وجود کا بوجھ

انسان نے جب پہلی بار آسمان کی طرف دیکھا ہوگا تو شاید اس کے ذہن میں یہی سوال ابھرا ہوگا: "کیا کوئی مجھے سن رہا ہے؟” ہزاروں سال گزر گئے، تہذیبیں وجود میں آئیں، سائنس نے ستاروں تک رسائی حاصل کر لی، مگر اس سوال کا جواب آج بھی خاموشی ہے۔

یہ خاموشی صرف آواز کی غیر موجودگی نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کو اپنے وجود کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہم چیختے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، فلسفہ تخلیق کرتے ہیں، ادب لکھتے ہیں، مگر کائنات نہ ہماری خوشیوں پر مسکراتی ہے اور نہ ہمارے دکھوں پر اشک بہاتی ہے۔ وہ اپنی وسعت میں ویسے ہی خاموش رہتی ہے جیسے اربوں سال پہلے تھی۔

شاید یہی خاموشی انسان کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔

وجود محض سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ اپنے ہونے کے شعور کا بوجھ اٹھانے کا نام ہے۔ انسان اس کائنات کی واحد مخلوق ہے جو صرف زندہ نہیں، بلکہ یہ بھی جانتی ہے کہ وہ زندہ ہے، اور یہی آگاہی اسے باقی تمام مخلوقات سے ممتاز بھی کرتی ہے اور بے چین بھی۔ وہ جانتا ہے کہ ایک دن اسے مر جانا ہے، اس کی محبتیں فنا ہو جائیں گی، اس کی یادیں دھندلا جائیں گی، اور اس کا نام بھی وقت کی گرد میں کہیں کھو جائے گا۔ اس کے باوجود وہ محبت کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے، تعمیر کرتا ہے اور معنی کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ شاید وجود کی اصل اذیت بھی یہی ہے کہ انسان اپنے انجام سے واقف ہونے کے باوجود جینے پر مجبور ہے۔

Franz Kafka نے انسان کو ہمیشہ ایک ایسی دنیا میں دکھایا جہاں قوانین تو موجود ہیں مگر ان کی منطق انسان کی سمجھ سے باہر ہے۔ ان کے ناول The Trial میں مرکزی کردار ایک ایسے مقدمے میں گرفتار ہوتا ہے جس کا جرم اسے کبھی معلوم نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک افسانوی واقعہ نہیں بلکہ انسانی وجود کی علامت ہے۔ ہم بھی اس دنیا میں آنکھ کھولتے ہیں، زندگی کی آزمائشوں سے گزرتے ہیں، کامیابیاں اور ناکامیاں سمیٹتے ہیں، مگر اکثر یہ نہیں جان پاتے کہ آخر اس تمام سفر کا مقصد کیا ہے۔ گویا زندگی ایک ایسی عدالت ہے جہاں سوال تو بے شمار ہیں، مگر جواب ہمیشہ خاموشی کے پردے میں چھپے رہتے ہیں۔

اسی خاموشی کے درمیان Friedrich Nietzsche انسان کو ایک مختلف راستہ دکھاتے ہیں۔ ان کا مشہور تصور "خدا مر چکا ہے” اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جدید انسان اب پہلے سے طے شدہ معنی اور اقدار پر انحصار نہیں کر سکتا۔ اگر کائنات ہمیں کوئی مقصد عطا نہیں کرتی، تو مقصد تخلیق کرنا ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ یہی آزادی انسان کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے اور سب سے بھاری بوجھ بھی۔ جب جواب کہیں موجود نہ ہوں، تب ہر فیصلہ، ہر قدر اور ہر معنی انسان کو خود وضع کرنا پڑتا ہے۔

شاید وجود کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ کائنات خاموش ہے، بلکہ یہ ہے کہ انسان اس خاموشی کو برداشت نہیں کر پاتا۔ وہ ہر تارے میں ایک اشارہ، ہر حادثے میں ایک مقصد اور ہر دعا میں ایک جواب تلاش کرتا ہے، مگر کائنات اپنی ازلی بے نیازی کے ساتھ چلتی رہتی ہے۔ اس کے باوجود انسان سوال پوچھنا نہیں چھوڑتا۔ شاید یہی اس کی شکست بھی ہے اور یہی اس کی عظمت بھی۔ وجود کا بوجھ اسی خاموش کائنات میں معنی کی تلاش کا نام ہے؛ ایک ایسا سفر جس کی منزل شاید کبھی نہ ملے، مگر جس کی جستجو ہی انسان کو انسان بناتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے