں سے یہ شاہراہ چین کے صوبہ سنکیانگ میں داخل ہو کر تاریخی شہر کاشغر سے جا ملتی ہے۔
پاکستان میں اس شاہراہ کی لمبائی تقریباً 887 کلومیٹر ہے، جن میں سے تقریباً 516 کلومیٹر گلگت بلتستان، جبکہ باقی حصہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں واقع ہے۔مجھے اس شاہراہ پر سینکڑوں دفعہ سفر کرنے کا موقع ملا ہے، بلکہ گلگت بلتستان کا ہر باسی اسی شاہراہ پر سفر کرچکا ہے۔ اسی طرح چین میں اس کا حصہ تقریباً 413 کلومیٹر پر مشتمل ہے۔
اپنی مثال آپ اور بے مثال تعمیراتی مہارت، بلند ترین راستوں ، دشوارگزار کھائیوں اور شاندار قدرتی مناظر کی وجہ سے شاہراہِ قراقرم کو "دنیا کا آٹھواں عجوبہ” بھی کہا جاتا ہے۔ آج یہ شاہراہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلیم و تجارت، سیاحتی ، ثقافتی و تحقیقی روابط اور پائیدار دوستی کی ایک مضبوط علامت ہے جس کا دورانیہ 75 سال سے زائد ہے۔
شاہراہ قراقرم کا مختصر پس منظر، اہمیت اور تعارف جاننے کے بعد ہم اس کی بندش کے نقصانات پر کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں، شاہراہِ قراقرم کی بندش سےعوامی مشکلات اور معاشی نقصانات کا حساب لگانا میرے جیسے ایک عام لکھاری کے لیے بہت مشکل ہے، تاہم ہم سب جانتے ہیں کہ شاہراہِ قراقرم گلگت بلتستان کی مالی، معاشی و اقتصادی، تجارتی، ثقافتی، تعلیمی، طبی،سماجی اور سیاحتی زندگی کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب بھی یہ شاہراہ بارش، لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب، برف باری، حادثات، مذہبی و سیاسی دھرنوں اور احتجاج یا دیگر وجوہات کی بنا پر بند ہوتی ہے تو اس کے دور رس اور سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پورے خطے کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔
اسی طرح سیاحوں کو درپیش مشکلات بھی بے تحاشا ہیں۔ یہاں بابوسرٹاپ، نانگا پربت، مشبہ رومز ، کے ٹو، دیوسائی، شندور، خنجراب،راکاپوشی اور دیگر سینکڑوں عالمی سیاحتی مقامات ہیں، جن کو دیکھنے کے لیے ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح گلگت بلتستان آتے ہیں اور راستے میں پھنس جاتے ہیں۔ ہوٹلوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں غیر متوقع اضافہ ہو جاتا ہے۔ سیاحتی مقامات کی بکنگ اور سفری منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں گلگت بلتستان کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے جس سے مستقبل کی سیاحت متاثر ہوتی ہے۔
بارہا دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سارے سیاح مجبوراً اپنا سفر ادھورا چھوڑ کر واپس چلے جاتے ہیں۔ اس سے مقامی لوگوں کا بھی بھاری بھرکم مالی نقصان ہوجاتا ہے۔
اسی طرح پنڈی اسلام آباد اور ملک کے دیگر کونوں سے ہزاروں لوگ روزانہ آتے جاتے ہیں، اس شاہراہ کی بندش سے ایسے ہزاروں مسافروں کو درپیش مشکلات کا اندازہ وہی شخص لگا سکتا ہے جو کئی کئی گھنٹے یا دو تین دن خوار ہوا ہوتا ہے۔ کیا ہم سب نہیں جانتے کہ میتیں، مریض، طلبہ، سرکاری ملازمین اور عام مسافر گھنٹوں بلکہ کئی کئی دن راستوں میں پھنس جاتے ہیں۔ہسپتالوں تک بروقت رسائی نہ ہونے سے بعض اوقات قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ پھر امتحانات، انٹرویوز، عدالتی پیشیوں اور اہم ملاقاتوں میں تاخیر یا عدم شرکت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اور بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں کو شدید جسمانی اور ذہنی اذیت برداشت کرنا پڑتی ہے وہ الگ کہانی ہے۔ مسافروں کو خوراک، پانی اور رہائش کے اضافی اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں۔ بعض دفعہ تو قضائے حاجت کے لیے جگہ نہیں ملتی، اندازہ کیجے ایسے میں خواتین کا کیا حشر ہوتا ہوگا۔
اس پر مستز تاجروں اور کاروباری طبقے کے نقصانات کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جن کا کروڈوں کا نقصان ہوچکا ہوتا ہے، اشیائے خورونوش، سبزیوں، پھلوں اور دیگر سامان کی ترسیل متاثر ہوتی ہے۔ کسی چیری والے سے ہی پوچھ لیں کہ گزشتہ ایک ہفتے کی بندش سے اس کا کتنا نقصان ہوا ہے؟ اسی طرح گلگت بلتستان میں اشیائے ضروریہ کی قلت اور مہنگائی پیدا ہو جاتی ہے۔ ہر فرد متاثر ہوجاتا ہے۔ اسی شاہراہ کی بندش سے چین اور پاکستان کے درمیان تجارتی سرگرمیاں اور نقل و حمل کا سلسلہ سست یا معطل ہو جاتا ہے۔ بڑے تاجروں کو روزانہ کروڑوں روپے کے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ خراب ہونے والی اشیاء، خصوصاً پھل، سبزیاں اور گوشت ضائع ہو جاتے ہیں۔
تعمیراتی منصوبوں کے لیے درکار سامان کی فراہمی رک جاتی ہے۔ اوپر سے مقامی آبادی کو درپیش مسائل روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ بہت دفعہ یہ اشیاء ناپید ہوجاتیں ہیں۔ بہت دفعہ یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ ایندھن، گیس اور ادویات کی قلت پیدا ہونے کی وجہ سے زندگی رک سی جاتی ہے۔ اور پھر مقامی کاروبار اور مارکیٹیں متاثر ہوتی ہیں۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کی آمدنی رک جاتی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ لوگوں میں بے چینی، اضطراب اور غیر یقینی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ مریضوں کی بروقت منتقلی ممکن نہیں رہتی ادویات اور طبی سامان کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔ ہنگامی طبی کیسز میں خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ خون، آکسیجن اور دیگر ضروری طبی وسائل کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
اسی طرح تعلیمی شعبے پر بھی خطرناک اثرات پڑتے ہیں، طلبہ اور اساتذہ کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے۔ امتحانات اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔بیرون علاقہ زیر تعلیم طلبہ کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس شاہراہ کی بندش سے قومی اور علاقائی سطح پر بھی بھاری بھرکم نقصانات ہوجاتے ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی نقل و حمل متاثر ہوتی ہے۔قومی معیشت کو براہ راست اور بالواسطہ نقصان پہنچتا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم جیسا عظیم منصوبہ متاثر ہوجاتا ہے۔
گلگت بلتستان جیسے دور افتادہ خطے کی عوام مزید احساسِ محرومی کا شکار ہوتی ہے۔اور بہت کچھ ہوجاتا ہے، ہم سب جانتے ہیں کہ شاہراہِ قراقرم محض ایک سڑک نہیں بلکہ گلگت بلتستان کی معاشی اور سماجی زندگی کی شہ رگ ہے۔ اس کی بار بار بندش صرف سفری دشواری نہیں بلکہ عوامی زندگی، تجارت و معشیت ، سیاحت و صحت، تعلیم و تحقیق اور علاقائی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس لیے مستقل متبادل راستوں، بروقت مرمت، جدید حفاظتی اقدامات اور ہنگامی رسپانس نظام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
یہ سب جاننے اور سمجھنے کے بعد ہم اصل بات کی طرف آتے ہیں، یہ کوئی پوشیدہ بات نہیں، دنیا کے اکثر ترقی یافتہ ممالک میں احتجاج کرنا ایک بنیادی جمہوری حق سمجھا جاتا ہے، لیکن اس حق کے ساتھ یہ شرط بھی لازم ہے کہ عام شہریوں کے حقوق، ٹریفک، ہسپتالوں، کاروبار اور روزمرہ زندگی کو غیر ضروری طور پر مفلوج نہ کیا جائے، اسی لیے وہاں احتجاج کی آزادی اور عوامی سہولت کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے قوانین بنائے گئے ہیں۔
ایک سوال بار بار ذہن میں آجاتا ہے۔
1۔ کیا ترقی یافتہ ممالک میں عام شاہراہیں بند کی جاتی ہیں؟ مختصر جواب یہی ہے کہ "عام طور پر نہیں۔”
اگر کسی ریلی یا مارچ کے لیے سڑک استعمال کرنی ہو تو منتظمین پہلے سے سرکار سے اجازت (Permit) لیتے ہیں، پولیس، ٹریفک اور مقامی انتظامیہ متبادل راستوں کا انتظام کرتی ہے اور مخصوص وقت کے لیے محدود بندش کی اجازت دی جاتی ہے۔ بغیر اجازت اہم شاہراہوں، موٹرویز یا قومی تجارتی راستوں کو بند کرنا اکثر ممالک میں قابل گرفت عمل سمجھا جاتا ہے اسی طرح اکثر ممالک میں پارکوں، میدانوں اور مخصوص عوامی مقامات پر احتجاج کی اجازت ہوتی ہے۔ بڑی ریلیز ، ساؤنڈ سسٹم، یا سڑک بند کرنے والے مارچ کے لیے پرمٹ درکار ہوتا ہے۔ٹریفک بند کرنے والی سرگرمیوں کے لیے خصوصی منظوری ضروری ہوتی ہے، پولیس اور مقامی حکومت احتجاج کے لیے مخصوص راستے، مخصوص اوقات اور حفاظتی انتظامات مقرر کرتی ہے تاکہ عام زندگی متاثر نہ ہو۔
کیا یہ سچ نہیں کہ احتجاج بنیادی حق ہے مگر شاہراہیں مستقل طور پر بند کرنا حق نہیں ہے۔
اسپتالوں،سکولوں،ایمبولینسوں اور ہنگامی خدمات کا راستہ ہر حال میں کھلا رکھا جاتا ہے۔تجارتی اور قومی شاہراہوں کو مفلوج کرنا جرم بن سکتا ہے۔
ریلیوں کے لیے پیشگی اجازت اور انتظامی تعاون کا نظام موجود ہوتا ہے۔ اسی طرح متبادل راستوں کا انتظام حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
جدید جمہوری اور ترقی یافتہ ممالک میں اصول یہ نہیں کہ احتجاج نہ کیا جائے، بلکہ اصول یہ ہے کہ احتجاج بھی ہو اور عوامی زندگی بھی مفلوج نہ ہو۔ اسی لیے وہاں احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے اجازت ناموں، متبادل راستوں، وقت کی پابندی اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے واضح قوانین نافذ ہیں۔ قومی شاہراہوں اور زندگی کی اہم شریانوں کو طویل عرصے تک بند کرنا جرم ہوتا ہے اور اکثر صورتوں میں اس پر حکومتی یا عدالتی کارروائی کی جاتی ہے۔
اسی تناظر میں گلگت بلتستان اسمبلی کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ عوام کے بنیادی معاشی اور سماجی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک جامع قانون سازی کی جائے، جس کے تحت چھوربٹ سے ہربن تک، شندور سے دیوسائی تک، گلگت سے خنجراب تک اور تمام اضلاع کی مرکزی شاہراہوں اور اہم رابطہ سڑکوں کو احتجاج، دھرنوں یا دیگر غیر ہنگامی وجوہات کی بنیاد پر بند کرنا ایک قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔ احتجاج اور اظہارِ رائے کا حق ہر شہری کو حاصل ہے، لیکن اس حق کے استعمال سے لاکھوں دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق، روزگار، صحت، تعلیم اور نقل و حمل متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔
مزید برآں، چونکہ شاہراہِ قراقرم ایک بین الصوبائی اور بین الاقوامی تجارتی راہداری کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے خیبر پختونخوا اور پنجاب کی حکومتوں سے مشاورت کرکے ایسا مربوط قانونی فریم ورک تشکیل دیا جانا چاہیے جس کے تحت کوہستان، بشام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، حسن ابدال اور دیگر حساس مقامات پر بھی اس شاہراہ کی غیر قانونی بندش کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
اس سے بھی زیادہ مؤثر اور دیرپا حل یہ ہوگا کہ (این ایچ اے) وفاقی حکومت کے تعاون سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایک جامع قانون پیش کرے، جس کے ذریعے شاہراہِ قراقرم کو ملکی بلکہ بین الاقوامی اہمیت کی خصوصی شاہراہ (Critical National Corridor) کا درجہ دے کر، قانون سازی کے ذریعے اس کی بندش کے خلاف واضح قانونی اقدامات متعین کیے جائیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ دنیا کے متعدد ترقی یافتہ ممالک میں اہم قومی شاہراہوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور تجارتی راہداریوں کو خصوصی قانونی تحفظ حاصل ہے، تاکہ احتجاج کے حق اور عوامی مفاد کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔
اسی طرح پاکستان اور چین کے درمیان پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) اور دوطرفہ تجارت کی اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے کہ چینی حکومت بھی سفارتی سطح پر حکومتِ پاکستان کے ساتھ اس معاملے پر سنجیدہ مکالمہ کرے اور دونوں ممالک مل کر ایسے انتظامی اور قانونی اقدامات اٹھائیں، جن کے ذریعے شاہراہِ قراقرم ہر ممکن حد تک کھلی، محفوظ اور فعال رہے۔
اس میں دو رائے نہیں کہ شاہراہِ قراقرم محض ایک طویل سڑک نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کی معاشی زندگی، قومی ترقی، علاقائی استحکام اور پاک چین دوستی کی بے مثال علامت ہے۔ اس کی مسلسل فعالیت کو یقینی بنانا صرف حکومتوں ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
کیا ہم اپنی اس ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے پہلی فرصت میں اس حوالے سے قانون سازی کرسکیں گے؟ میں پہلے بھی اس حوالے سے لکھتا رہا ہوں، مزید بھی اپنی گزارشات پیش کرتا رہونگا اور اپنے قارئین سے بھی گزارش کرونگا کہ اس حساس مسئلے پر مل کر آواز اٹھائیں تاکہ ہم سکون کا سانس لے سکیں.