جب سے ادبی دنیا میں مشاعرے سننے اور پھر مشاعرے پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ جب سے منتظمین کو مشاعرے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ مشاعرے کا صدر کون ہوگا ؟ یہ بھی ایک ایسا سوال ہے کہ مشاعرے کو منعقد کروانے والے پہلے یہی سوچتے ہیں کہ مشاعرے کا صدر کسے بنایا جائے؟ بڑے شہروں میں تو سنا ہے کہ شاعروں کو مشاعرہ پڑھنے کامعاوضہ بھی دیا جاتا ہے۔ مگر یہ بڑے شہر کون سے ہیں کراچی لاہور اور اسلام باد باقی شہروں میں تو صدر مشاعرہ کو کچھ بھی نہیں ملتا۔
تنقیدی نشستوں کی نظامت تو میں نے بھی بہت کی ہے۔ وہاں الگ مزاج ہوتا ہے۔ وہاں دس پندرہ لوگوں کے درمیان کسی سینئیر کا انتخاب صدر کے لیے کیا جاتا۔ جن صاحب کو صدر بنایا جاتا ہے وہ ایسے نخرے دکھاتے ہیں کہ جیسے خدانخواستہ ان کو کسی نازیبا حرکت پر اکسایا جارہا ہو۔ پھر لوگوں کے بے حد اصرار پر آخر وہ مان ہی جاتے ہیں۔
شاعروں کے انکار میں بھی اقرار ہی ہوتا ہے۔ پھرمشاعرے کی طرف آتے ہیں ۔ منتظمین شہر میں مشاعرہ کا اہتمام کرنے کے لیے جگہ تلاش کرتے ہیں۔ پھر ایک ایسی لسٹ مرتب کی جاتی ہے کہ جس میں یہ خیال رکھا جائے کہ کون سا شاعر کون سے نمبر پر پڑھے گا۔
اگر خدانخواستہ لسٹ میں ایر پھیر ہو جائے۔ تو لوگ مشاعرے کے بعد لڑنے لڑنے مرنے کو تیاررہتے ہیں۔ مشاعرہ اگر فرشی نشست پر ہو تو لوگ پہلو بدلتے رہتے ہیں۔ اور منتظمین کو بار بار خوشبو والا اسپرے کرنا پڑتا ہے۔ اگر مشاعرہ کسی گھر کے مختصر سے برآمدے یا آنگن میں ہو تو شرکاء ایک دوسرے سے ٹکراتے ہی رہتے ہیں۔
بلا وجہ واہ واہ کہنے کا رواج بھی مشاعروں میں بہت ہوتا ہے۔ زیادہ تر وہی لوگ واہ واہ کررہے ہوتے ہیں۔ جنھیں شعر سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ واہ واہ بھی کمبخت اتنی زور سے کرتے ہیں کہ برابر والے کے کان کے پردے ہی پھٹ جائیں۔ ایک تو جگہ تنگ, اوپر سے مین پوری اور گٹکے کھانے والے شرکاء جن کی واہ واہ بھی آہ آہ بن جاتی ہے اور مین پوری گٹکے کے ذرات بغیر کسی اجازت کے دوسرے آدمی کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
ایک آنکھوں دیکھا سچا واقعہ یا لطیفہ ذہن میں آگیا۔ ایک ادبی نشست ہورہی تھی۔ میں نظامت کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ ایک صاحب کی غزل تنقید کے لیے پیش کی گئی۔ شاعر نے پہلے پوری غزل سنائی۔ جس کے ایک شعر پر ایک سینئیر ادیب نے بہت داد دی اور جوش میں آکر کئی مرتبہ بہترین اور واہ واہ کہا۔ بعد ازاں جب اس شاعر کے ہر شعر پر باری باری گفتگو کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس شاعر کا وہی شعر سب سے کمزور تھا۔ جس پر ہمارے ایک سینئیر ادیب نے خوب تعریف کی تھی۔ بعد ازاں ان صاحب کو ایک ضروری کال آگئے۔ جو اکثر اس طرح کی ایمرجنسی کالیں لوگوں کو آتی رہتی ہیں۔ حالانکہ موبائل کی گھنٹی خاموش تھی۔ ان صاحب کے جانے کے بعد لوگ اپنی ہنسی نہ روک پائے اور یقیناً یہ فلک شگاف قہقہے جاتے جاتے انھوں نے بھی سن لیے ہوں گے۔
چھوٹے شہروں میں بھی ماہانہ مشاعرے ہوتے ہیں۔شہر بھر کے شاعر جمع کرلیے جاتے ہیں اور ان کی تعداد عموماً 60 یا 70 سے اوپر ہی ہوتی ہے۔ شروع میں کم از کم پندرہ بیس شاعروں کو زبردستی سننا پڑتا ہے۔اور ان کی شاعری سن کر خدا کی قدرت پر کامل یقین ہوجاتا ہے کہ زندگی اور موت اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔ ورنہ ایسی شاعری سن کر زندہ رہنا بھی ایک معجزہ ہے۔
کہتے ہیں کہ شاعری کرنا خون تھوکنے کے مترادف ہے ۔ میراخیال ہے کہ ایسی بری شاعری سننا بھی خون تھوکنے کے مترادف ہے۔
ایک بار ہمت کرکے میں نے ناظم مشاعرہ سے پوچھا کہ آپ اتنے لوگوں کو کیوں زحمت دیتے ہیں۔ وہ فرمانے لگے اس شہر میں ایک یہی تو تفریحی کا ذریعہ ہے۔اسکول جن صاحب کا ہے وہ منتظمین میں شامل ہیں۔ وہ اپنے اسکول میں ہمیں ہر ماہ مشاعرہ کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں اور اس کے بدلے ہم ان کی اور ان کے چیلے چپاٹوں کی شاعری سن لیتے ہیں۔ یہی نہیں چائے کا بندوبست بھی وہی کردیتے ہیں۔
اب ذرا اس اسکول کی عمارت پر غور کرلیں ۔ابھی آپ نے اسکول کے اندر قدم نہیں رکھا کہ اسکول ختم ہوگیا۔ نیچے ایک مختصر سا آنگن اور ایک بر آمدہ اور ایک چھوٹا سے کمرہ اب اس اسکول میں تقریباً سو لوگ کس طرح سماسکتے ہیں۔ یہ وہی جانے جو گواتانمو کے قید خانے میں رہا ہو۔ چائے ایسی کہ دیکھ کر دکھ ہونے لگے۔ چائے کا کپ اتنا چھوٹا کہ اس طرح کے چار پانچ کپ ملائے جائیں تو ایک مناسب کپ بنے۔ چینی اتنی کہ شوگر کا مریض بنادے۔
پھر مشاعرے کی طرف آتے ہیں۔ اس طرح کے مشاعروں میں صدارت کے فرائض جو صاحب ادا کر رہے ہوتے ہیں ان کو توپ کی سلامی پیش کرنی چاہیے۔ حلانکہ ان کی باری آتے آتے ایسا لگتا ہے کہ جیسے انھیں کسی نے توپ سے اڑا دیا ہو۔
60 یا 70 لوگوں کی شاعری سننے کے بعد صدر صاحب کی حالت دیکھنے والی ہوتی ہے۔
اس سے پہلے ایک مسئلہ جونئیر اور سینئیر کو پڑھوانے کا بھی ہوتا ہے۔ اور بہت لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔ایسے میں ہمارے ایک جاننے والے ایسی ترکیب لگاتے تھے کہ جیسے ہی ان کی باری آتی وہ پیشاب کرنے کے لیے چلے جاتے ہیں ۔اور مجبوراً ان سے پہلے ان کے سینئر کو پڑھوانا پڑتا ہے۔ وہ محترم جو پیشاب کرنے گئے ہوئے تھے۔ مسکراتے ہوئے آتے ہیں اور مزے سے اپنا کلام پیش کرتے ہیں۔ یعنی ذرا سی دیر کی اس چالاکی اور اس خوشی سے وہ پھولے نہیں سماتے اور خود کو سینئیر کہلونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ انھیں پیشاب کرنے کے بجائے کسی سائیکیٹرس کے پاس جانے کی ضرورت ہے۔
بڑے شہروں میں تو شاعروں خاص کر صدر محفل کا بڑا پروٹوکول ہوتا ہے۔مگر چھوٹے شہروں کے شاعر بس اپنی غزلیں سنا کر ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ انھیں مشاعرے میں لانے اور لے جانے کا بھی کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا۔ اکثر بیچارے رکشہ کرکے یا کسی جونئیر شاعر سے لفٹ لے کے کر محفل مشاعرہ میں پہنچ جاتے ہیں۔
مشاعرے کے دوران منتظمین صدر محفل ,مہمان خاص اور مہمان اعزازی سے منتظمین کو تحفے تحائف دلواکر تقریباً ایک گھنٹہ برباد کردیتے ہیں۔ان تمام خرافات کے بعد آخر کار جب صدر صاحب کی باری آتی ہے۔ تو چراغوں میں روشنی نہیں رہتی۔ محفل میں سو کے بجائے صرف پچیس یا تیس لوگ ہی موجود ہوتے ہیں۔ کافی دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ اس لیے بعض لوگ اونگھ رہے ہوتے ہیں۔بہت سے شاعر اپنا کلام سنا کر رفو چکر ہو چکےہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ چائے پیکر نکل چکے ہیں۔ اور بہت سے دیر ہونے کی وجہ سے گھر کو لوٹ چکے ہوتے ہیں۔ بیچارے صدر صاحب جن کی صدارت میں یہ مشاعرہ منعقد کیا جارہا ہوتا ہے ان کے سننے کے لیے صرف چند ہی لوگ رہ جاتے اور ان میں سے بھی دس بارہ تو انتظامیہ کے ہی لوگ ہوتے ہیں۔
مشاعرے کے اختتام پر انتظامیہ کا ایک آدمی آواز لگاتا ہے کہ کوئی صاحب اگر گھر جارہے ہوں تو صدر صاحب کو بھی چھوڑ دیں۔ دوسرا آدمی کہتا کہ میرے ساتھ تو فلاں صاحب بھی ہیں۔ انتظامیہ کا آدمی کہتا ہے کہ یار ان کو بھی پیچھے بٹھالو دبلے پتلے سے تو آدمی ہیں۔ اور بیچارے صدر مشاعرہ موٹر سائیکل پر پہلے سے دو آدمیوں کے درمیان سینڈ وچ بن جاتے ہیں۔ ایک اجرک اور پک اینڈ ڈراپ کی یہ سہولت۔ ہائے کیسے سادہ ہوتے ہیں چھوٹے شہروں کے لوگ اور چھوٹے شہروں کے مشاعرے۔