مولانا کی اسٹیبلشمنٹ کو للکارنا حبس و فرسٹریشن کے شکار نوجوانوں کیلئے تازہ ہوا ہے

عمران خان نے 2012 سے لیکر 2018 تک نواز شریف اور آصف علی زرداری کے خلاف اتنی نفرت پیدا کی یہ نام اور ان کی پارٹی تقریباً گالی بن کر رہ گئی تھی۔

انصافی نوجوان ایسے دوستوں کا مزاق اڑاتے جو ن لیگی اور پیپلی ہوتے۔ PTI کی میڈیا سٹریٹیجی بہت سٹرانگلی ، فاسٹلی ، کنٹینیوزلی اور ایگریسیولی کام کر رہی تھی۔ اس کے پیچھے ایکسپرٹس کا ہاتھ تھا۔ اور خلائی مخلوق کی آشیر باد بھی۔

جبکہ دوسری جانب زرداری و نواز بذات خود اور بڑی حد تک ان کی پارٹیز بھی پولیٹکل رومانس سے تقریباً خالی تھی۔ ایسے میں نئی نسل تھکے ہوئے سیاستدانوں کی جانب ایکٹریٹ نہیں ہو پاتی تھی۔ اِن نوجوانوں کو واحد عمران خان ہی ہیرو نظر آنے لگا ، نوجوانوں نے عمران کا ساتھ دیا اور دو صوبوں سمیت وفاق میں حکمرانی دلا دی۔

عمران خان کو یہاں تک پہنچنے میں کئی عوامل شامل رہے ، محنت بھی ، زبردست پریزنٹیشن بھی ، نیا بیانیہ بھی ، خلائی مخلوق کی آشیر باد بھی اور سب سے بڑھ کر فائیدہ خان کو مخالفین کی آؤٹ ڈیٹڈ پالیسیز کا ہوا۔

پھر عمران خان وزیراعظم بنے۔ نہ ایک کروڑ نوکریاں ملیں ، نہ IMF کے منہ پر ڈالر مارے گئے، نہ 50 لاکھ گھر بنے ، نہ نیا پاکستان بنا۔ عمران خان اپنی سیاسی موت مرنے لگے ہیں تھے کہ خلائی مخلوق نے انہیں گھر اور پھر جیل بھیج کر مظلوم بنا دیا ، یوں وہ پھر ہمدردیاں سمٹنے لگے۔

اب باوجود مظلومیت کارڈ کے ، انصافینز موجودہ PTI سے مایوس ہیں ، لاکھوں کروڑوں نوجوانوں کی دل کی دھڑکنیں بھڑکانے والا کوئی نہیں ، موجودہ PTI کی مسلسل ناکام ، خراب اور کسی حد تک بدنیت پالیسیز نے کارکنوں کو بیزار کر دیا۔ خان اندر ہے ، کارکن بیزار و مایوس ، تھکا ہارا بیٹھا سوشل میڈیا پر سکرولنگ کر رہا ہے۔

اسی ساون کی حبس زدہ ماحول میں مولانا فضل الرحمان کا اسٹیبلشمنٹ کا للکارنے والا خطاب اِن تھکے ہارے بیزار و مایوس نوجوانوں کیلئے تازہ ہوا کے جھونکے کا کام کر رہی ہے۔ بزرگ کہتے ہیں کہ "دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے”۔ لاڈ پیار پر عادی کرنے کے بعد Big Brothers نے جب انہیں راندہ درگاہ کیا تو یہ سیاسی نابالغ مسائل سے اس قدر دوچار ہوئے کہ سیدھا اُس مولانا کے گھر پہنچے ، جس کا کبھی وہ مزاق اڑایا کرتے تھے۔

اب مولانا تو سیاسی بزرگ ہیں ، وہ تو بلاول کی مما کے بھی انکل تھے۔ انہوں نے مارشل لاء بھی دیکھے ، حکومتیں بھی ، اپوزیشن بھی ، وہ سیاسی اتاڑ چڑھاؤ کے وقف ہیں۔ مولانا نے اِن سیاسی نابالغوں کو ایسے پیار و محبت سے ڈیل کیا کہ اِن دکھ درد کے ماروں کو جب دستِ شفقت ملا تو یہ ہفتے یا مہینے بعد مولانا کی دلدادہ مسکراتا چہرہ دیکھنے پہنچ جاتے اور تسلی کی دو بول سن کر اپنے لئے راستے نکالنے کی کوشش تھے ، جبکہ PTI کی جانب سے مولانا کو "بیسٹ فرینڈ” بننے کی آفرز بھی آتی رہی۔ یوں انصافی کارکنان کی توجہ مولانا کی طرف چلی گئی ، کارکن اظہار نہ بھی کریں مگر دل ہی دل میں سمجھ گئے کہ بابا جی نے اصلی گھی کھایا ہے ، یہ بڑے مضبوط شخص ہیں ، جو باتیں ہم فیک اکاؤنٹ سے ٹویٹ بھی نہیں کر سکتے ، وہ باتیں یہ بابا جی جلسے میں مکا لہرا کر کرتے ہیں۔

حبس زدہ ماحول میں فرسٹریشن کے مارے کارکنان "دشمن کے دشمن ، دوست ہوتا ہے” کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب عمران خان غیر معینہ مدت تک قید میں رہیں گے ، باہر کی PTI ایک دوسرے سے مزید لڑ جھگڑ کے اپنا باقی بچا کچا چٹھا بھی کھول دے گی۔ پھر یہ لاکھوں کروڑوں نوجوان کس کی طرف دیکھیں گے ؟؟؟

نواز شریف یا آصف زرداری کی طرف ؟ نہیں جی ، وہ تو بارویں کھلاڑی بن بیٹھے ہیں۔ مریم و بلاول کی دیکھیں گے ؟ نا بھائی نا ، وہ تو تعبیدار بچے بن رہے ہیں۔ ایسے میں شہرت کی بلندیوں پر اور نوجوانوں کی دلوں پر پیرانہ سالی میں مولانا ہی راج کریں گے۔ عمران خان نے زرداری و نواز کی مخالفت سے مقبولیت پائی تھی ، مولانا اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت سے پا لیں گے۔

اسٹیبلشمنٹ زیادہ سے زیادہ مولانا کچھ سیٹیں ہی کھا لے گی ، مگر اگر حالات اسی پس منظر کے مطابق رہے تو مولانا پھر بھی اپنی نشستیں بڑھا دیں گے۔ ویسے مولانا کو بہت زیادہ نشستوں کی ضرورت تو نہیں ، بس اتنی ضروری ہونی چاہیے کہ جب وہ اسمبلی سے ناراض ہوکر چلے جائیں تو حکمرانوں کی گاڑیاں مولانا کے بنگلے کی جانب روانہ ہو جائیں۔ مدرسہ کلٹ کے ساتھ انصافی کلٹ بھی مل گیا تو مولانا کی عوامی مقبولیت ایک زبردست طاقت بن جائے گی۔

مولانا چونکہ زیرک سیاستدان ہیں ، مولانا طاقت کے نشے میں وہ غلطیاں نہیں کریں گے جو عمران خان نے کی تھی ، یوں مولانا ایسے حالات میں حکومت سے ریاست کیلئے بھی کام لیں گے اور اپنی جماعت کیلئے بھی تکیہ بستر سیدھا کر لیں گے۔

اب یہ تمام منظر اسٹیبلشمنٹ کیلئے قابل قبول تو نہیں ہوگا ، وہ مولانا کی راہ میں رکاوٹ تو بنیں گے ، مگر دیکھیں کہ صورتحال کیا بنتی ہے۔ میری ساری نظریں PTI کی موجودہ کچڑی اور عمران خان کی قید پر ہے۔ یہ دونوں ایسی طرح چلتے رہے تو آنے والے وقت میں اس کا پھل مولانا کی جھولی میں ہی گرے گا۔

پہ ٹی آئی کے مایوس کارکنان مولانا کے پاس نہیں جائیں گے تو کہاں جائیں گے ؟؟؟

آپ کا کیا خیال ہے ؟؟؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے