پاکستانی زبانوں کے آج اور کل

دنیا کی مادری زبانیں ماؤں کی عطا ہوتی ہیں۔ مائیں محبت کی علامت ہیں، اسی لیے مادری زبانیں بھی انسان کو محبت، رواداری اور اپنائیت کا درس دیتی ہیں۔ مادری زبانیں لینے سے زیادہ دینے والی ہوتی ہیں۔ دنیا کی ہر زبان کا تخلیقی ادب اس زبان کے بولنے والوں کے جذبات، احساسات، نفسیات اور ثقافتی شناخت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ مختلف اقوام کے شاعر، ادیب اور دانشور انسانی تہذیب کے تاریخی تسلسل کی اہم کڑیاں ہوتے ہیں۔

پاکستان ایک کثیرالقومی اور کثیراللسانی ملک ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں 76 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان زبانوں کے تخلیقی ادب کو ترجمے کے ذریعے ملک کی دوسری قومیتوں تک پہنچانا کس کی ذمہ داری ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ ذمہ داری ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ غیر ریاستی علمی و ادبی اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد "ایک” کے تصور نے طویل عرصے تک پاکستانی زبانوں کو پس منظر میں رکھا۔ کسی نے اس حقیقت پر غور نہ کیا کہ ایک کے ساتھ جتنے زیادہ صفر لگتے ہیں، اس کی قوت اتنی ہی بڑھتی ہے۔ 1960ء کی دہائی میں مختلف قومیتوں نے اپنی شناخت کا مسئلہ اٹھایا، جو آگے چل کر ایک بڑے سیاسی بحران میں تبدیل ہوا اور بالآخر مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بن گیا۔

فیض احمد فیض کہا کرتے تھے کہ "پاکستان مختلف پھولوں کا ایک گلدستہ ہے۔” پاکستان میں بولی جانے والی زبانیں اور مختلف ثقافتیں اسی گلدستے کے رنگ برنگے پھول ہیں، جو اپنی الگ الگ خوشبوؤں سے اس وطن کی فضاؤں کو معطر اور خوب صورت بناتے ہیں۔ یہ گلدستہ جتنا شاداب ہوگا، ملک بھی اتنا ہی مضبوط، حسین اور خوش حال ہوگا۔

فیض احمد فیض نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ پاکستانی زبانوں کے ادب کے تراجم کی ذمہ داری بنیادی طور پر اردو کے اہلِ قلم اور دانشوروں پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ ان تراجم سے اردو زبان بھی مضبوط اور مالا مال ہوتی ہے۔ اگر یہ کام قیامِ پاکستان کے فوراً بعد شروع کر دیا جاتا تو اردو زبان کو پاکستانی زبانوں سے نئے الفاظ، اصطلاحات اور اسالیب ملتے، اور ساتھ ہی مختلف قومیتوں کے جذبات، احساسات اور نفسیات کو سمجھنے کا بہتر موقع بھی میسر آتا۔ یوں پاکستان کی تمام زبانوں اور ثقافتوں کے پھولوں سے حقیقی قومی گلدستہ تشکیل پاتا، جو قومی یکجہتی اور قومی سالمیت کی مضبوط بنیاد بنتا۔

فیض احمد فیض مزید لکھتے ہیں کہ جب انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تو اس وقت پشتو زبان و ادب کے بارے میں معلومات بہت محدود تھیں۔ چنانچہ فارغ بخاری اور رضا ہمدانی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ پشتو زبان و ادب کا جائزہ لے کر اس کا منظرنامہ مرتب کریں۔ انہوں نے کچھ کام کیا، مگر وہ اطمینان بخش نہ تھا۔ بعد ازاں یہی ذمہ داری اجمل خٹک کے سپرد کی گئی۔ انہوں نے "پشتو ادب کے پچیس سال” کے عنوان سے ایک جامع مقالہ تحریر کیا، جس نے سب کو مطمئن کر دیا۔ یہ مقالہ اس زمانے میں ماہنامہ ساقی، کراچی میں شائع ہوا تھا، جسے بعد میں ڈاکٹر عبداللہ جان عابد نے کتابی صورت میں شائع کیا۔

اکادمی ادبیات پاکستان، پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس اور صوبائی ثقافتی ڈائریکٹوریٹس کے قیام کا تصور بھی فیض احمد فیض ہی نے پیش کیا تھا، جسے بعد ازاں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں عملی شکل دی گئی۔

1996ء تک پاکستان کی زبانوں کو عموماً "علاقائی زبانیں” کہا جاتا تھا، جبکہ دوسری طرف "مقتدرہ قومی زبان” کی اصطلاح رائج تھی۔ اسی سال اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام ادیبوں اور دانشوروں کی ایک کانفرنس میں قرارداد منظور کی گئی کہ ان زبانوں کو "علاقائی زبانوں” کے بجائے "پاکستانی زبانیں” کہا جائے۔ اس وقت اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین معروف ادیب فخر زمان اور ڈائریکٹر جنرل معروف شاعر افتخار عارف تھے۔ فخر زمان اکادمی میں آنے سے پہلے بھی برسوں لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس کا انعقاد کرتے رہے، جس میں پاکستانی زبانوں کے شعرا، ادبا اور فنکاروں کو بھی مدعو کیا جاتا تھا۔

ان ادبی و ثقافتی اداروں کے قیام کے بعد پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور دیگر علمی و ثقافتی اداروں نے پاکستانی زبانوں کے ادب اور ثقافت کے فروغ کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ آج کی صورتِ حال ماضی کے مقابلے میں یقیناً بہتر ہے، لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ ان اداروں کی مالی معاونت میں اضافہ کرے تاکہ وہ مزید مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔ میری رائے میں اکادمی ادبیات پاکستان کے سہ ماہی جریدہ "ادبیات” میں پاکستانی زبانوں کے ادب کے تراجم کے لیے مختص صفحات ناکافی ہیں۔ ان میں اضافہ کیا جانا چاہیے، یا پھر "پاکستانی زبانوں کا ادبی مجلہ” کے نام سے ایک مستقل جریدہ جاری کیا جائے۔

اسی طرح اکادمی ادبیات پاکستان، ادارہ فروغِ قومی زبان اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کو پاکستانی زبانوں کے ادب کے تراجم کا باقاعدہ قومی منصوبہ سونپا جائے، کیونکہ اردو میں پاکستانی زبانوں کے معیاری تراجم کی کمی آج بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے