وقت کی بساط اور قوموں کا مقدر

موسم بدلتے ہیں تو پرندے اپنی ہجرت کا سفر بدل لیتے ہیں، پتجھڑ کے بعد بہار کی آمد ایک طے شدہ فطری امر ہے، لیکن جب وقت بدلتا ہے تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے۔ ہم اکثر اپنے اردگرد مٹی کے ڈھیروں، ویران عمارتوں اور ماضی کے آثار کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ زوال کی داستانیں کیسے لکھی جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زوال کبھی اچانک اور یکدم نہیں آتا یہ اس وقت بہت آہستہ سے، دبے پاؤں دستک دیتا ہے جب کوئی معاشرہ گھڑی کی ٹک ٹک کو محض ایک آواز سمجھ کر نظر انداز کرنے لگتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے لمحوں کی قیمت چکانے سے انکار کیا، وقت نے اسے اپنے صفحات سے مٹا کر کسی عبرت ناک کہانی کا حصہ بنا دیا۔

ادب کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ وقت وہ دریا ہے جس کا پانی دوبارہ کبھی آپ کے پاؤں کو نہیں چھوتا۔ جو قطرہ ایک بار گزر گیا، وہ اب ایک قصہ ہے، ایک یاد ہے یا پھر ایک پچھتاوا۔ حیرت ہوتی ہے کہ ہم اس مٹھی سے پھسلتی ہوئی ریت کو روکنے کی الٹی سیدھی کوششیں تو کرتے ہیں، مگر اس کے درست استعمال کا ہنر سیکھنے سے کتراتے ہیں۔ دنیا کے نقشے پر اگر نظر دوڑائی جائے، تو جن خوابوں کی تعبیریں آج فلک بوس عمارتوں، معاشی استحکام اور جدید ایجادات کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں، ان کے پیچھے کوئی جادوئی چراغ نہیں تھا، بلکہ وقت کی قدر کا وہ گہرا احساس تھا جو ان قوموں نے اپنے قومی منشور کا پہلا صفحہ بنا لیا تھا۔ انہوں نے یہ بات جان لی تھی کہ جو قوم سورج نکلنے کے بعد بیدار ہوتی ہے، وہ کبھی دنیا کی قیادت کا خواب نہیں دیکھ سکتی۔

ہمارے سماجی رویوں میں ایک عجیب سا تضاد بن چکا ہے۔ ہم اچھے دنوں کا انتظار تو بہت بے صبری سے کرتے ہیں، مگر ان دنوں کو اچھا بنانے کے لیے درکار محنت، عزم اور وقت کی منظم سرمایہ کاری سے ہمیشہ پیچھا چھڑاتے ہیں۔ ہم گھنٹوں بے مقصد بحث و مباحثے، لاحاصل سوشل میڈیا کی دنیا اور لایعنی محفلوں میں گنوا دیتے ہیں، اور پھر شام کو چائے کی پیالی پر گلہ کرتے ہیں کہ حالات نہیں بدل رہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ حالات خود نہیں بدلتے، انہیں بدلنے کے لیے لمحوں کو پسینے سے سینچنا پڑتا ہے۔ تبدیلی کسی معجزے کا نام نہیں، یہ روزمرہ کے ان چند لمحوں کی حفاظت کا نام ہے جنہیں ہم اکثر "چلو کل کر لیں گے کہہ کر سرد خانے کی نذر کر دیتے ہیں۔ یہ کل دراصل وہ خوبصورت سراب ہے جو انسان کو کبھی منزل کے قریب پہنچنے نہیں دیتا، بلکہ ایک ہی دائرے میں گھماتا رہتا ہے۔

اگر ہم گہرائی میں جا کر دیکھیں تو وقت کی بے قدری صرف ایک انفرادی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پورے معاشرتی ڈھانچے کا المیہ بن چکا ہے۔ ہمارے ہاں تقریبات کا دیر سے شروع ہونا، دفتری امور میں تاخیری حربے استعمال کرنا اور ملاقاتوں کے طے شدہ وقت کی پاسداری نہ کرنا اب ایک عام سی بات سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے اسے "روایت” کا نام دے کر اپنی سستی کو چھپانے کا ایک مستقل بہانہ تراش لیا ہے۔ جب ایک عام شہری سے لے کر اعلیٰ ترین سطح تک وقت کی اس طرح پامالی کی جائے، تو وہاں ترقی کی رفتار خود بخود سست ہو جاتی ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے اپنی عدالتوں، اپنے اسکولوں اور اپنے کارخانوں میں سب سے پہلا نظم و ضبط وقت کا قائم کیا۔ وہاں ایک منٹ کی تاخیر کو ایک جرم کی طرح دیکھا جاتا ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ضائع شدہ منٹ کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔

چراغ تبھی روشن رہتا ہے جب اس میں باقاعدگی سے تیل ڈالا جائے اور اس کی لو کی حفاظت کی جائے۔ بالکل اسی طرح، کسی بھی سماج کی معاشی اور اخلاقی ترقی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اس کے افراد اپنے آج کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ جب تک ہم وقت کی اس انمول دولت کو بے دردی سے لٹاتے رہیں گے اور اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالتے رہیں گے، تب تک ہم صرف دنیا کی کامیابیوں پر دور کھڑے ہو کر تالیاں بجانے کے قابل ہی رہ جائیں گے۔ تاریخ کا قلم بڑا بے رحم اور منصف ہوتا ہے؛ یہ ان کا نام سنہرے حروف میں لکھتا ہے جو وقت کی نبض پر ہاتھ رکھنا جانتے ہیں، جو صبح کی پہلی کرن کے ساتھ اپنے مقاصد کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں، اور یہ ان قوموں کو گمنامی کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے جو صرف گھڑی کی سوئیاں دیکھ کر دن گزرنے کا انتظار کرتی ہیں۔

ترقی کا راز بڑی بڑی تقریروں یا کاغذی منصوبوں میں نہیں، بلکہ اس خاموش عمل میں چھپا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر ہر فرد اپنے دائرہ کار میں سرانجام دیتا ہے۔ جب ایک استاد وقت پر کلاس میں پہنچتا ہے، جب ایک مزدور اپنے کام کے گھنٹوں دیانتداری سے پورے کرتا ہے، اور جب ایک دکاندار اپنے وقت کو گاہکوں کے ساتھ سچائی کی بنیاد پر استعمال کرتا ہے، تو وہ قوم ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بڑے معجزے کی امید میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا بذاتِ خود وقت کے ساتھ سب سے بڑا مذاق ہے۔

آج سوچنے کی اصل بات یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی اسی پرانی ڈگر پر چلتے رہیں گے یا اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں میں وہ ٹھہراؤ، سنجیدگی اور نظم و ضبط لائیں گے جو ایک باوقار قوم کا حقیقی شیوہ ہوتی ہے؟ کیا ہم وقت کی اس لہر کے ساتھ بہتے چلے جائیں گے یا اس کا رخ موڑنے کی جرات کریں گے؟ فیصلہ کسی اور کا نہیں، ہمارا اپنا ہے، کیونکہ وقت کی بساط پر مہرے بڑی تیزی سے پلٹ رہے ہیں اور گزرتے ہوئے لمحے کسی کے لیے بھی اپنی رفتار سست نہیں کرتے۔ اگر آج بھی ہم نے بیداری کا ثبوت نہ دیا، تو آنے والی نسلیں ہماری سستی کا خمیازہ بھگتیں گی اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے