کیا صرف ‘سید زادی’ ہونا بیٹی کی خوشیوں کی سزا ہے؟

ہمارے معاشرے میں کچھ روایات ایسی بھی ہیں جو وقت کے ساتھ بہتر ہونے کی بجائے مزید بوجھل ہوتی جا رہی ہیں۔ کچھ روایات جو ظاہری طور پر تو عزت و وقار کی نشانی لگتی ہیں، مگر درحقیقت وہ زندہ دلوں کی قبریں بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک روایت ہے "شجرہ نسب” کے نام پر بیٹیوں کے خوابوں کا گلا گھونٹ دینا، خاص طور پر ان بیٹیوں کے ساتھ جو "سید زادیاں” کہلاتی ہیں۔

روایات کی اس فہرست میں ایک روایت ہے "انتظار” کی۔ خاص طور پر ان بیٹیوں کے لیے جو صرف اس لیے رشتوں کی چوکھٹ تک نہیں پہنچ پاتیں کیونکہ ان کا شجرہ کسی "سید زادی” کے لقب سے منسوب ہے.

یہ بیٹیاں، جن کی عمر دھیرے دھیرے وقت کی دہلیز پر ڈھلتی چلی جاتی ہے، صرف اس لیے کہ ان کے لیے رشتہ تلاش کرتے وقت سب سے پہلے سوال کیا جاتا ہے: "لڑکا بھی سید ہے نا؟”

ہم نے ایک ایسا نظام قائم کر لیا ہے جہاں "سید ہونا” نہ صرف فضیلت کی علامت بن چکا ہے، بلکہ کئی خاندانوں میں یہ ایک قید بھی بن چکا ہے۔ جہاں بیٹی کا رشتہ صرف اس بنیاد پر ٹھکرا دیا جاتا ہے کہ سامنے والے کا نسب موزوں نہیں۔

کیا آپ نے کبھی اپنے ہی گھر میں موجود بیٹیوں کے چہرے پڑھنے کی کوشش کی ہے؟؟ جن کے لب تو خاموش ہوتے ہیں، مگر آنکھوں میں گہرا کرب دکھائی دیتا ہے۔ وہ دکھ چھپاتی ہیں، مگر مسکراہٹیں اوڑھ لیتی ہیں، وہ معاشرے کے خلاف کوئی بغاوت نہیں کرتی ، کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ ان کے کسی بھی عمل سے خاندان کی عزت پر حرف آئے گا۔

یہ وہی نام نہاد "عزت” ہے جس کے بوجھ تلے ان کا اپنا وجود کچلا جا رہا ہوتا ہے۔ ان کی امیدیں، ان کے خواب، ان کی خواہشات سب آہستہ آہستہ مر جاتی ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان کا کردار، نیت، تربیت اور انسانیت ان چیزوں سے کم اہم ہو گئی ہیں؟

کیا ہماری بیٹیوں کے نصیبوں کا تعین بھی ان کے نسب سے زیادہ اہم ہے؟ کیا ان کے دل کی خواہشات، زندگی گزارنے کی آرزو، اور محبت کی طلب محض اس ایک لقب کی بھینٹ چڑھنی چاہیے؟ کیا رشتہ، محبت اور ہمسفری کے لیے صرف حسب نسب کافی ہے؟ کیا انسان کی خوبی، کردار، نیت اور عمل کو ہم نے فراموش کر دیا ہے؟

اگر سید زادی ہونا ایک شرف ہے تو کیا یہ شرف اس کی خوشیوں پر حاوی ہو جانا چاہیئے؟ کیا ہم نے یہ طے کر لیا ہے کہ بیٹی کو صرف اس لیے قربانی دینی ہے کہ وہ ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتی ہے؟

ہمیں ان روایات پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ وہ بیٹیاں جو ہمارے گھروں میں بیٹھی ہیں، جن کے لبوں پر مسکراہٹ ہے مگر دل میں سناٹا، جو ہر بار کسی رشتے کے انکار پر خاموشی سے خود کو تسلی دیتی ہیں، یہ بیٹیاں ہیں جو کسی بھی اور بیٹی کی طرح خوشیوں، رفاقت، اور ایک مکمل زندگی کا خواب دیکھتی ہیں، لیکن انتظار کی چادر اوڑھے اکثر اپنی عمر گنوا دیتی ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک سوال ہے، ایک خاموشی جو چیخ بن کر دل چیر دیتی ہے۔ کیا وہ خاموش چیخیں آپ کو سنائی نہیں دیتی ؟

آج کے دور میں، جہاں تعلیم، شعور، اور برابری کی باتیں ہو رہی ہیں، تب بھی اگر ہم اپنی بیٹیوں کو ایسی پابندیوں میں قید رکھیں تو ہم ترقی نہیں کر رہے، صرف دکھاوا کر رہے ہیں۔ اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے یا تو ہم نسلوں سے چلی آتی ان فرسودہ سوچوں کو جوں کا توں قبول کرتے رہیں، یا پھر حوصلہ کریں اور ان زنجیروں کو توڑیں جو صرف صنفی امتیاز اور شجرہ نسب کی بنیاد پر زندگیوں کو محدود کر رہی ہیں۔

بیٹی کو صرف خاندان کی عزت نہیں، انسان سمجھیں ۔ اس کی خواہشات، خواب اور جذبات ہیں۔ اسے جینے کا، محبت کا، اور انتخاب کا حق دینا ہمارا دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے۔

بیٹی اگر عزت کا سبب ہے، تو اسے جینے کا بھی اختیار ہونا چاہیے۔ بیٹیوں کو صرف شجرہ نسب نہیں، انسانیت کی بنیاد پر قبول کرنا سیکھیں۔ قبل اس کے کہ اور بیٹیاں خاموشی کی چادر اوڑھے وقت کے قبرستان میں دفن ہو جائیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے