کبھی بنیاد کے پتھروں سے مت چھیڑیں

ادارے ہوں یا محکمے، تنظیمیں ہوں یا جماعتیں، ہر نظام کی مضبوطی چند ایسے لوگوں کی مرہون منت ہوتی ہے جو انتہائی مخلص، باصلاحیت، صاحب وژن اور غیر معمولی اہلیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہی لوگ درحقیقت اس عمارت کے بنیاد کے پتھر ہوتے ہیں۔ ان کی خاموش محنت و لگن، دیانت، اخلاص اور دور اندیشی کے دم سے پورا نظام چل رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنی خدمات کا شور نہیں مچاتے بلکہ اپنے کردار اور کارکردگی سے پہچانے جاتے ہیں۔ یہی ان کا اصل مقام بھی ہوتا ہے۔

اس کے برعکس انہی اداروں ، محکموں ، تنظیموں اور جماعتوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمیشہ ذاتی مفاد، خوشامد، چاپلوسی اور وقتی فائدے کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں۔ ان کی وفاداری اصولوں یا ادارے سے نہیں بلکہ اپنے مفاد سے ہوتی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے اکثر اداروں، محکموں، تنظیموں اور جماعتوں میں انہی لوگوں کو آگے بڑھایا جاتا ہے، جبکہ خاموشی سے کام کرنے والے مخلص افراد نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔وہ بیچارے ملتفت نگاہ ہی نہیں ہوتے۔

قرآن مجید کی الہامی ہدایات پر اگر ہم غور و فکر کریں تو اس حوالے سے ہمیں واضح روشنی ملتی ہے، اللہ تعالیٰ صاف ارشاد فرماتے ہیں کہ

"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا”

"بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل لوگوں کے سپرد کرو۔” (النساء: 58)

اب ذرا غور کیجئے، کسی ادارے کی ذمہ داری، فیصلہ سازی یا قیادت بھی ایک امانت ہے۔ جب یہ امانت اہل، دیانت دار اور صاحبِ صلاحیت افراد کے بجائے خوشامدی یا مفاد پرست لوگوں کے سپرد کر دی جائے تو نقصان صرف افراد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہوتا ہے۔ اور ہم یہی نقصانات بھگتتے بھگتتے دنیا سے چلے جاتے ہیں۔

رسول اکرم کا ارشاد ملاحظہ کیجیے

"إِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ.”

"إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ.”

"جب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو۔”

یہ احادیث صرف ریاستی حکومت کے لیے نہیں بلکہ ہر ادارے، جماعت، تنظیم اور فاؤنڈیشن کے لیے ایک بنیادی اصول بیان کرتی ہے۔ کھبی فرصت کے لمحات میسر ہوں تو اللہ اور رسول کے فرامین پر غور کیجے اور پھر اپنی زندگی اور فیصلوں کا جائزہ لیں، شاید پھر سے اصلاح کرنے کا موقع ملے۔

دوسری طرف مخلص اور وژنری افراد اپنی عزتِ نفس کی وجہ سے خوشامد اور چاپلوسی سے گریز کرتے ہیں۔ وہ اپنے علم، ہنر اور کام کو اپنی پہچان بناتے ہیں۔ یہی خودداری اکثر اوقات ان کی محرومی کا سبب بن جاتی ہے، کیونکہ خوشامد کے ماحول میں کردار اور قابلیت اکثر پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کسی ادارے نے اپنے مخلص، اہل اور دیانت دار افراد کو نظر انداز کیا، ان کی حوصلہ شکنی کی یا انہیں دیوار سے لگایا، تو اس ادارے کی بنیادیں رفتہ رفتہ کمزور ہوتی گئیں۔ بظاہر عمارت کچھ عرصہ قائم رہی، مگر اندر سے کھوکھلی ہو گئی۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کسی بھی ادارے کی اصل طاقت چاپلوسی نہیں بلکہ اخلاص، اہلیت، دیانت، امانت اور بہترین کارکردگی ہے۔ جو قیادت ان صفات کی قدر کرتی ہے وہ مضبوط ادارے تعمیر کرتی ہے، اور جو صرف مفاد پرستوں کے گرد گھومتی ہے وہ اپنی بنیادیں خود کمزور کر دیتی ہے۔

یاد رکھیے! عمارتیں صرف پتھر کے ٹکروں سے نہیں بلکہ بنیادوں سے قائم رہتی ہیں، اور جو لوگ بنیاد کے پتھروں کو ہٹا دیتے ہیں، وہ دراصل اپنی ہی عمارت کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ زندگی میں کھبی بھی بنیاد کے پتھروں سے مت چھیڑیں، ان کے ناز نخرے بھی برداشت کیجیے، اور انہیں پورا پورا مقام دیجئے، اگر ہم کامیاب اور ناکام اداروں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں تو یہی فرق واضح نظر آجائے گا۔جن اداروں نے بنیاد کے پتھروں کا لاج رکھا وہی اپنی فیلڈ میں بادشاہت کرتے چلے گئے۔ اور جنہوں نے ان بنیاد کے پتھروں سے چھیڑا وہ زمین بوس ہوگئے۔ تو فیصلہ کیجیے، آپ نے فلک بوس ہونا ہے زمین بوس نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے