ریاست کی بھوک ختم نہیں ہوتی، عوام کی روٹی ختم ہو جاتی ہے

حکومت اور ڈاکو میں ایک بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ ڈاکو ایک بار لوٹتا ہے، ریاست قانون کے نام پر بار بار لوٹتی ہے ۔ فرق صرف طریقۂ واردات کا ہے۔

پاکستان کا عام شہری شاید دنیا کا واحد شہری ہے جو ہر صبح یہ سوچ کر گھر سے نکلتا ہے کہ آج اس کی جیب پر کون سا نیا حملہ ہوگا۔ پٹرول خریدے تو ٹیکس، بجلی جلائے تو ٹیکس، گیس استعمال کرے تو ٹیکس، موبائل ری چارج کرے تو بھاری ٹیکس، موٹر وے پر چلے تو ٹول، گھر بنائے تو ٹیکس، کاروبار کرے تو ٹیکس، مر جائے تو ورثہ بھی ٹیکسوں کے نظام سے محفوظ نہیں۔ ریاست کا ہاتھ اب شہری کی جیب میں نہیں، بلکہ اس کی سانسوں تک پہنچ چکا ہے۔

11 جولائی کو حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 13 روپے 18 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا، جس کے بعد قیمت 310 روپے 71 پیسے ہو گئی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس اضافے کی بڑی وجہ عالمی منڈی نہیں بلکہ حکومت کے اپنے فیصلے ہیں۔ صرف پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی 80 روپے فی لیٹر تک پہنچا دی گئی، جبکہ دیگر محصولات ملا کر ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 100 روپے سے زیادہ حکومت وصول کر رہی ہے۔ یعنی شہری پٹرول کم اور ٹیکس زیادہ خرید رہا ہے۔

دوسری طرف وفاقی بجٹ 2026-27 کا بنیادی ہدف بھی محصولات میں بڑا اضافہ ہے۔ بجٹ کا حجم تقریباً 17 کھرب روپے رکھا گیا ہے جبکہ ایف بی آر کو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین بھی خبردار کر رہے ہیں کہ اس کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط طبقے اور تنخواہ دار طبقے پر پڑے گا۔

اگر عوام سے اتنے ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں تو سرکاری سکول کیوں ٹوٹے ہوئے ہیں؟ سرکاری ہسپتالوں میں دوائی کیوں نہیں؟ پینے کا صاف پانی کیوں نہیں؟ شہریوں کو انصاف کیوں نہیں؟ اور بازاروں میں ناجائز منافع خور اتنے طاقتور کیوں ہیں؟

ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ پاکستان میں غربت، جو ایک عرصے تک کم ہو رہی تھی، اب دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ کووڈ، مہنگائی، سیلاب اور معاشی بحران نے لاکھوں خاندانوں کو دوبارہ غربت کی طرف دھکیل دیا ہے، جبکہ عالمی ادارہ کہتا ہے کہ صرف ٹیکس بڑھانا کافی نہیں، بلکہ عوام کو بنیادی سہولتیں، روزگار اور سماجی تحفظ دینا بھی ناگزیر ہے۔

لیکن ہماری ترجیح شاید کچھ اور ہے۔پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو فورا ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں۔ پٹرول سستا ہوتا ہے تو کرایے وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔ انتظامیہ کو اضافے کی خبر فوراً مل جاتی ہے، کمی کی خبر شاید کبھی موصول ہی نہیں ہوتی۔

دو روز پہلے مجھے ایبٹ آباد سے اسلام آباد موٹر وے پر سفر کرنا پڑا۔ ٹول پلازہ آیا تو تقریباً پانچ سو روپے ادا کرنے پڑے۔ مجھے 2019 یاد آ گیا، جب اسی روٹ پر تقریباً تیس چالیس روپے ٹول ادا کیا تھا۔ چند برسوں میں یہ اضافہ کئی گنا ہو گیا، لیکن کیا کسی سرکاری رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا کہ اسی عرصے میں ایک سرکاری ملازم، ایک استاد، ایک مزدور یا ایک صحافی کی آمدنی بھی اسی رفتار سے بڑھی؟

کل اسلام آباد کے اتوار بازار جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں کوئی معاشی سروے نہیں ہو رہا تھا، لیکن پورے پاکستان کی معاشی رپورٹ ہر چہرے پر لکھی ہوئی تھی۔ لوگوں کی حالت دیکھ کر دل کٹ گیا . لوگ قیمت پوچھتے، خاموش ہو جاتے، جیب ٹٹولتے اور آگے بڑھ جاتے۔

ٹماٹر 250 روپے فی کلو تھے ۔ کئی سبزیاں اور پھل عام آدمی کی پہنچ سے باہر تھے۔ افغانستان، ایران اور بھارت کے ساتھ تجارت میں رکاوٹوں کے اثرات بھی منڈی میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ معیاری سیب، انگور، تربوز اور دیگر پھل یا تو کم تھے یا اتنے مہنگے کہ متوسط طبقہ بھی خریدنے سے پہلے کئی بار سوچ رہا تھا۔ میں نے دکانداروں سے پوچھا تو وہ کہنے لگے منڈی اتنی مہنگی ہے کہ سامان لانا ہمارے بس میں نہیں رہا .

پٹرول پمپوں پر کم پیمائش کی شکایات برسوں سے موجود ہیں۔ کارروائیوں کے اعلانات بھی ہوتے ہیں، مگر عوام کے اعتماد میں اضافہ نہیں ہوتا۔ اگر نگرانی واقعی مؤثر ہوتی تو ہر دوسرا شہری میٹر پر شک نہ کر رہا ہوتا۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ریاست کی کامیابی کا پیمانہ اب عوام کی خوشحالی نہیں بلکہ ٹیکس وصولی بن چکا ہے۔ گویا اگر خزانہ بھر جائے تو باقی سب کچھ قابلِ معافی ہے۔

کسی بھی مہذب ریاست کی اصل طاقت اس کے خزانے میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہوتی ہے جو شہری اپنے حکمرانوں پر کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ اعتماد مسلسل کمزور ہو رہا ہے، کیونکہ عوام کو محسوس ہوتا ہے کہ ہر بحران کا حل انہی کی جیب سے نکالا جاتا ہے۔

اگر ایک متوسط طبقے کا باپ اپنے بچوں کے لیے پھل نہ خرید سکے، سبزی خریدنے سے پہلے قیمت تین بار پوچھے، موٹر وے پر سفر کرنے سے پہلے ٹول ٹیکس کا حساب لگائے، پٹرول ڈلواتے وقت میٹر پر شک کرے اور ہر بجٹ کے بعد یہ سوچے کہ اب کون سی چیز چھوڑنی ہے، تو پھر ہمیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے۔ معیشت پریس کانفرنسوں سے نہیں، اتوار بازار میں کھڑے عام آدمی کی ٹوکری سے ناپی جاتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے