صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔
صدر زرداری نے کہا ہے کہ بے گناہ خاتون کے تحفظ کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنا اعلیٰ انسانی اقدار اور قومی خدمت کی روشن مثال ہے، اسلام آباد کی اہم شاہراہ پر اس طرح کی واردات باعثِ تشویش ہے، ایسے واقعات کے مکمل سدباب کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
وزیرِ اعظم نے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق نے ایک خاتون کی جان و عزت کے تحفظ کے لیے جان کا نذرانہ پیش کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق نے بے مثال جرأت، بہادری اور فرض شناسی کی مثال قائم کی، قوم ایسے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ پوری قوم شہید کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے، واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کر کے ذمے دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔
آئی جی اسلام آباد کی گروپ کیپٹن عاصم کے قتل میں ملوث ملزم کی گرفتاری کی تصدیق
انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی نے ملزم سعد عباسی کی گرفتاری کی تصدیق کردی۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں آئی جی علی ناصر رضوی نے کہا کہ ملزم خاتون کو زبردستی اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا، خاتون بضد تھی کہ میں کسی اور جگہ نہیں جاؤں گی۔
انہوں نے کہا کہ ملزم سعد عباسی اور خاتون ساتھ کام کرتے تھے، گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید نے خاتون کو ملزم سے بچایا۔
آئی جی اسلام آباد نے مزید کہا کہ صبح 11 بج کر 21 منٹ پر گروپ کپٹن عاصم کو شہید کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس ہمارے لیے اہم اور چیلنجنگ تھا۔ حاضر سروس گروپ کیپٹن کا فائرنگ میں شہید ہونا تشویش ناک تھا۔
انہوں نے کہا کہ ملزم اور خاتون کھنہ کے علاقے میں رہتے اور ایک ساتھ ڈیوٹی پر آتے تھے۔
علی ناصر رضوی نے کہا کہ اسلام آباد پولیس نے قتل کے ملزم کو 9 گھنٹے میں گرفتار کرلیا۔