کیا پاکستان کے حالات ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے؟ کیا کبھی اس ملک میں حقیقی تبدیلی آئے گی؟ کیا عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے احتجاج کرتے کرتے اسی طرح جانیں قربان کرتے رہیں گے؟ کیا ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کی تلاش میں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوتے رہیں گے؟ کیا والدین اپنے بچوں کو بہتر مستقبل کی خاطر پردیس رخصت کرتے ہوئے اسی طرح آنسو بہاتے رہیں گے؟ کیا ہمارے کاشتکار اپنی محنت کا صلہ نہ ملنے کے باعث اپنی اجناس اونے پونے داموں فروخت کرنے پر مجبور رہیں گے؟ کیا عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد کبھی بحال ہو سکے گا؟ کیا سیاسی جماعتیں عوامی مسائل سے اسی طرح بے نیاز رہیں گی؟ کیا کشمیری عوام کے مطالبات واقعی غداری کے زمرے میں آتے ہیں؟ اور کیا ریاستی معاملات میں طاقت کا توازن ہمیشہ اسی طرح برقرار رہے گا؟
یہ وہ سوالات ہیں جو شاید ہر اس شخص کے ذہن میں گردش کرتے ہیں جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے، جسے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ اپنے وطن اور آنے والی نسلوں کی بھی فکر ہوتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اکثر یہ سوالات ذہنوں میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو ایسا موقع ملتا ہے کہ وہ کسی صاحبِ علم سے ان پر سنجیدہ گفتگو کر سکیں۔ اکثر ایسی بحثیں جذبات، الزام تراشی، تلخ کلامی یا ہنسی مذاق کی نذر ہو جاتی ہیں۔
چند روز قبل مجھے اپنے محترم استاد، جناب پروفیسر طاہر ملک صاحب، سے انہی موضوعات پر تفصیلی گفتگو کا موقع ملا۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بات کو بلا تکلف، حقیقت پسندی اور دلیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ ان کی رہنمائی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔
سلام و دعا کے بعد میں نے پہلا سوال کیا:
"سر! کیا یہ سب کچھ ایسے ہی چلتا رہے گا؟ کیا پاکستان کے حالات بدلنے کی کوئی امید نہیں؟”
وہ مسکرائے اور بولے:
"فی الحال تو حالات میں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ لوگ پریشان ضرور ہیں، لیکن ان کے پاس نہ کوئی واضح قیادت ہے اور نہ ہی ایسا راستہ جس پر چل کر وہ مؤثر تبدیلی لا سکیں۔”
میں نے پوچھا:
"کیا عوام کبھی اشرافیہ کے خلاف منظم انداز میں نہیں اٹھیں گے؟”
انہوں نے جواب دیا:
"اس کے امکانات بہت کم ہیں۔”
میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے:
"لوگ شدید معاشی مشکلات کے باوجود کسی نہ کسی طرح اپنی بنیادی ضروریات پوری کر لیتے ہیں۔ جب تک انسان کا پیٹ بھرنے کا کوئی نہ کوئی ذریعہ موجود رہتا ہے، وہ بڑی اجتماعی جدوجہد کے لیے کم ہی نکلتا ہے۔ دوسری طرف مذہب کو بھی بعض حلقے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں، جس سے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹ جاتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا:
"اگر مذہبی قیادت صرف عبادات ہی نہیں بلکہ دیانت داری، مزدور کے حقوق، حلال روزی، ٹیکس کی ادائیگی، امانت داری اور انصاف جیسے عملی اسلامی اصولوں پر بھی اسی شدت سے زور دے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ اگر کوئی سرمایہ دار لاکھوں روپے چندہ دے مگر اپنے ملازمین کو ان کا جائز حق نہ دے، تو اس سے بھی سوال ہونا چاہیے۔ دین صرف چندہ لینے کا نام نہیں بلکہ عدل اور انصاف قائم کرنے کا بھی درس دیتا ہے۔”
گفتگو کا رخ نوجوانوں کی بیرونِ ملک ہجرت کی طرف ہوا۔ میں نے پوچھا:
"کیا ہمارے نوجوان اسی طرح ملک چھوڑتے رہیں گے؟”
انہوں نے کہا:
"جب تک ملک میں باعزت روزگار، بہتر مواقع اور میرٹ پر مبنی نظام قائم نہیں ہوگا، نوجوان باہر جانے کو ہی بہتر راستہ سمجھیں گے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی رقوم معیشت کے لیے اہم ہیں، لیکن کسی بھی ملک کی اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنی صنعت، زراعت، برآمدات اور انسانی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کرے، نہ کہ اپنے نوجوانوں کو پردیس بھیجنے پر انحصار کرے۔”
پھر بات زراعت پر ہوئی۔ انہوں نے کہا:
"کسان مہینوں محنت کرتا ہے، مگر اکثر اپنی فصل لاگت سے بھی کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ جب کسان خوشحال نہیں ہوگا تو ملک بھی معاشی طور پر مضبوط نہیں ہو سکتا۔”
عدالتی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
"کسی بھی ریاست کی طاقت انصاف سے ہوتی ہے۔ جب عوام کا اعتماد عدلیہ پر کمزور ہو جائے تو ریاست کے بنیادی ستون متاثر ہوتے ہیں۔”
سیاسی جماعتوں کے بارے میں ان کی رائے تھی:
"جو جماعتیں اپنے اندر جمہوری روایات کو مضبوط نہیں کر سکتیں، وہ ملک میں مضبوط جمہوریت کیسے قائم کریں گی؟”
آخر میں میں نے کشمیر کے حوالے سے سوال کیا کہ کیا ہر اختلافی آواز کو غداری قرار دینا درست ہے؟
انہوں نے جواب دیا:
"اختلافِ رائے کو سننا، اس پر مکالمہ کرنا اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کرنا ہی ایک مضبوط ریاست کی پہچان ہے۔ جب شکایات کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔”
گفتگو ختم ہوئی، مگر میرے ذہن میں ایک سوال آج بھی باقی ہے۔
آخر ہم کب تک یہی سوال پوچھتے رہیں گے؟ کب تک ہر مسئلے کا الزام دوسروں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھتے رہیں گے؟ کب تک نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر اپنے وطن کے بجائے پردیس میں تلاش کرتے رہیں گے؟ کب تک کسان اپنی محنت کا مناسب معاوضہ نہ ملنے پر پریشان رہے گا؟ اور کب تک عام آدمی انصاف، روزگار اور بہتر مستقبل کی امید لیے انتظار کرتا رہے گا؟
شاید تبدیلی کسی ایک فرد، ایک جماعت یا ایک ادارے سے نہیں آئے گی، بلکہ اس دن آئے گی جب ہم سب اپنی اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کریں گے، اختلاف کو دشمنی کے بجائے مکالمے میں بدلیں گے، قانون کو سب کے لیے برابر مانیں گے اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں گے۔
سوال آج بھی وہی ہے…
کیا واقعی سب کچھ ایسے ہی چلے گا، یا پھر ہم مل کر اس کہانی کا رخ بدلنے کا حوصلہ پیدا کریں گے؟