حضرت زینب کبریٰؓ: ولادت و تربیت، کربلا میں کردار، خطبہ، تاریخی اثرات

دنیا کے مختلف مکاتبِ فکر میں یہ غلط تصور پایا جاتا ہے کہ اہل بیتؑ، بالخصوص کربلا کے شہداء اور ان کی مقدس شخصیات کے بارے میں علم و محبت صرف ایک خاص فرقے یعنی شیعہ تک محدود ہے۔ لیکن میرے نزدیک محبت کا کوئی یکساں رنگ یا ڈھنگ نہیں ہوتا۔ یہ ایک جذبہ ہے جو ہر دل میں الگ الگ انداز سے جلوہ گر ہوتا ہے، خواہ وہ رب کی محبت ہو یا رسولؐ اور ان کے خاندان کی۔ اسی سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے میں آج کربلا کی ایک شیردل خاتون، حضرت زینب کبریٰؓ، کی زندگی کے بارے میں اختصار سے اپنے خیالات اور جذبات نظر قارئین کر رہی ہوں جو کہ نہ صرف مسلم خواتین بلکہ پوری انسانیت کے لیے آزادی اور استقامت کی علامت ہیں۔

حضرت سیدہ زینبؓ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک عظیم کائنات ہیں جن کے وجود میں علم، شجاعت، صبر اور قربانی کی بے شمار داستانیں سمٹی ہوئی ہیں۔ ان کی شخصیت تاریخِ انسانی کا وہ روشن باب ہے جہاں عقل و حکمت کی کرنیں تاریک راستوں کو منور کرتی ہیں۔ وہ مریمؑ کی پاکیزگی، آسیہؑ کی استقامت، خدیجہؓ کی وفا اور فاطمہؓ کی عصمت کی ایک جامع خاکہ ہیں۔ لیکن کربلا کے میدان میں ان کا کردار اتنا بلند ہے کہ وہ حق و باطل کے درمیان ایک واضح حد فاصل بن کر ابھرتی ہیں۔

ولادت اور نام کی معنویت

حضرت زینبؓ ۵ جمادی الاول ۶ ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں۔ وہ حضرت علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ کی بیٹی تھیں، یعنی رسول اللہﷺ کی نواسی۔ ان کی ولادت پر مدینہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ روایات کے مطابق، جب آپؓ پیدا ہوئیں تو حضرت علیؓ نے ان کے کان میں اذان اور اقامت کہی۔ رسول اللہﷺ سفر سے واپس آئے تو سب سے پہلے اپنی بیٹی فاطمہؓ کے گھر تشریف لائے۔ جب انہیں نو مولود کی خوشخبری ملی تو انہوں نے بچی کو گود میں لے کر فرمایا: خدا نے اس کا نام زینب رکھا ہے۔ یہ نام زینِ اب یعنی باپ کی زینت سے ماخوذ ہے۔ آپﷺ نے اپنا رخسار مبارک زینبؓ کے رخسار پر رکھا تو آنکھوں میں آنسو آ گئے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کی یہ پیاری نواسی آیندہ صعوبتیں برداشت کرے گی۔

تربیت: نبوت اور امامت کے سائے میں

سیدہ زینبؓ کی پرورش ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں ہر سانس وحی کی برکتوں سے معطر تھی۔ نبیﷺ کی شفقت، حضرت علیؓ کی حکمت اور سیدہ فاطمہؓ کی تربیت نے انہیں وہ بلندی عطا کی جو تاریخ میں کم ہی خواتین کو نصیب ہوئی۔ ایک روایت کے مطابق، جب وہ صرف چار سال کی تھیں، ایک دن حضرت علیؓ ایک مہمان کو لے کر آئے۔ گھر میں کھانے کے لیے صرف وہ تھوڑی سی غذا تھی جو زینبؓ کے لیے رکھی گئی تھی۔ چھوٹی سی زینبؓ نے مسکراتے ہوئے کہا: ماں، میرا کھانا بابا کے مہمان کو کھلا دیجیے، میں بعد میں کھا لوں گی۔ یہ سن کر حضرت علیؓ کی آنکھوں میں خوشی چمک اٹھی اور فرمایا: تم واقعی زینب ہو! سیدہ زینبؓ نے کم عمری میں ہی اپنی ماں سیدہ فاطمہؓ کو کھو دیا، لیکن اس صدمے نے انہیں مضبوط بنایا۔

علم و تقویٰ کا آفتاب

اسی طرح زینب بنت علی کی شخصیت علم و حکمت کا ایک درخشاں ستون تھی۔ ان کے والد حضرت علی کرم اللہ وجہہ جنہیں باب علمِ نبی کہا جاتا ہے، اور والدہ سیدہ فاطمہ الزہرا جن کی عظمت کو قرآن نے اہلِ بیت کی آیت میں نمایاں کیا، ان کی تربیت میں ایسی پاکیزگی تھی کہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا بچپن ہی سے علم و عرفان کی بلندیوں کو چھو رہی تھیں۔ کوفہ میں جب انہوں نے خواتین کے لیے تفسیر قرآن کا درس شروع کیا تو لوگ حیران رہ گئے۔ ان کی گہری بصیرت، فصیح و بلیغ قوت بیان اور بے حد دلنشین اندازِ تدریس نے کوفہ کی خواتین کے دلوں کو منور کر دیا۔ ان کا علمی مقام اتنا بلند تھا کہ تاریخ نے انہیں عقیلہ بنی ہاشم اور ثانی زہرا جیسے القابات سے نوازا۔ ان کی علمی عظمت کا یہ عالم تھا کہ خود حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے در پر لوگ آ کر کہتے: یا علی! آپ مردوں کے معلم ہیں، مگر ہماری عورتیں آپ کی بیٹی زینب کے علم سے سیراب ہونا چاہتی ہیں۔

اسی طرح حضرت زینب کبریٰ کی زندگی ایک ایسے دور میں گزری جب اسلامی معاشرے پر جاہلیت کے پرانے زنگ آلود نظریات دوبارہ سر اٹھا رہے تھے۔ اموی حکمران، جو اسلام کے نام پر اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے، درحقیقت اسلام کی روح کو مسخ کرنے میں مصروف تھے۔ وہ قبیلہ پرستی، نسلی تفاخر اور دنیا پرستی کو فروغ دے رہے تھے، جبکہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو پس پشت ڈال چکے تھے۔ ایسے ماحول میں، حضرت زینب بنت علی نے اپنے بھائی حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مل کر حق کی آواز بلند کی۔ ان کا ساتھ دینا محض بھائی سے محبت کا اظہار نہیں تھا، بلکہ یہ اسلام کی سربلندی کے لیے ایک مقدس جہاد تھا۔ ان کا وجود عشقِ الٰہی اور عشقِ رسول سے اس قدر سرشار تھا کہ انہوں نے ہر مصیبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا، کیونکہ ان کے لیے دین کی حفاظت سے بڑھ کر کوئی مقصد نہیں تھا۔

کربلا میں حضرت زینب بنت علی کا کردار

واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس میں حق و باطل کی معرکہ آرائی کے ساتھ ساتھ ایمان، صبر اور استقامت کی لازوال داستانیں رقم ہوئی ہیں۔ اس عظیم قافلے کی معیت حضرت زینب کبری کے ہاتھوں میں تھی، جو حضرت امام حسین کے بعد اس مقدس مشن کی امین بنیں۔ یہ وہی قافلہ تھا جس کا سربراہ خود سید الشہداء امام حسین تھے، جن کے ہمراہ ان کے وفادار اصحاب، بہادر فرزند علی اکبر، غیور بھائی عباس اور بنی ہاشم کے دیگر جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ یہ وہ مردانِ حق تھے جن کی حمایت اور نگہبانی نے دشمن کو خیموں کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا۔ جنگ کے دوران جب حضرت امام حسین کی آواز میں "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللہ” گونجتی تو دشمن کے قدم لرز جاتے، گویا امام اپنے جانثاروں کو تسلی دے رہے ہوں۔

جب یہ بہادر فرزندانِ اسلام شہید ہو گئے تو امام زین العابدین کے بعد قافلے کی قیادت ایک ایسی ہستی کے سپرد ہوئی جو صبر و استقامت کی پہاڑ تھیں حضرت زینب بنت علی۔ وہ حضرت علی مرتضیٰ کی بیٹی، فاطمہ زہراء کی لختِ جگر تھیں، جن کے عزم کے سامنے پہاڑ بھی سرنگوں ہو جاتے اور جن کے صبر پر فرشتے حیران رہ جاتے۔ یہی وہ عظیم خاتون تھیں جنہوں نے بنی امیہ کے ظلم کے شاہی قصروں کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں اور ان کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔

حضرت زینب بنت علی وہی سیدہ ہیں جو امام حسین کے حکم پر اولادِ فاطمہ کے قافلے کی سرپرستی کرتی ہیں۔ انہوں نے بے پناہ مصائب برداشت کرنے کے بعد بھی امام حسین اور ان کے اصحاب کا خونین پیغام دنیا تک پہنچایا۔ مصری مصنف عباس محمود عقاد لکھتے ہیں کہ "جب ابن زیاد نے امام زین العابدین کو قتل کرنے کا حکم دیا تو زینب بنت علی نے فوراً اپنے بھتیجے کو اپنی آغوش میں لے لیا اور کہا: اگر تمہیں انہیں قتل کرنا ہے تو پہلے مجھے قتل کرو! یہ جرات دیکھ کر ابن زیاد اور اس کے درباری حیران رہ گئے۔ اگر زینب بنت علی کی یہ بے خوفی نہ ہوتی تو شاید امام حسین کی نسل کی آخری یادگار بھی ختم ہو جاتی”۔

اس طرح لبنانی مفکر محمد جواد مغنیہ کے مطابق، بنی امیہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد کو ختم کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کے علوم اور اثرات مٹ جائیں۔ شمر نے کہا تھا: امیر عبیداللہ کا حکم ہے کہ حسین کی تمام اولاد کو قتل کر دو! مگر زینب بنت علی نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر امام سجاد کو بچا لیا”۔ شیخ صدوق کے مطابق، زینب بنت علی کو امام حسین کی طرف سے خاص نیابت حاصل تھی، جس کی وجہ سے لوگ ان سے شرعی مسائل پوچھتے تھے۔ علامہ مامقانی نے تنقیح المقال میں لکھا ہے کہ "زینب بنت علی مقامِ عصمت پر فائز تھیں، ورنہ امام حسین انہیں امامت کے فرائض نہ سونپتے۔

ابن زیاد نے اہلِ بیت علیہم السلام کو کچھ دنوں تک کڑی نگرانی میں رکھنے کے بعد شام کی جانب روانہ کر دیا۔ شام کا علاقہ جسے مسلمانوں نے فتح کیا تھا، وہاں ابتدا ہی سے خالد بن ولید اور معاویہ بن ابی سفیان جیسے حکمرانوں کی عملداری رہی۔ اس خطے کے لوگوں کو نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہوا اور نہ ہی وہ اصحابِ رسول کے سیرت و کردار سے مکمل طور پر واقف ہو سکے۔ اگرچہ کچھ صحابہ کرام وہاں آباد ہوئے، لیکن وہ عام لوگوں میں کوئی خاص اثر و رسوخ نہ رکھتے تھے۔ نتیجتاً، شام کے مسلمان معاویہ بن ابی سفیان کے طرزِ حکمرانی اور اس کے کردار کو ہی اسلام کا نمونہ سمجھنے لگے۔ جب اہلِ بیت کا قافلہ شام پہنچا، تو یزید کے حامیوں نے شہر کو جشن و مسرت سے بھر دیا۔ یزید نے اپنے محل میں ایک شاندار محفل سجائی، جہاں اس کے درباری اور ہم نوا جمع تھے تاکہ اپنی ظاہری فتح کا جشن منائیں۔

حضرت زینب بنت علی کا تاریخی خطبہ

زینب بنت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زہراء کی طرح ظالم کے سامنے بے خوف ہو کر حق کا پرچم بلند کیا۔ دربارِ یزید میں کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل پر درود بھیجا، اور پھر قرآن کی اس آیت سے اپنے خطبے کا آغاز کیا:

"ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِينَ أَسَاءُوا السُّوءَىٰ أَن كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّـهِ…”

یزید یہ سمجھ رہا تھا کہ اس نے زمین و آسمان کو اہلِ بیت پر تنگ کر دیا ہے، اس کے کارندوں نے انہیں شہر بہ شہر ذلت کے ساتھ پھرایا ہے اور وہ خود فخر محسوس کر رہا ہے۔ کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس ظلم سے اس کی عظمت بڑھ گئی ہے؟ جب وہ اپنی فوجی طاقت اور منظم حکومت کو دیکھتا ہے تو غرور سے سرشار ہو جاتا ہے۔ لیکن کیا اس نے اللہ کے اس فرمان کو بھول گیا ہے:

کافر یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے جو مہلت دی ہے، یہ ان کے لیے بہتری کا سبب ہے۔ ہم تو انہیں اس لیے مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور زیادہ اضافہ کر لیں، پھر ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔

اے یزید! تو ابنِ طلقاء (آزاد کردہ غلام) ہے۔ کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تیری بیٹیاں اور لونڈیاں پردے میں محفوظ ہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیوں کو سرِ بازار گھمایا جا رہا ہے؟ کیا یہ تیرا کمال ہے کہ تو نے حسین ابن علی علیہما السلام کے دانتوں پر چھڑی مار کر اپنے بزرگوں کی موت کا بدلہ لیا؟ کیا تو نے کبھی سوچا کہ تو نے کس قدر بڑا گناہ کیا ہے؟ تو نے آلِ رسول کا خون بہایا ہے، عبدالمطلب کے خاندان کو تہہ تیغ کیا ہے۔

اے یزید! خوشی نہ منا، کیونکہ عنقریب تو اللہ کے سامنے کھڑا ہو گا۔ اس دن تو آرزو کرے گا کہ کاش تو اندھا ہوتا اور یہ دن نہ دیکھتا۔ تو کہتا ہے کہ اگر میرے بزرگ زندہ ہوتے تو خوشی سے اچھل پڑتے۔ لیکن یاد رکھ، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ان کے اہلِ بیت اور ان کے چہیتے فرزند رحمتِ الٰہی کے سائے میں ہوں گے، تو ذلت کے ساتھ ان کے سامنے کھڑا ہو گا۔ وہ دن وہ ہو گا جب اللہ اپنا وعدہ پورا کرے گا اور مظلومین کو انصاف دے گا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے ہاں رزق پا رہے ہیں۔

اے یزید! تیرے باپ معاویہ نے تجھے ناحق مسلمانوں پر مسلط کیا ہے۔ جس دن محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدعی ہوں گے اور اللہ خود فیصلہ کرے گا، اس دن تیرے ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے۔ پھر معلوم ہو گا کہ کون زیادہ بدبخت ہے۔

اے دشمنِ خدا! میری نظر میں تو اس قابل بھی نہیں کہ تجھے سرزنش کروں۔ لیکن میری آنکھیں اشکبار ہیں، میرا دل غم سے چور ہے۔ حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد شیطان کے لشکر نے ہمیں کوفہ سے تیرے دربار تک کھینچ لایا ہے، تاکہ آلِ رسول کی بے حرمتی کر کے مسلمانوں کے بیت المال سے انعام حاصل کریں۔ جب تیرے سپاہیوں کے ہاتھ ہمارے خون سے رنگین ہو چکے ہیں، جب ان کے منہ ہمارے عزیزوں کے گوشت سے بھر چکے ہیں، جب ہمارے پاکیزہ جسموں کے اردگرد درندے منہ مار رہے ہیں، تو اب تیری مذمت کرنے سے کیا حاصل؟

اگر تو یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے مردوں کو شہید اور ہماری عورتوں کو اسیر کر کے تو نے فتح حاصل کر لی ہے، تو جان لے کہ یہ تیرا خیال غلط ہے۔ عنقریب وہ دن آئے گا جب تیرا یہ فائدہ تیرے لیے وبال بن جائے گا۔ اس دن تیرے پاس تیرے اعمال کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ تو ابنِ زیاد سے مدد مانگے گا، اور وہ تیری کوئی مدد نہ کر سکے گا۔ تم سب اللہ کے دربار میں کھڑے ہو گے، اور پھر معلوم ہو گا کہ کامیاب کون ہوا۔

تیرے باپ معاویہ نے تیرے لیے جو کچھ جمع کیا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تو نے رسول اللہ کے بیٹوں کو قتل کر ڈالا۔ اللہ کی قسم! میں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی اور اسی کے سوا کسی سے شکایت نہیں کرتی۔ جو کرنا ہے کر لے، جو چال چلنی ہے چل لے۔ اپنی تمام دشمنی کا اظہار کر لے، لیکن یاد رکھ، تیرے دامن پر جو داغ لگ چکا ہے، وہ کبھی مٹنے والا نہیں۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جس نے جوانانِ جنت کے سرداروں کو کامیابی عطا کی اور جنت کو ان کے لیے واجب قرار دیا۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ان کی عزت و عظمت میں اضافہ فرمائے اور اپنی رحمت کا سایہ ان پر مزید وسیع کرے، کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

شام کے لوگوں نے آہستہ آہستہ کربلا کے سانحے کی حقیقت کو جان لیا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ یزید کے حکم اور کوفی فوج کے ہاتھوں رسول خدا کے نواسے حسین بن علی اور ان کے خاندان کو شہید کیا گیا ہے۔ وہ خواتین اور بچے جو قیدی بنا کر دمشق لائے گئے ہیں، درحقیقت پیغمبر اسلام کے اہل بیت ہیں وہی مقدس خاندان جس کی آڑ میں یزید مسلمانوں پر حکومت کر رہا تھا۔

بازارِ حمیدیہ، جہاں شہدائے کربلا کی عورتوں اور بچوں کو اونٹوں پر لایا گیا تھا، زینب کبری کے خطبے کی گونج سے لرز گیا۔ آپ کے الفاظ، جو تقویٰ اور سوختہ جگری سے لبریز تھے، نے ایسا اثر چھوڑا کہ پتھر دل انسان بھی رونے پر مجبور ہوگیا۔ ایمان کی طاقت اور حق کی گواہی نے یزید کے محل میں خاموشی طاری کر دی۔ جب یزید نے اپنے درباریوں کے چہروں پر نفرت اور بیزاری کے آثار دیکھے، تو وہ گھبرا کر بولا: خدا ابن مرجانہ (عبیداللہ بن زیاد) کو رسوا کرے! میں نے حسین کے قتل کو کبھی پسند نہیں کیا۔

اس کے بعد یزید کو احساس ہوا کہ قیدیوں کو اسی حالت میں رکھنا اس کی سیاسی موت کا سبب بن سکتا ہے۔ چنانچہ اس نے حکم دیا کہ انہیں کسی مناسب جگہ منتقل کر دیا جائے اور قریش کی خواتین کو ان سے ملنے کی اجازت دے دی گئی۔ زینب بنت علی کی عظمت اس وقت پوری آب و تاب سے نمایاں ہوئی جب آپ نے یزید کے دربار میں کھڑے ہو کر نہ صرف حق کا پرچم بلند کیا، بلکہ اپنے خطبے سے اس کے ظلم کی بنیادیں ہلا دیں۔

حضرت زینب بنت علی نے اپنے خطبے کے اختتام پر یزید کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: تم اپنی تمام چالوں اور مکاریوں کو بروئے کار لے آؤ، اپنی پوری طاقت صرف کر دو، لیکن خدا کی قسم! تم ہماری یاد کو مٹا نہیں سکتے، وحی الہی کو ختم نہیں کر سکتے… تمام تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جس نے ہمارا آغاز سعادت و مغفرت سے کیا اور ہمارا اختتام شہادت و رحمت پر فرمایا۔ یہ تاریخی کلمات درحقیقت اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی انقلابی تحریک میں اہل حرم کو ساتھ کیوں لے کر نکلے تھے۔

یزید کے دورِ ظلم میں جب لوگ جان و مال کے خوف میں گھرے ہوئے تھے، جب دنیا کی حرص و ہوس نے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، جب کوفہ و شام کے مال پرستوں کے لیے بیت المال کے دروازے کھول دیے گئے تھے، ایسے میں اگر امام حسین کے اہل حرم موجود نہ ہوتے، اگر حضرت زینب اور امام سجاد کی قیادت میں اسرائے کربلا نے اپنے خطبوں اور تقریروں سے حق کا پرچم بلند نہ کیا ہوتا، تو کربلا کی سرزمین پر بہنے والا خون رائیگاں چلا جاتا۔ دنیا کو برسوں تک پتہ نہ چلتا کہ آبادیوں سے دور اس ریگزار میں کون سا المناک سانحہ پیش آیا تھا، اسلام اور قرآن کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا تھا۔

حضرت زینب بنت علی نے یزید کے مظالم کو بے نقاب کرتے ہوئے، کربلا میں اہل بیت پر ڈھائے گئے ظلم و ستم کو دنیا کے سامنے پوری جرآت سے پیش کیا۔ آپ کے خطبوں نے ایک ایسا انقلاب برپا کر دیا جو بنو امیہ کے زوال کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔ آپ کا ایک یادگار قول ہے: اللہ تعالیٰ کو تم پر جو قدرت حاصل ہے، اسے پیش نظر رکھتے ہوئے اس سے ڈرتے رہو، اور اس کی قربت کو مدنظر رکھ کر (گناہوں سے) حیا کرو۔

حضرت زینب بنت علی امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد 15 رجب 62 ہجری کو اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔ آپ کا مزار مقدس شام کے دارالحکومت دمشق میں واقع ہے۔ حضرت زینب کے خطبات دینی معارف سے لبریز، معاشرتی حقائق کی عکاسی کرنے والے اور گہرے مفاہیم پر مشتمل تھے۔ آپ جو خود وحی کے مکتب کی ایک عظیم معلمہ تھیں، ہمیشہ اپنے خطبات کا آغاز پروردگار عالم کے ذکر سے فرماتی تھیں۔ آپ اللہ کی یاد میں اس قدر محو رہتی تھیں کہ رضائے الہی کے مقابلے میں تمام مصائب کو معمولی سمجھتی تھیں، اسی لیے پوری جرأت اور استقامت کے ساتھ انہیں برداشت کیا۔

جب کوفہ کے گورنر ابن زیاد نے آپ سے پوچھا: اپنے بھائی کے بارے میں اللہ کے فیصلے کو کیسا پایا؟ تو آپ نے پورے اطمینان سے جواب دیا: ہم نے اس میں خیر ہی خیر دیکھی۔ اللہ نے ان کے لیے شہادت کا فیصلہ کر لیا تھا، اور اب وہ اس کی بارگاہ میں آرام فرما رہے ہیں۔ عنقریب اللہ تمہیں اور انہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا، پھر دیکھنا کہ کون کامیاب ہوتا ہے۔

یہ روحانی عظمت جو دشمنوں کی ذلت کا باعث بنی، درحقیقت اللہ کی مدد پر کامل بھروسے کا نتیجہ تھی۔ گویا حضرت زینب نے خود کو اللہ کی لازوال طاقتوں سے مربوط کر لیا تھا۔ آپ امام حسین کے معاشرتی کردار اور اس کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ تھیں، اسی لیے اپنے بھائی امام حسین اور بھتیجے امام زین العابدین کے مقام و مرتبہ کو واضح کرنا ضروری سمجھتی تھیں۔ کوفیوں کو مخاطب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: تم نے فرزند رسول، جوانان جنت کے سردار کو شہید کر کے اپنے دامن پر جو داغ لگایا ہے، اسے کبھی نہیں مٹا سکوں گے۔ وہ جو تمہاری پناہ گاہ، امن کے محافظ، دین کے نگہبان اور شریعت کے محافظ تھے۔

قرآنی مفاہیم پر آپ کی گہری نظر تھی۔ آپ نے اپنے خطبوں میں سورہ احزاب کی آیت 33 کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے خاندان کی عصمت و طہارت کا اعلان کیا: ہمارے لیے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں رسول کے ذریعے شرافت عطا کی اور ہر ناپاکی سے پاک رکھا۔ اسی طرح سورہ آل عمران کی آیت 178 کی تلاوت کر کے یزید سے کہا: تیری یہ عیش کی زندگی عارضی ہے۔ اللہ تجھ سے سخت حساب لے گا۔ یہ دنیا گناہگاروں کو مہلت دینے کے لیے ہے۔

حضرت زینب نے اپنے خطبوں میں یزید اور ابن زیاد کو خوب شرمسار کیا، ان کے اسلام دشمن اقدامات کو بے نقاب کیا۔ آپ نے فرمایا: تو نے اللہ کے خلاف بغاوت کی ہے، رسول، قرآن اور اسلام کے احکام کا انکار کیا ہے۔ اگر مصائب نے مجھے تیرے سامنے کھڑا نہ کیا ہوتا تو میں تجھ جیسے فاسق و فاجر سے کبھی بات نہ کرتی۔ میں تیرے ظاہری رعب کو تیری حقیقی ذلت سے زیادہ حقیر سمجھتی ہوں۔

اہل بیت وہ مقدس ہستیاں ہیں جو نبوت کے فیض سے سیراب ہوئے اور ہمیشہ کے لیے حق کے ترجمان بن گئے۔ یہی وہ خاندان ہے جس کے افراد نے حق کی بقا اور باطل کے فنا کے لیے قربانیوں کی لازوال مثالیں قائم کیں۔ کربلا جہاں امام حسین کی قربانی کا مظہر ہے، وہیں حضرت زینب کے کردار کی عظمت کا بھی آئینہ ہے۔ تاریخ میں کوئی بڑی تحریک ایسی نہیں جس میں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی اہم کردار ادا نہ کیا ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے